بھارت نے جنوبی افریقہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک حالیہ بحری مشق سے خود کو واضح طور پر الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سرگرمی کا BRICS کے ساتھ کوئی باضابطہ یا ادارہ جاتی تعلق نہیں تھا، اور بھارت نے اس میں شرکت نہیں کی۔
وزارتِ خارجۂ بھارت (MEA) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مشق مکمل طور پر جنوبی افریقہ کا انفرادی اقدام تھی، جس میں BRICS کے چند رکن ممالک نے حصہ لیا، تاہم نہ تو تمام BRICS ممالک شریک تھے اور نہ ہی بھارت نے کبھی ایسی مشقوں میں حصہ لیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق:
“زیرِ بحث بحری مشق جنوبی افریقہ کا اپنا اقدام تھی، یہ کوئی باقاعدہ یا ادارہ جاتی BRICS سرگرمی نہیں تھی، اور نہ ہی تمام رکن ممالک اس میں شریک تھے۔”
پس منظر: BRICS کی توسیع اور عسکری حساسیت
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب BRICS تیزی سے توسیع کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ و افریقہ کے نئے ارکان کی شمولیت کے بعد اس پلیٹ فارم کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ BRICS کوئی فوجی اتحاد نہیں اور نہ ہی اسے دفاعی بلاک کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اسٹریٹجک خودمختاری پر ہے، جس کے تحت بھارت کسی ایسے فوجی فریم ورک سے گریز کرتا ہے جو اسے جیوپولیٹیکل بلاکس میں محدود کر دے۔
جنوبی افریقہ کی قیادت میں ہونے والی اس بحری مشق نے بعض حلقوں میں BRICS کو ایک ممکنہ عسکری اتحاد کے طور پر دیکھنے کا تاثر پیدا کیا، جسے بھارت نے اب کھلے الفاظ میں رد کر دیا ہے۔
بھارت کا ترجیحی فریم ورک: IBSAMAR
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت جس واحد بحری مشق میں اس تناظر میں باقاعدگی سے شریک ہوتا ہے وہ IBSAMAR ہے، جو بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک سہ فریقی بحری مشق ہے۔
بیان کے مطابق:
“اس تناظر میں بھارت جس باقاعدہ بحری مشق کا حصہ ہے وہ IBSAMAR ہے، جس کا آخری ایڈیشن اکتوبر 2024 میں منعقد ہوا تھا۔”
IBSAMAR کو ایک منظم، دیرینہ اور تکنیکی تعاون پر مبنی مشق قرار دیا جاتا ہے، جس کا مقصد سمندری سلامتی، باہمی ہم آہنگی اور گلوبل ساؤتھ میں اعتماد سازی ہے۔
اسٹریٹجک پیغام کیا ہے؟
بھارت کا یہ بیان کئی اہم اسٹریٹجک اشارے دیتا ہے:
- BRICS کی عسکری تشکیل سے گریز: بھارت واضح کر رہا ہے کہ BRICS کو دفاعی اتحاد نہ بنایا جائے۔
- عالمی شراکت داروں کو یقین دہانی: امریکا، جاپان اور آسیان ممالک کو یہ پیغام کہ بھارت کسی خفیہ فوجی صف بندی کا حصہ نہیں۔
- BRICS کے اندر توازن: انفرادی ممالک کے یکطرفہ اقدامات کو ادارہ جاتی حیثیت دینے کی کوششوں کی مزاحمت۔
نتیجہ
بھارت کی وضاحت BRICS کے اندر بڑھتی ہوئی سمتوں کے فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ جہاں بعض ممالک دفاعی تعاون کے امکانات کو آزما رہے ہیں، وہیں بھارت ایک واضح حد کھینچتے ہوئے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس کی فوجی شمولیت محدود، شفاف اور BRICS سے باہر رہے گی۔




