بھارت نے امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے، جس کے ساتھ ہی ایک دہائی پر محیط اس منصوبے میں بھارتی شمولیت عملی طور پر ختم ہو گئی ہے۔ پابندیوں کے نافذ ہونے سے قبل بھارت نے ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی، جس کے بعد ایران اس سرمایہ کو بھارتی شمولیت کے بغیر بندرگاہی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ امریکی پابندیاں اب نہ صرف ریاستوں بلکہ بڑے علاقائی انفراسٹرکچر منصوبوں کی سمت کا بھی تعین کر رہی ہیں۔
خاموش مگر مکمل انخلا
پابندیوں کی تجدید کے فوراً بعد انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ میں شامل تمام سرکاری ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی چاہ بہار کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ دار اس سرکاری کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدامات اس مقصد کے تحت کیے گئے تاکہ بندرگاہ سے وابستہ بھارتی حکام اور اداروں کو ممکنہ امریکی ثانوی پابندیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
چاہ بہار بھارت کے لیے کیوں اہم تھی؟
چاہ بہار بندرگاہ بھارت کی علاقائی حکمتِ عملی میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ اس منصوبے کے ذریعے بھارت:
- پاکستان کو بائی پاس کر کے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی چاہتا تھا
- شمال مغربی بحرِ ہند میں اسٹریٹجک موجودگی قائم کرنا چاہتا تھا
- پاکستان میں چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی گوادر بندرگاہ کا متبادل پیدا کرنا چاہتا تھا
اسی بنیاد پر بھارت نے اسے ایک تجارتی اور ترقیاتی منصوبہ قرار دیا تھا اور ماضی میں امریکا سے محدود پابندیوں میں نرمی بھی حاصل کی تھی۔
پابندیاں اور اسٹریٹجک خودمختاری
امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو مشکل انتخاب کا سامنا تھا۔ ایک طرف چاہ بہار جیسا اسٹریٹجک منصوبہ تھا، اور دوسری طرف امریکی مالیاتی نظام سے جڑے خطرات۔
بالآخر نئی دہلی نے مطابقت (Compliance) کو ترجیح دی اور ایران کے ساتھ بندرگاہی شراکت ختم کر دی، جس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اسٹریٹجک خودمختاری بھی عالمی مالیاتی دباؤ کے سامنے محدود ہو سکتی ہے۔
ایران کے لیے اثرات
اگرچہ بھارت کا انخلا ایران کے لیے ایک سیاسی اور اسٹریٹجک دھچکا ہے، تاہم چاہ بہار بندرگاہ مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ ایران کے پاس اب بھی ادا کی گئی 120 ملین ڈالر کی رقم موجود ہے، جسے وہ آزادانہ طور پر بندرگاہی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ایران پہلے ہی چین، روس اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے اشارے دے چکا ہے، اور امکان ہے کہ چاہ بہار کو مشرقی بلاکس سے جوڑا جائے۔
علاقائی رابطہ منصوبوں پر اثر
بھارت کی علیحدگی کے بعد انٹرنیشنل نارتھ–ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک بھارتی رسائی کے منصوبے غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں چین کے تعاون سے چلنے والا گوادر بندرگاہ اور سی پیک منصوبہ مزید مستحکم ہوتا دکھائی دیتا ہے، جسے بھارت کبھی علاقائی توازن کے لیے چیلنج سمجھتا تھا۔
ایک وسیع تر رجحان
چاہ بہار کا معاملہ اس وسیع تر عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں امریکی پابندیاں بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور تجارتی راہداریوں کو براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔
انفراسٹرکچر جو کبھی خالصتاً معاشی اثاثہ سمجھا جاتا تھا، اب مکمل طور پر جغرافیائی سیاست سے جڑ چکا ہے۔
نتیجہ
چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت کا انخلا ایران اور بھارت کے تعلقات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مالی وعدے پورے ہونے کے باوجود، اس منصوبے کی اسٹریٹجک روح امریکی پابندیوں کے باعث دم توڑ چکی ہے۔
یہ واقعہ ان ریاستوں کے لیے ایک سبق ہے جو بدلتے عالمی نظام میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو سیاسی دباؤ سے الگ رکھنا چاہتی ہیں۔




