بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سی پیک پر چین کا واضح جواب: علاقہ ہمارا ہے، تعمیر قانونی ہے

چین نے بھارت کی جانب سے سرحدی معاملات اور China-Pakistan Economic Corridor (سی پیک) پر اٹھائے گئے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر مکمل طور پر قانونی ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان Mao Ning نے کہا کہ چین اور Pakistan کے درمیان سرحدی معاہدہ 1960 کی دہائی میں طے پایا تھا اور اس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی باقاعدہ حد بندی کی تھی، جو دو خودمختار ریاستوں کا قانونی حق ہے۔

سی پیک کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے

ماو ننگ کے مطابق سی پیک ایک معاشی تعاون منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی ترقی، معاشی بہتری اور عوام کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہے، نہ کہ کسی تیسرے فریق کے خلاف سیاسی اقدام۔

کشمیر پر چین کا مؤقف برقرار

انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو سرحدی معاہدہ اور نہ ہی سی پیک چین کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو متاثر کرتا ہے۔ چین کا اس مسئلے پر مؤقف بدستور وہی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بھارتی اعتراضات کا پس منظر

بھارت ماضی میں بھی سی پیک کے بعض منصوبوں پر اعتراض کرتا رہا ہے، تاہم چین اور پاکستان ان اعتراضات کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں اور اسے دو طرفہ تعاون کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  چین سی پیک سے پیچھے نہیں ہٹے گا
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین