پاناما کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے ہانگ کانگ سے وابستہ ایک کمپنی کو پاناما کینال کی اہم بندرگاہیں چلانے کے حق سے محروم کرنے کے فیصلے پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو پاناما کو “بھاری سیاسی اور معاشی قیمت” چکانا پڑے گی۔
یہ عدالتی فیصلہ تیزی سے ایک بڑے جیوپولیٹیکل تنازع میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کے مرکز میں Panama Canal آ گیا ہے—وہ آبی گزرگاہ جہاں سے امریکا کی تقریباً 40 فیصد کنٹینر ٹریفک گزرتی ہے۔
پاناما کی عدالت اور CK Hutchison کی بندرگاہیں
اس تنازع کا مرکز CK Hutchison ہے، جو ہانگ کانگ میں قائم ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے اور دنیا بھر میں Hutchison Ports کے ذریعے بندرگاہیں چلاتی ہے۔ کمپنی پاناما کینال کے دونوں سروں پر واقع دو انتہائی اہم ٹرمینلز کی آپریٹر رہی ہے۔
پاناما کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ فیصلہ دیا کہ Hutchison کی ذیلی کمپنی کو دی گئی یہ رعایت (concession) پاناما کے آئین سے متصادم ہے۔ یہ فیصلہ سرکاری آڈٹ کے بعد سامنے آیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی بندرگاہوں پر کنٹرول خطرے میں پڑ گیا ہے۔
Hutchison Ports کی پاناما پورٹس کمپنی نے اس فیصلے کو ریاستی “مہم” قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ثالثی (arbitration) شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بیجنگ کا سخت ردعمل: “ہیجیمونک دباؤ کے سامنے جھکنا”
چین نے اس عدالتی فیصلے کو غیر معمولی سخت الفاظ میں مسترد کیا۔ ہانگ کانگ امور کی نگرانی کرنے والے بیجنگ کے دفتر نے 800 الفاظ پر مشتمل بیان میں فیصلے کو “انتہائی شرمناک اور افسوسناک” قرار دیا اور کہا کہ پاناما امریکی دباؤ کے سامنے جھک گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چین “معاشی جبر اور بالادستی کی غنڈہ گردی” کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور خبردار کیا گیا کہ اس فیصلے سے پاناما کے کاروباری ماحول اور معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچے گا۔
امریکا کا دباؤ اور ٹرمپ کا پاناما کینال بیانیہ
یہ بحران ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس پالیسی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کا مقصد مغربی نصف کرے (Western Hemisphere) میں “غیر علاقائی طاقتوں” کو اسٹریٹجک اثاثوں سے دور رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا—جس کے شواہد موجود نہیں—کہ “چین پاناما کینال چلا رہا ہے” اور عہد کیا کہ امریکا اسے “واپس لے گا”۔ ان کے حلف برداری کے دن ہی پاناما حکومت نے Hutchison کی بندرگاہوں کا آڈٹ شروع کیا، اگرچہ پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو نے ٹرمپ کے دعووں کی تردید کی۔
لاطینی امریکا میں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی موجودگی
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے لاطینی امریکا اور کیریبین میں گہرے معاشی اثرات قائم کیے ہیں، جہاں اس کی سالانہ تجارت 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ چینی کمپنیاں بجلی، ٹیلی کمیونی کیشن، کان کنی اور بندرگاہی انفراسٹرکچر میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
پاناما اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں چین، امریکا کو پیچھے چھوڑ کر پاناما کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا تھا۔ 2017 میں پاناما، چینی صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ہونے والا پہلا لاطینی امریکی ملک بھی بنا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں پاناما نے اس منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی، جسے بیجنگ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
BlackRock ڈیل اور چین کا اسٹریٹجک مخمصہ
کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب CK Hutchison نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں موجود اپنی بندرگاہوں کے حصص—جن میں پاناما کینال کی بندرگاہیں بھی شامل ہیں—ایک کنسورشیم کو فروخت کرے گی جس کی قیادت امریکی سرمایہ کاری کمپنی BlackRock کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے اس ڈیل کو امریکا کی “کامیابی” قرار دیا، جبکہ چین نے کہا کہ ایسے کسی بھی اثاثہ جاتی معاہدے پر “نگرانی اور جانچ” کی جائے گی۔ اس کے بعد سے یہ معاہدہ تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ CK Hutchison کوئی چینی سرکاری ادارہ نہیں بلکہ ہانگ کانگ کے ارب پتی لی کا شنگ کے کنٹرول میں ہے، مگر بیجنگ اس معاملے کو ایک خطرناک مثال کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
معاشی دباؤ یا محتاط حکمتِ عملی؟
چین ماضی میں جاپان، آسٹریلیا اور ناروے جیسے ممالک کے خلاف معاشی دباؤ استعمال کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاناما بھی تجارتی، سرمایہ کاری یا ریگولیٹری دباؤ کا سامنا کر سکتا ہے۔
تاہم بیجنگ کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ سخت ردعمل اس کی اس کوشش کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے تحت وہ خود کو ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
خطے میں اثر و رسوخ کا ایک فیصلہ کن امتحان
امریکی تجزیہ کاروں کے نزدیک پاناما کی عدالتی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل دباؤ کے ذریعے چینی اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، چینی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ چینی کمپنیوں کو امریکا کے قریب اسٹریٹجک مقامات پر سرمایہ کاری سے مزید محتاط بنا دے گا۔
یوں پاناما کینال کا یہ تنازع اب محض ایک تجارتی یا قانونی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ لاطینی امریکا میں چین اور امریکا کے درمیان طاقت کی کشمکش کا ایک فیصلہ کن میدان بن چکا ہے۔




