بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

برطانیہ کی رائل نیوی نے پہلا خودکار اینٹی سب میرین ہیلی کاپٹر اُڑا دیا

برطانیہ کی رائل نیوی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا پہلا مکمل سائز کا خودکار (Autonomous) ہیلی کاپٹر کامیابی کے ساتھ اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کر چکا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر، جسے پروٹیئس (Proteus) کا نام دیا گیا ہے، خاص طور پر آبدوزوں کی نگرانی، سمندری گشت اور دیگر خطرناک مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

رائل نیوی کے مطابق، پروٹیئس نے ایک مختصر مگر کامیاب ٹیسٹ فلائٹ مکمل کی، جو برطانوی اور نیٹو بحری صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نارتھ اٹلانٹک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

آبدوزوں کے خلاف نئی صلاحیت

پروٹیئس کو بنیادی طور پر اینٹی سب میرین وارفیئر، سمندری نگرانی اور زیرِ آب جہازوں کی ٹریکنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ وہ مشنز ہیں جو نارتھ اٹلانٹک میں روسی آبدوزوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے تناظر میں نیٹو کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

یہ خطہ، خاص طور پر گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع سمندری راستے، طویل عرصے سے آبدوزوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتے ہیں۔

بغیر پائلٹ، زیادہ محفوظ

پروٹیئس کو برطانوی اور اطالوی دفاعی کمپنی لیونارڈو نے تیار کیا ہے۔ یہ جدید سینسرز، کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر پر انحصار کرتا ہے، جو اسے اپنے ماحول کا تجزیہ کرنے اور خود فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اطالوی بحری جہازITS alpino کراچی کی بندرگاہ پہنچ گیا

لیونارڈو ہیلی کاپٹرز کے برطانیہ میں سربراہ نائجل کولمین کے مطابق، یہ ہیلی کاپٹر ایسے مشنز انجام دینے کے قابل ہے جو "بورنگ، گندے اور خطرناک” ہوتے ہیں، اور اس طرح انسانی عملے کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

یورپی دفاعی پالیسی میں تبدیلی

فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد یورپ کی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کئی ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھا دیے ہیں اور بغیر پائلٹ نظاموں میں سرمایہ کاری تیز کر دی ہے۔

اسی تناظر میں پروٹیئس جیسے خودکار پلیٹ فارمز کو مستقبل کی بحری جنگ کا اہم جزو سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر زیرِ آب تنصیبات اور سمندری انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے۔

موجودہ ڈرونز سے زیادہ جدید

رائل نیوی پہلے ہی چند چھوٹے بغیر پائلٹ ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز استعمال کر رہی ہے، مگر پروٹیئس ان کے مقابلے میں زیادہ بڑا، جدید اور طویل دورانیے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کا سائز اور ٹیکنالوجی اسے ایسے سینسرز اٹھانے کے قابل بناتی ہے جو طویل فاصلے تک زیرِ آب سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

اسٹریٹجک اہمیت

اگرچہ روس نے گرین لینڈ اور نارتھ اٹلانٹک سے متعلق مغربی خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے، تاہم نیٹو ممالک مسلسل اپنی میرین ڈومین آگاہی بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  روس کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے آرکٹک میں فوجی تصادم کے خطرات بڑھ گئے، ڈنمارک کا انتباہ

پروٹیئس کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں بحری سکیورٹی کا دارومدار بڑھتے ہوئے خودکار اور بغیر پائلٹ نظاموں پر ہوگا۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین