بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

اردن میں امریکی EA-18G گرولر طیاروں کی تعیناتی، ممکنہ فضائی کارروائیوں کا اشارہ

امریکی بحریہ کے EA-18G Growler الیکٹرانک اٹیک طیاروں کی اردن کے ایک فضائی اڈے پر تعیناتی نے دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ الیکٹرانک وارفیئر کی قیادت میں فضائی کارروائیوں کی تیاری کا عندیہ دیتا ہے۔

دستیاب معلومات اور تصاویر کے مطابق دو گرولر طیارے اردن پہنچے ہیں، جن میں سے ایک پر روایتی ALQ-99 الیکٹرانک وارفیئر پوڈ نصب ہے، جبکہ دوسرے پر جدید ALQ-249 نیکسٹ جنریشن جیمر (NGJ) نصب کیا گیا ہے۔ دونوں نظاموں کی بیک وقت موجودگی امریکی فضائی آپریشنز کو زیادہ لچکدار اور مؤثر بناتی ہے۔

الیکٹرانک وارفیئر کا مرکزی کردار

ALQ-99 پوڈ طویل عرصے سے دشمن کے ریڈار، فضائی دفاعی نظام اور میزائل گائیڈنس کو جام کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کا مقصد دشمن کی نشاندہی اور لاک آن صلاحیت کو کمزور بنانا ہے۔

اس کے برعکس ALQ-249 نیکسٹ جنریشن جیمر ایک نمایاں تکنیکی پیش رفت ہے، جو زیادہ طاقتور جامنگ، تیز رفتار خطرے کی شناخت، ڈیجیٹل بیم اسٹیئرنگ اور جدید، نیٹ ورکڈ فضائی دفاعی نظاموں کے خلاف بہتر کارکردگی فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام خاص طور پر جدید اور مربوط ایئر ڈیفنس نیٹ ورکس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں پوڈز کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ تعیناتی محض تربیتی نہیں بلکہ آپریشنل نوعیت کی ہے، جس کا مقصد پرانے اور جدید دونوں طرح کے فضائی دفاعی خطرات سے نمٹنا ہے۔

اردن کی اسٹریٹجک اہمیت

Jordan کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک اہم اسٹریٹجک پلیٹ فارم بناتی ہے۔ اردن کی سرحدیں Syria اور Iraq سے ملتی ہیں، جبکہ یہ Iran اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی کارروائیوں کی حد میں بھی آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکی بحری طاقت کا نیا باب، USS جان ایف کینیڈی کی سمندری آزمائشیں شروع

اردن سے امریکی فضائی کارروائیاں نہ صرف خلیجی اڈوں پر انحصار کم کرتی ہیں بلکہ سیاسی اور آپریشنل گہرائی بھی فراہم کرتی ہیں، جس سے مختلف محاذوں تک تیز رسائی ممکن ہوتی ہے۔

ممکنہ فضائی حملوں کی ساخت

موجودہ علاقائی تعیناتیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر اردن سے فضائی کارروائی کی جاتی ہے تو اس میں درج ذیل اثاثے شامل ہو سکتے ہیں:

  • F-15E Strike Eagle — بھاری اور درست حملوں کے لیے
  • F-35 Lightning II — اسٹیلتھ رسائی اور ٹارگٹنگ کے لیے
  • EA-18G گرولرز — ریڈار اور فضائی دفاع کو جام کرنے کے لیے
  • بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) — نگرانی، فریب (decoy) اور نقصان کے بعد جائزے کے لیے

ایسے آپریشنز میں گرولرز ابتدائی مرحلے میں فضائی دفاع کو غیر مؤثر بنا کر حملہ آور طیاروں کے لیے محفوظ راستے فراہم کرتے ہیں۔

وسیع تر علاقائی پیغام

ALQ-249 سے لیس گرولرز کی تعیناتی اس بات کی عکاس ہے کہ واشنگٹن الیکٹرانک اور غیر حرکی (non-kinetic) ذرائع کے ذریعے اسٹریٹجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ الیکٹرانک وارفیئر دشمن کے نظام کو عارضی طور پر مفلوج کر کے بغیر فوری بڑے پیمانے کی جنگ کے واضح ڈیٹرنس پیغامات دیتا ہے۔

اگرچہ کسی فوری حملے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، تاہم ان اثاثوں کی نوعیت اور مقام ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا میدانِ جنگ کی تیاری (battlespace shaping) کر رہا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے سینسرز اور فضائی دفاع کو آغاز ہی میں اندھا یا مفلوج کیا جا سکے۔


میٹا ڈسکرپشن (اردو)


اگر آپ چاہیں تو میں:

  • مختصر بریکنگ نیوز ورژن
  • آپریشنل نقشہ اور ٹائم لائن
  • یا ALQ-249 بمقابلہ روسی و ایرانی EW سسٹمز کا تقابلی تجزیہ بھی تیار کر سکتا ہوں
یہ بھی پڑھیں  دھماکوں سے چند گھنٹے قبل حزب اللہ نے پیجرز تقسیم کیے تھے
انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین