بھارت نے اپنی عسکری جدیدکاری کو تیز کرتے ہوئے تینوں افواج کے لیے تقریباً 79 ہزار کروڑ روپے کے دفاعی سازوسامان کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری Defence Acquisition Council (ڈی اے سی) نے 29 دسمبر 2025 کو دی، جس کی صدارت وزیرِ دفاع Rajnath Singh نے کی۔ ڈی اے سی کی جانب سے Acceptance of Necessity (AoN) کو دفاعی خریداری کے عمل میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے، جو آئندہ معاہدوں کی سیاسی منظوری کی راہ ہموار کرتا ہے۔
یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت سرحدی سلامتی، ڈرون خطرات، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور سمندری نگرانی کو اپنی دفاعی ترجیحات میں سرفہرست رکھ رہا ہے۔
بھارتی فوج: ڈرونز، راکٹ اور کاؤنٹر یو اے ایس
بھارتی فوج کے لیے لوئٹر منیشن سسٹمز، کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کی نشاندہی کے لیے لو لیول لائٹ ویٹ ریڈارز، Pinaka ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم کے لیے لانگ رینج گائیڈڈ راکٹ ایمونیشن اور انٹیگریٹڈ ڈرون ڈیٹیکشن اینڈ انٹرڈکشن سسٹم (IDDIS) مارک۔ٹو کی منظوری دی گئی۔

ماہرین کے مطابق یہ منظوری حالیہ تنازعات سے حاصل ہونے والے اسباق کی عکاس ہے، جہاں ڈرونز اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ لانگ رینج گائیڈڈ راکٹ پنکا کی رینج اور درستگی میں اضافہ کریں گے، جبکہ جدید کاؤنٹر ڈرون سسٹمز اگلے محاذ اور اندرونی علاقوں میں اہم تنصیبات کو تحفظ فراہم کریں گے۔
بھارتی بحریہ: بحرِ ہند پر نظر
Indian Navy کے لیے بولارڈ پل ٹگز، ہائی فریکوئنسی سافٹ ویئر ڈیفائنڈ ریڈیوز اور ہائی آلٹیٹیوڈ لانگ اینڈورنس (HALE) ریموٹلی پائلٹڈ ایئرکرافٹ سسٹمز کو لیز پر لینے کی منظوری دی گئی ہے۔
خاص طور پر HALE ڈرونز کی شمولیت بحرِ ہند کے خطے میں مسلسل انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) صلاحیت کو مضبوط کرے گی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام چین کی بڑھتی بحری سرگرمیوں اور سمندری راستوں کے تحفظ کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارتی فضائیہ: میزائل، تربیت اور درست حملے
Indian Air Force کے لیے Astra Mk-II میزائل، SPICE-1000 لانگ رینج گائیڈنس کٹس، خودکار ٹیک آف اور لینڈنگ ریکارڈنگ سسٹم، اور Tejas کے لیے فل مشن سمیولیٹر کی منظوری دی گئی ہے۔

آسٹرا مارک۔ٹو میزائل کی طویل رینج بھارتی لڑاکا طیاروں کو دور سے دشمن طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دے گی، جبکہ SPICE-1000 کٹس درست اور دور مار حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کریں گی۔ تیجس کے لیے فل مشن سمیولیٹر پائلٹس کی محفوظ اور کم لاگت تربیت کو یقینی بنائے گا۔
اسٹریٹجک پس منظر
ان منظوریوں سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی اب ڈرون جنگ، نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز، گہرے حملوں اور مستقل نگرانی پر مرکوز ہے۔ اگرچہ AoN فوری خریداری کی ضمانت نہیں ہوتی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق اس پیمانے کی منظوری نئی دہلی کی عسکری جدیدکاری اور ڈیٹرنس بڑھانے کے سیاسی عزم کی عکاس ہے۔




