جمعرات, 12 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

چین کا میزائل بردار روبوٹک ڈاگ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں پیش، زمینی جنگ میں نئی پیش رفت

سعودی عرب میں منعقد ہونے والے World Defense Show 2026 کے دوران چین سے وابستہ ایک بڑے سرکاری دفاعی ادارے نے میزائل سے لیس چار ٹانگوں والا روبوٹک جنگی نظام پہلی بار عالمی سطح پر پیش کیا۔ یہ پیش رفت بغیر پائلٹ زمینی جنگی نظاموں (UGVs) میں چین کی تیز رفتار پیش قدمی اور خودکار جنگی ٹیکنالوجی میں بڑھتے عالمی مقابلے کی عکاسی کرتی ہے۔

اینٹی ٹینک میزائلوں سے لیس نیا جنگی کردار

اس روبوٹک ڈاگ کے اس نئے ورژن میں چار ہلکے وزن کے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل لانچر نصب ہیں، جو دوہری لانچر ترتیب میں اس کے اوپری فریم پر لگائے گئے ہیں۔ کمپنی نمائندوں کے مطابق، یہ نظام ریموٹ کنٹرول فائر سپورٹ پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو شہری اور پیچیدہ جنگی ماحول میں استعمال کے لیے موزوں ہے۔

دفاعی جریدے Army Recognition کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ نظام ماڈیولر ڈیزائن رکھتا ہے اور سابقہ چینی روبوٹک ڈاگ ماڈلز کی طرح کم قد، پھرتیلا اور متوازن ہے، تاہم میزائلوں کی شمولیت نے اس کے جنگی کردار کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔

میزائل صلاحیت اور مؤثر رینج

نمائش میں موجود صنعتی ذرائع کے مطابق، یہ لانچر چین کے موجودہ پیدل فوجی اینٹی ٹینک میزائل سسٹمز سے ماخوذ ہلکے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ متوقع خصوصیات میں شامل ہیں:

  • فائر اینڈ فارگیٹ میزائل سسٹم
  • نیم خودکار کمانڈ ٹو لائن آف سائٹ (SACLOS) گائیڈنس
  • 2 سے 4 کلومیٹر تک مؤثر مار

اس ترتیب کے تحت یہ روبوٹک نظام مین بیٹل ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، مضبوط دفاعی پوزیشنز اور بعض حالات میں کم بلندی پر پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹرز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بہاولپور گیریژن کا دورہ، ’Steadfast Resolve‘ مشق کا مشاہدہ، جدید ملٹی ڈومین وارفیئر پر زور

سینسرز، خودکار نیویگیشن اور انسانی کنٹرول

روبوٹک پلیٹ فارم کے اگلے حصے پر الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم نصب ہے، جس میں دن اور رات دیکھنے کی صلاحیت، تھرمل امیجنگ اور لیزر رینج فائنڈر شامل ہیں۔ مستحکم سینسر ہیڈ حرکت کے دوران بھی ہدف کی نگرانی ممکن بناتا ہے۔

چینی انجینئرز کے مطابق، نظام میں خودکار راستہ تلاش کرنے، رکاوٹوں سے بچاؤ اور ریموٹ آپریشن کی صلاحیت موجود ہے، تاہم ہتھیار چلانے کا اختیار انسانی آپریٹر کے پاس ہی رہے گا۔

پیپلز لبریشن آرمی کی جدید کاری کا حصہ

یہ پیش رفت People’s Liberation Army کی مجموعی عسکری جدید کاری کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت چین فضائی، بحری اور زمینی محاذوں پر بغیر پائلٹ نظاموں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

شہری جنگ کے تناظر میں، یہ میزائل بردار روبوٹک نظام تنگ گلیوں اور محدود راستوں میں بڑی بکتر بند گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ فوجیوں کو براہ راست خطرے سے بھی بچاتا ہے۔

انجینئرنگ چیلنجز اور استحکام

ماہرین کے مطابق، چار ٹانگوں والے پلیٹ فارم پر میزائل نصب کرنا ریکوائل کنٹرول اور توازن کے حوالے سے ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ تاہم نمائش میں دکھائے گئے ماڈل میں مضبوط فریم اور کم مرکزِ ثقل کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا گیا ہے۔

لائیو ڈیمونسٹریشن کے دوران مبینہ طور پر فائرنگ کے بعد نظام میں نمایاں عدم استحکام نہیں دیکھا گیا۔

علاقائی سلامتی اور برآمدی امکانات

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹک اینٹی آرمَر سسٹمز فارورڈ ایمبش، چوک پوائنٹ ڈیفنس اور حتیٰ کہ سوارم آپریشنز میں استعمال ہو سکتے ہیں، جو روایتی بکتر بند افواج کے لیے نئی مشکلات پیدا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں پاکستان کا SMASH میزائل، سمندری اور زمینی اسٹرائیک کے لیے دوہری صلاحیت کی پیشکش

عالمی دفاعی منڈی کے حوالے سے، کئی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی وفود نے اس نظام میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اگرچہ کسی برآمدی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، تاہم ذرائع کے مطابق غیر مسلح یا ہلکے ہتھیاروں والے ورژنز سرحدی نگرانی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔

زمینی جنگ کا بدلتا ہوا منظرنامہ

ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں اس نظام کی نمائش اس حقیقت کی عکاس ہے کہ روبوٹک زمینی جنگی نظام اب تجرباتی مرحلے سے نکل کر عملی میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔ خودکار ٹیکنالوجی اور درست نشانہ بازی کی دوڑ میں، چین کا میزائل بردار روبوٹک ڈاگ مستقبل کی زمینی جنگ کی ایک واضح جھلک پیش کرتا ہے۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین