ہفتہ, 28 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران–امریکہ کشیدگی: ترکی تمام ممکنہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی مسترد

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ترکی ممکنہ اقدامات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ بات ایک ترک سفارتی ذریعے نے Reuters کو بتائی۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق اگر سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تو معاہدہ “قریب” ہے۔

ترکی کا مؤقف: تیاری بھی، جنگ کی مخالفت بھی

NATO کا رکن اور ایران کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ترکی کسی بھی ممکنہ تصادم سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ انقرہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔

ترک سفارتی ذریعے کے مطابق:

  • اگر صورتحال بگڑتی ہے تو تمام ممکنہ منظرنامے زیرِ غور ہیں
  • ایسے اقدامات پر کام ہو رہا ہے جن سے ترک شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے
  • تاہم ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں

ذریعے نے واضح کیا کہ ترکی ایسے کسی اقدام پر غور نہیں کر رہا جو ایران کی سرحد یا علاقائی سالمیت کو متاثر کرے۔

Image

سفارت کاری پر زور

ترکی نے حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن دونوں سے رابطے رکھے ہیں۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ تنازعات کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں  ترکی کا روسی S-400 واپس کرنے پر غور، امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے اور F-35 پروگرام میں واپسی کی کوشش

ترک حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ زیرِ غور اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ترکی محتاط اور متوازن حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

افواہوں کی تردید

اس سے قبل ترکی کے صدارتی دفتر برائے انسدادِ غلط معلومات نے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ترکی ممکنہ پناہ گزین بحران روکنے کے لیے ایرانی علاقے میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ترک حکام کے مطابق یہ رپورٹس بے بنیاد ہیں۔

نازک توازن کی حکمتِ عملی

ترکی اس وقت ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے:

  • ایک طرف بدترین حالات کے لیے تیاری
  • دوسری طرف جنگ سے دوری اور علاقائی استحکام پر زور

جب تک ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، انقرہ خود کو براہِ راست تصادم سے دور رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی پالیسی پر قائم دکھائی دیتا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین