نیویارک / دبئی — عالمی پالیسی تھنک ٹینک Council on Foreign Relations (CFR) نے اپنی تازہ رپورٹ Conflicts to Watch: 2026 جاری کر دی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ برس دنیا کو درپیش سلامتی کے خطرات مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی نظام میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور متعدد خطوں میں تصادم کے امکانات بیک وقت موجود ہیں۔
یہ رپورٹ سی ایف آر کے سینٹر فار پریوینٹو ایکشن نے تیار کی ہے، جس کے لیے امریکہ اور دیگر ممالک کے تقریباً 600 سے زائد سفارت کاروں، دفاعی ماہرین، پالیسی سازوں اور ماہرینِ تعلیم سے رائے لی گئی۔ ماہرین نے ممکنہ تنازعات کو ان کی شدت (Impact) اور امکان (Likelihood) کے اعتبار سے درجہ بندی کی۔

2026 کے سب سے بڑے خطرات
رپورٹ کے مطابق چند تنازعات ایسے ہیں جو نہ صرف انتہائی سنگین بلکہ انتہائی ممکنہ بھی سمجھے جا رہے ہیں:
- روس اور یوکرین کی جنگ میں مزید شدت، خاص طور پر شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ
- غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی اور اس کے اثرات کا پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلنا
- مغربی کنارے (West Bank) میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اسرائیل۔فلسطین کشیدگی
- وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی یا سکیورٹی مداخلت، جس کے علاقائی اثرات ہو سکتے ہیں
- امریکہ کے اندر سیاسی تشدد اور خانہ جنگی جیسی صورتحال کا خطرہ، خاص طور پر شدید سیاسی تقسیم کے باعث
سی ایف آر کے مطابق یہ منظرنامے عالمی استحکام اور امریکی مفادات دونوں کے لیے غیر معمولی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

درمیانے درجے کے مگر تشویشناک تنازعات
رپورٹ میں کئی ایسے تنازعات بھی شامل ہیں جن کے اثرات علاقائی سطح پر انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں، جن میں:
- سوڈان کی خانہ جنگی اور انسانی بحران
- ہیٹی میں ریاستی کمزوری اور مسلح گروہوں کا پھیلاؤ
- صومالیہ اور ہارن آف افریقہ میں عدم استحکام
- ساحل (Sahel) خطہ، شمالی نائجیریا اور میانمار میں مسلح بغاوتیں
ان تنازعات کو درمیانی سطح کے خطرات قرار دیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پچھلے برسوں کے مقابلے میں تبدیلیاں
2026 کی فہرست میں بعض نئے خدشات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ کچھ پرانے خطرات کی شدت کم بتائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں فوری بڑے پیمانے کی جنگ کو اس بار فہرست میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ لاطینی امریکہ اور افریقہ میں سیاسی عدم استحکام کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اسی طرح جنوبی بحیرۂ چین میں تصادم کا خدشہ بدستور موجود ہے، مگر 2026 کے لیے اس کے امکانات نسبتاً کم قرار دیے گئے ہیں۔
تنازعات کی روک تھام پر زور
سی ایف آر کی رپورٹ میں پہلی بار ایسے نکات بھی شامل کیے گئے ہیں جہاں تنازع کی روک تھام ممکن سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سوڈان جیسے ممالک میں بروقت سفارتی مداخلت، اور کمزور ریاستوں میں ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے بڑے انسانی المیوں کو روکا جا سکتا ہے۔
عالمی منظرنامہ
رپورٹ کے مطابق دنیا اس وقت دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے دور میں سب سے زیادہ تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ ریاستوں کے درمیان رقابت، اندرونی خلفشار اور عالمی طاقتوں کی کشمکش ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہے جہاں کسی ایک خطے کا بحران تیزی سے عالمی مسئلہ بن سکتا ہے۔
سی ایف آر کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کا مقصد حکومتوں اور عالمی اداروں کو بروقت خبردار کرنا ہے تاکہ وہ بحرانوں کو پھوٹنے سے پہلے سنبھال سکیں، کیونکہ تاخیر کی صورت میں انسانی اور سیاسی قیمت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔




