بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

بھارت کا پاکستان سرحد کے قریب بڑے فضائی مشقوں کا اعلان، گجرات میں فضائی حدود بند

بھارت نے پاکستان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ریاست گجرات میں بڑے پیمانے پر فضائی جنگی مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے بھارتی فضائیہ نے نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کرتے ہوئے 20 اور 21 جنوری کو مخصوص فضائی حدود کو سول اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔

جاری کردہ نوٹم کے مطابق یہ پابندی مغربی بھارت کے حساس علاقوں پر لاگو ہوگی، جن میں گجرات کے ساحلی خطے، سرکریک، بحیرۂ عرب کے کچھ حصے اور راجکوٹ اور احمد آباد کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ یہ خطہ جغرافیائی طور پر پاکستان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث دفاعی لحاظ سے حساس سمجھا جاتا ہے۔

Image

کن طیاروں کی شرکت متوقع ہے؟

بھارتی ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق ان مشقوں میں فضائیہ کے جدید اور فرنٹ لائن جنگی طیارے حصہ لیں گے، جن میں شامل ہیں:

  • رافال لڑاکا طیارے
  • سخوئی-30 ایم کے آئی
  • جیگوار اسٹرائیک ایئرکرافٹ
  • دیگر معاون اور سپورٹ فضائی اثاثے

مشقوں کے دوران تیز رفتار پروازیں، فضائی لڑائی کی مشقیں (Air Combat Manoeuvres) اور بعض رپورٹس کے مطابق فرضی یا محدود لائیو فائر/بمباری کی سرگرمیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، تاہم بھارتی حکام نے لائیو ویپن کے استعمال کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

فضائی حدود کی بندش اور پروازوں پر اثرات

NOTAM کے تحت متاثرہ فضائی راستوں سے گزرنے والی بین الاقوامی اور مقامی پروازوں کو متبادل روٹس اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عسکری اور سول پروازوں کے درمیان کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ بھارت اس نوعیت کی مشقوں سے قبل ماضی میں بھی اسی طرح کی فضائی پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  لیسٹر فسادات میں 'ہندو قوم پرست انتہا پسندی' کا کردار تھا، برطانوی حکومت کے جائزے میں نشاندہی

حقیقت کی جانچ (Fact Check)

  • گجرات میں فضائی مشقوں کے لیے NOTAM جاری کیا جانا درست اور تصدیق شدہ ہے
  • مشقوں میں رافال، سخوئی-30 ایم کے آئی اور جیگوار طیاروں کی شمولیت کی اطلاعات قابلِ اعتماد بھارتی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں
  • لائیو فائر یا بمباری کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات ابھی قیاس آرائی کے درجے میں ہیں اور ان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی
  • بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں روٹین تربیتی مشقوں کا حصہ ہیں

علاقائی تناظر

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس طرح کی مشقیں فوجی تیاری کا معمول کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن پاکستان کی سرحد کے قریب ان کا انعقاد علاقائی سطح پر حساسیت پیدا کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر شفاف اطلاع، پیشگی نوٹس اور سفارتی رابطے کشیدگی کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فی الحال کسی فوری عسکری کشیدگی یا تصادم کے اشارے سامنے نہیں آئے، تاہم جنوبی ایشیا میں دفاعی سرگرمیوں پر دونوں ممالک ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر قریبی نظر رکھتے ہیں۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین