بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

کیا ایک اعلیٰ چینی جنرل نے ایٹمی راز امریکہ کو دیے؟ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر سنجیدہ سوالات

وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے ایک انتہائی سینئر جنرل ژانگ یو شیا نے چین کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بنیادی تکنیکی معلومات امریکہ کو فراہم کیں۔

اگر یہ دعویٰ درست ہو تو یہ جدید تاریخ کی سب سے غیر معمولی انٹیلی جنس کامیابیوں میں سے ایک ہوگا۔ تاہم، اس رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے کئی پہلو سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

ایٹمی راز لیک ہونے کی عملی مشکلات

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا ممکن کیسے ہو سکتا ہے؟ چین کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق حساس معلومات پی ایل اے کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہوتیں بلکہ انتہائی سخت نگرانی کے تحت مخصوص اداروں، جیسے چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن، کے پاس ہوتی ہیں۔

ایک سی ایم سی وائس چیئرمین کے لیے ان رازوں تک رسائی، پھر انہیں حاصل کرنا اور بیرونی ایجنسی تک منتقل کرنا، ایک وسیع اور طویل سازش کے بغیر ممکن نہیں۔ اعلیٰ سطح کے فوجی رہنما مسلسل نگرانی میں ہوتے ہیں، ان کی بات چیت مانیٹر کی جاتی ہے اور غیر اعلانیہ ملاقاتیں تقریباً ناممکن ہوتی ہیں۔

یہ تصور کہ ایک جنگ آزمودہ جنرل، جس کی پوری زندگی ریاست سے وابستہ رہی ہو، دہائیوں کی وفاداری ترک کر دے، تکنیکی اور نفسیاتی دونوں اعتبار سے غیر معمولی حد تک مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ماضی کی مشکوک مثالیں اور افواہیں

اس کہانی کو سچ ثابت کرنے کے لیے بعض حلقے 2023 کی اُن رپورٹس کا حوالہ دیتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایک روسی عہدیدار نے صدر شی جن پنگ کو بتایا کہ سابق وزیر خارجہ چن گانگ نے مغرب کو ایٹمی راز دیے۔

یہ بھی پڑھیں  JF-17 تھنڈر کا انجن انقلاب: پاکستان RD-93 چھوڑ کر WS-13E کیوں اپنا رہا ہے؟

یہ رپورٹس اُس وقت بھی مشکوک سمجھی گئیں، کیونکہ چین میں وزارتِ خارجہ اور فوج کے درمیان سخت ادارہ جاتی دیواریں موجود ہیں۔ کسی سویلین سفارتکار کا ایٹمی رازوں تک پہنچنا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو محض سیاسی عہدے سے ہٹانا کافی نہ سمجھا جاتا۔

زیادہ قابلِ یقین تشریح: سیاسی جواز

ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تشریح یہ ہو سکتی ہے کہ ایٹمی الزامات اندرونی بریفنگز میں بطور جواز استعمال کیے گئے ہوں۔ چین جیسے سخت سیاسی نظام میں اتنے اعلیٰ جنرل کی گرفتاری یا برطرفی کے لیے انتہائی سنگین وجہ پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ بند کمروں میں ہی کیوں نہ ہو۔

ایسے معاملات میں داخلی بیانیہ حقیقت سے زیادہ سخت اور سنسنی خیز ہو سکتا ہے، تاکہ فیصلے کی سنگینی واضح کی جا سکے۔

بدعنوانی اور سرپرستی کا عنصر

رپورٹ کا ایک پہلو نسبتاً زیادہ قابلِ یقین دکھائی دیتا ہے: یہ الزام کہ ژانگ یو شیا نے لی شانگ فو کی 2022 میں سی ایم سی میں ترقی کے لیے بھاری رشوت لی۔

یہ دعویٰ چین کی فوجی تاریخ میں سامنے آنے والے متعدد بدعنوانی کیسز سے مطابقت رکھتا ہے، خاص طور پر دفاعی خریداری کے شعبے میں۔ لی شانگ فو بعد میں انہی بدعنوانی اسکینڈلز کی نذر ہوئے۔

اس تناظر میں ژانگ کا اصل سیاسی جرم بدعنوانی کو نظر انداز کرنا، ماتحتوں کو تحفظ دینا اور شی جن پنگ کی اینٹی کرپشن پالیسیوں پر عمل نہ کرنا ہو سکتا ہے۔

بغاوت اور جاسوسی کی کہانیاں کیوں کمزور ہیں

کچھ حلقوں میں بغاوت یا سازش کی کہانیاں بھی گردش کر رہی ہیں، مگر یہ دعوے کم سے کم جانچ پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بیجنگ میں صدر شی جن پنگ کی رہائش اور سکیورٹی سے متعلق افواہیں بنیادی حقائق کے خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  روس کا چاند پر جوہری پاور پلانٹ لگانے کا منصوبہ، 2036 تک تکمیل کا ہدف

ایسی کہانیوں کا ماخذ زیادہ تر جلاوطن اختلافی حلقے یا افواہ پھیلانے والے نیٹ ورکس ہیں، جن کے پاس شواہد کی کمی ہوتی ہے۔

سرکاری زبان کیا اشارہ دیتی ہے؟

چینی سیاست میں اصل اشارے اکثر سرکاری بیانات کی زبان سے ملتے ہیں۔ پیپلز ڈیلی نے ژانگ یو شیا پر الزام لگایا کہ انہوں نے "سی ایم سی چیئرمین ذمہ داری نظام کو بری طرح روند ڈالا اور نقصان پہنچایا” (践踏破坏)。

یہ زبان غیر معمولی طور پر سخت ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کے الفاظ سابق سی ایم سی وائس چیئرمین گو بو شیونگ کے لیے استعمال ہوئے تھے، مگر ژانگ کے معاملے میں الفاظ مزید شدید ہیں، جو جان بوجھ کر اختیار کیے گئے رویے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ ژانگ نے کمان کے نظام کو کمزور کیا، یعنی شی جن پنگ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا—ممکن ہے کہ بدعنوانی کے خلاف واضح احکامات پر عمل نہ کر کے۔

ہم اصل میں کیا جانتے ہیں؟

سرکاری بیانات کے علاوہ یقینی معلومات بہت محدود ہیں۔ چین کے اعلیٰ سیاسی حلقوں میں لیکس تقریباً ناممکن ہیں، اور جو لوگ مکمل یقین سے سچ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان پر شکوک رکھنا ہی بہتر ہے۔

ایسے معاملات میں سب سے ایماندار جواب یہی ہے:
ہم یقینی طور پر نہیں جانتے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین