پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کے دور میں طاقت کا مرکز اسٹیل اور انجن سے ہٹ کر کوڈ، الگورتھمز اور ڈیٹا پر منتقل ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں نیدرلینڈز کے ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار کے حالیہ ریمارکس نے نیٹو اور اس سے باہر ایک بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے: ایف-35 کے “دماغ” پر اصل اختیار کس کے پاس ہے؟
ایک جملہ، وسیع تر بحث
ریڈیو گفتگو کے دوران ایف-35 کو “آئی فون کی طرح جیل بریک” کرنے کی تمثیل نے تکنیکی بحث سے زیادہ سیاسی اور تزویراتی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ اگرچہ یہ کسی عملی اقدام کا اعلان نہیں تھا، مگر اس نے یہ واضح کر دیا کہ جدید جنگ میں ملکیت اور کنٹرول ایک چیز نہیں رہے۔
JUST IN:
🇳🇱🇺🇸 Dutch Defence Minister Gijs Tuinman says that software independence is possible for F-35 jets and that you can “jailbreak” an F-35
When asked if Europe can modify it without US approval:
“That’s not the point… we’ll see whether the Americans will show their… pic.twitter.com/Nv1XzGFboX
— Megatron (@Megatron_ron) February 15, 2026
سافٹ ویئر کیوں فیصلہ کن ہے؟
F-35 Lightning II کی برتری اس کے اسٹیلتھ ڈیزائن سے بڑھ کر اس کے سافٹ ویئر ایکوسسٹم میں مضمر ہے۔ ملینوں لائنز پر مشتمل کوڈ سینسر فیوژن، الیکٹرانک وارفیئر اور ہتھیاروں کے استعمال کو ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس نظام کا مرکزی ستون Mission Data Files (MDFs) ہیں—وہ ڈیجیٹل “جنگی دستی” جو دشمن ریڈار، میزائل اور حربوں کی شناخت ممکن بناتی ہیں۔ ان فائلوں کی بروقت اپ ڈیٹس کے بغیر، متنازع فضائی ماحول میں بقا بتدریج کمزور پڑتی ہے۔
ڈچ معاملہ: صلاحیت موجود، خودمختاری محدود
نیدرلینڈز نے مکمل طور پر ایف-16 سے ایف-35A پر منتقلی کر لی ہے اور اس کی فضائی طاقت کا انحصار اسی پلیٹ فارم پر ہے۔ چالیس سے زائد طیارے ڈیلیور ہو چکے ہیں اور 2028 تک مزید آنے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ مشن سافٹ ویئر پر خودمختار اختیار موجود نہیں۔ یوں ایک طرف پروگرام میں گہری شمولیت ہے، تو دوسری طرف یکطرفہ کنٹرول کی کمی—یہی وہ تضاد ہے جس نے بحث کو جنم دیا۔
اتحاد میں انحصار، ڈیجیٹل میدانِ جنگ
ابتدا میں ایف-35 کا لاجسٹک نظام ALIS تھا، جسے اب کلاؤڈ بیسڈ ODIN نے بدل دیا ہے۔ ODIN کارکردگی بہتر بناتا ہے، مگر اپ ڈیٹس، سائبر سکیورٹی اور کنفیگریشن مینجمنٹ میں امریکی مرکزیت برقرار رکھتا ہے۔
یہ ماڈل انٹرآپریبلٹی کو مضبوط کرتا ہے، مگر ساتھ ہی سافٹ ویئر خودمختاری کو اجتماعی—نہ کہ قومی—دائرے میں محدود کر دیتا ہے۔
سب شراکت دار یکساں نہیں
اس پورے ایکوسسٹم میں اسرائیل ایک نمایاں استثنا ہے۔ اس کا F-35I “Adir” مقامی ایویونکس اور مخصوص سافٹ ویئر راستوں کے ساتھ آپریٹ کرتا ہے—ایک انتظام جو طویل مذاکرات اور اسٹریٹجک لیوریج کے بعد ممکن ہوا۔
یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ زیادہ اختیار تکنیکی طور پر ممکن ہے، مگر سیاسی طور پر ہر ایک کے لیے قابلِ حصول نہیں۔
یورپ کی وسیع تر ازسرِ نو ترتیب
یہ بحث یورپ میں جاری دفاعی ازسرِ نو ترتیب کا حصہ ہے۔ چھٹی نسل کے مقامی منصوبے—جیسے FCAS اور GCAP—اب محض نئے طیارے نہیں، بلکہ الگورتھمز اور ڈیٹا پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔
کئی یورپی ممالک نے ایف-35 کی لاگت اور “بلیک باکس” سافٹ ویئر پابندیوں پر کھلے عام سوالات اٹھائے ہیں، جس سے ایک اجتماعی، مگر محتاط ردِعمل ابھر رہا ہے۔
یورپ سے آگے: انڈو پیسیفک کی گونج
یہ سوال انڈو پیسیفک میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جاپان، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے آپریٹرز کے لیے تیزی سے بدلتے خطرات کے مقابلے میں مشن ڈیٹا کی بروقت اپ ڈیٹس فیصلہ کن ہو سکتی ہیں۔ کسی بحران میں تاخیر، بغیر کسی “کل سوئچ” کے، عملی اثر کم کر سکتی ہے۔
تکنیکی نہیں، اسٹریٹجک سوال
اگرچہ “جیل بریک” کی تمثیل اشتعال انگیز تھی، مگر ڈچ مؤقف یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ حالت میں بھی ایف-35 ایک انتہائی مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ یوں یہ معاملہ تکنیکی بغاوت نہیں، بلکہ انحصار کے خطرات کی نشاندہی ہے۔
ڈیجیٹل دور کی جنگ میں خودمختاری اب ہینگرز سے نکل کر انکرپٹڈ سرورز اور خفیہ ڈیٹا بیسز میں منتقل ہو چکی ہے۔ ایف-35 پر جاری بحث اسی بنیادی تبدیلی کی عکاس ہے—جہاں اتحاد، اعتماد اور کنٹرول کے اصول نئے سرے سے طے ہو رہے ہیں۔




