ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ مالی فوائد والے تجارتی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جن میں تیل، گیس اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔
یہ پیشکش فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ایران امید کر رہا ہے کہ ایسی مالی پیشکشیں ٹرمپ کے “ڈیل میکر” تاثر کو متاثر کر سکتی ہیں اور جوہری تنازع میں سفارتی حل کے دروازے کھول سکتی ہیں۔
آج جمعرات کو جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر شریک ہوں گے۔
ایران کی پیشکش کیا ہے؟
ایران کے باخبر ذرائع کے مطابق، تہران نے امریکا کو تیل اور گیس کے ذخائر، کان کنی کے حقوق اور اہم معدنیات میں سرمایہ کاری کا موقع دینے کی بات کی ہے تاکہ امریکا کے لیے بڑی مالی واپسی والا موقع پیدا کیا جا سکے۔ رپورٹ میں اس کو “کمرشل بُنانزا” کہا گیا ہے، جو خاص طور پر ٹرمپ کو متوجہ کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔
یہ پیشکش فی الحال باضابطہ طور پر امریکا کو نہیں دی گئی، لیکن ایران اور اس کے ثالثوں کے درمیان اس موضوع پر مباحثے ہوئے ہیں، اور ایران نے تیل کی فروخت پر عائد ہونے والی نئی امریکی پابندیوں کے تناظر میں مزید مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امریکا کا ردِعمل اور مذاکرات کی حقیقت
ایک بڑے امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ اب تک کوئی بھی تجارتی پیشکش امریکا کو باضابطہ طور پر نہیں دی گئی، اور صدر ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور نہ ہی اس کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
یہ پیشکش اسی وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں ایران کی “شیڈو فلیٹ” کے ذریعے غیر قانونی تیل کی فروخت اور ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ: ایران کی حکمتِ عملی
ایران کی یہ حکمتِ عملی دو پہلو رکھتی ہے:
معاشی مراعات کے ذریعے سفارتی دروازے کھولنا
ایران شاید سمجھتا ہے کہ اگر امریکا کو تجارتی فائدے کا موقع ملے تو وہ سخت موقف چھوڑ کر مذاکرات کی طرف راغب ہو سکتا ہے۔امریکی دباؤ کا مقابلہ
امریکا نے ایران پر سخت پابندیاں لگائی ہیں، خاص طور پر ایسے جہازوں اور افراد پر جو ایران کے تیل کے کاروبار اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل ہیں۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، جیسا کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکین نے دو مرتبہ واضح کیا ہے۔
مذاکرات کی سمت اور تحریک
ایران جنیوا میں مذاکرات میں لچک دکھانے کا اشارہ دے رہا ہے، خاص طور پر اس نے سفارتکاری پر زور دیا ہے اور جوہری معاہدے کو بچانے کی بات کی ہے۔
امریکا فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، اور ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک معاہدہ صرف سفارت کاری کو ترجیح دینے پر ممکن ہے۔
اگر ایران کی پیشکش سے مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ ممکنہ طور پر نے رواں سال کے اہم ترین سفارتی پیش رفت میں شمار ہو سکتی ہے — نہ صرف جس میں ایران اور امریکا کے تعلقات ہوں بلکہ خطے میں امن اور اقتصادی تعاون کو بھی متاثر کر سکے۔




