United Kingdom روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کے خلاف اپنے اقدامات کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک نیا دفاعی کمانڈ سینٹر قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اُن بحری جہازوں کی مسلسل نگرانی، دستاویزی ریکارڈنگ اور ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی ہے جو روسی تیل کی ترسیل کے ذریعے مغربی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ مرکز بحری انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، مشتبہ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔ منصوبے کے تحت بغیر پائلٹ بحری پلیٹ فارمز کو نارتھ سی اور انگلش چینل میں تعینات کیا جائے گا، جو طویل فاصلے تک نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان پلیٹ فارمز کا بنیادی ہدف ایسے ٹینکرز کی شناخت ہوگا جو جعلی جھنڈوں، بدلے ہوئے ناموں یا پیچیدہ ملکیتی ڈھانچوں کے ذریعے اپنی اصل سرگرمیاں چھپاتے ہیں۔ دفاعی حکام کا مؤقف ہے کہ مسلسل نگرانی براہِ راست تصادم کے بجائے قانونی اور سفارتی راستوں سے مؤثر نفاذ کو ممکن بناتی ہے۔
برطانوی وزارتِ دفاع اس امر کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ضبط کیے گئے ٹینکروں کے تیل کی فروخت کے ذریعے طویل حراست اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یہ تجویز یورپ میں روسی بحری سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، خصوصاً بالٹک اور شمالی یورپی سمندری راستوں میں۔




