ہفتہ, 28 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے دوران ایران چین سے CM-302 سپرسونک میزائل معاہدے کے قریب

خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق ایران چین سے چینی ساختہ CM-302 سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے معاہدے کے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر ایرانی ساحل کے قریب بڑے پیمانے پر بحری قوت تعینات کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدہ قریب الوقوع ہے، تاہم میزائلوں کی ترسیل کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہو سکی۔ یہ مذاکرات کم از کم دو سال سے جاری تھے، مگر جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ان میں نمایاں تیزی آئی۔

ایران کی بحری حملہ صلاحیت میں نمایاں اضافہ

CM-302 ایک سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل ہے جس کی رینج تقریباً 290 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ یہ میزائل کم بلندی اور انتہائی تیز رفتار پر پرواز کرتے ہوئے بحری جہازوں کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے باعث اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس میزائل کی شمولیت ایران کی سمندری “Anti-Access/Area Denial” حکمت عملی کو مضبوط بنائے گی، خاص طور پر خلیج فارس اور خلیج عمان جیسے حساس بحری راستوں میں جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

اسرائیلی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سیٹرینووچ کے مطابق، “اگر ایران کو سپرسونک اینٹی شپ صلاحیت مل جاتی ہے تو یہ خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایک بڑا موڑ ہوگا، کیونکہ ایسے میزائلوں کو روکنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں  ایران پر اسرائیلی حملے کے ممکنہ آپشنز

اعلیٰ ایرانی حکام کی چین روانگی

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ موسمِ گرما میں جب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے تو ایران کے سینئر فوجی اور حکومتی حکام چین گئے، جن میں نائب وزیر دفاع مسعود اورائی بھی شامل تھے۔ یہ دورہ اس سے قبل میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا تھا۔

اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ چین کی جانب سے ایران کو منتقل ہونے والا جدید ترین فوجی سازوسامان تصور کیا جائے گا۔

پابندیاں اور عالمی سیاسی تناظر

یہ ممکنہ معاہدہ اقوام متحدہ کی ان پابندیوں کے منافی سمجھا جا رہا ہے جو پہلی بار 2006 میں ایران پر عائد کی گئی تھیں، 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت معطل ہوئیں اور گزشتہ سال دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت چین، ایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی و سیاسی تعاون کی عکاس ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے مقابل ایک نیا بلاک تشکیل دے رہا ہے۔

امریکی بحری طاقت کی غیر معمولی تعیناتی

اسی دوران امریکہ نے ایران کے قریب ایک بڑا بحری بیڑہ تعینات کر دیا ہے، جس میں طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور اس کا اسٹرائیک گروپ شامل ہے، جبکہ USS Gerald R. Ford اور اس کے محافظ جہاز بھی خطے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دونوں بحری گروپس مجموعی طور پر 5,000 سے زائد اہلکار اور تقریباً 150 جنگی طیارے لے جا سکتے ہیں۔

چین کی سرکاری دفاعی کمپنی China Aerospace Science and Industry Corporation کے مطابق CM-302 میزائل طیارہ بردار بحری جہاز یا تباہ کن جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام بحری جہازوں، طیاروں یا موبائل زمینی لانچرز سے فائر کیا جا سکتا ہے اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیل کس طرح مشرق وسطیٰ میں ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟

چین۔ایران دفاعی تعلقات میں وسعت

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران صرف CM-302 تک محدود نہیں بلکہ چین سے دیگر دفاعی نظاموں پر بھی بات چیت کر رہا ہے، جن میں فضائی دفاعی میزائل، MANPADS، اینٹی بیلسٹک اور اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتیں شامل ہیں۔

گزشتہ برس بیجنگ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران چینی صدر Xi Jinping نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ چین ایران کی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے بعد چین، روس اور ایران نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کی مخالفت بھی کی۔

جنگ کے بعد ایرانی عسکری ذخیرے کی بحالی

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر پیٹر ویزمین کے مطابق، CM-302 میزائلوں کی خریداری ایران کے اس عسکری ذخیرے کو مضبوط کرے گی جو گزشتہ برس کی جنگ اور طویل پابندیوں کے باعث متاثر ہوا ہے۔

چین 1980 کی دہائی میں ایران کا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک تھا، تاہم 1990 کے بعد یہ تعاون محدود ہو گیا۔ حالیہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امریکی حکمت عملی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین