بھارت نے پاکستان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ریاست گجرات میں بڑے پیمانے پر فضائی جنگی مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے بھارتی فضائیہ نے نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کرتے ہوئے 20 اور 21 جنوری کو مخصوص فضائی حدود کو سول اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
جاری کردہ نوٹم کے مطابق یہ پابندی مغربی بھارت کے حساس علاقوں پر لاگو ہوگی، جن میں گجرات کے ساحلی خطے، سرکریک، بحیرۂ عرب کے کچھ حصے اور راجکوٹ اور احمد آباد کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ یہ خطہ جغرافیائی طور پر پاکستان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث دفاعی لحاظ سے حساس سمجھا جاتا ہے۔
![]()
کن طیاروں کی شرکت متوقع ہے؟
بھارتی ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق ان مشقوں میں فضائیہ کے جدید اور فرنٹ لائن جنگی طیارے حصہ لیں گے، جن میں شامل ہیں:
- رافال لڑاکا طیارے
- سخوئی-30 ایم کے آئی
- جیگوار اسٹرائیک ایئرکرافٹ
- دیگر معاون اور سپورٹ فضائی اثاثے
مشقوں کے دوران تیز رفتار پروازیں، فضائی لڑائی کی مشقیں (Air Combat Manoeuvres) اور بعض رپورٹس کے مطابق فرضی یا محدود لائیو فائر/بمباری کی سرگرمیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، تاہم بھارتی حکام نے لائیو ویپن کے استعمال کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
فضائی حدود کی بندش اور پروازوں پر اثرات
NOTAM کے تحت متاثرہ فضائی راستوں سے گزرنے والی بین الاقوامی اور مقامی پروازوں کو متبادل روٹس اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عسکری اور سول پروازوں کے درمیان کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ بھارت اس نوعیت کی مشقوں سے قبل ماضی میں بھی اسی طرح کی فضائی پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔
حقیقت کی جانچ (Fact Check)
- گجرات میں فضائی مشقوں کے لیے NOTAM جاری کیا جانا درست اور تصدیق شدہ ہے
- مشقوں میں رافال، سخوئی-30 ایم کے آئی اور جیگوار طیاروں کی شمولیت کی اطلاعات قابلِ اعتماد بھارتی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں
- لائیو فائر یا بمباری کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات ابھی قیاس آرائی کے درجے میں ہیں اور ان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی
- بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں روٹین تربیتی مشقوں کا حصہ ہیں
علاقائی تناظر
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس طرح کی مشقیں فوجی تیاری کا معمول کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن پاکستان کی سرحد کے قریب ان کا انعقاد علاقائی سطح پر حساسیت پیدا کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر شفاف اطلاع، پیشگی نوٹس اور سفارتی رابطے کشیدگی کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فی الحال کسی فوری عسکری کشیدگی یا تصادم کے اشارے سامنے نہیں آئے، تاہم جنوبی ایشیا میں دفاعی سرگرمیوں پر دونوں ممالک ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر قریبی نظر رکھتے ہیں۔




