بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کی بحری طاقت اور امریکی چیلنج: میزائل، آبدوزیں اور Swarm وارفیئر کی حقیقت

ایران گزشتہ کئی برسوں سے اپنی بحری صلاحیتوں میں بتدریج لیکن مستقل اضافہ کر رہا ہے، تاہم یہ اضافہ روایتی بحری برتری حاصل کرنے کے بجائے اسیمیٹرک (غیر روایتی) جنگی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔

ایرانی بحری قوت دو الگ ڈھانچوں پر مشتمل ہے:

  1. اسلامک ریپبلک آف ایران نیوی (IRIN) — روایتی بحریہ
  2. اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نیوی (IRGCN) — تیز رفتار اور ساحلی کارروائیوں پر مرکوز فورس

کیا ایران کے پاس واقعی 2,000 میزائل لانچرز ہیں؟

مصدقہ مغربی اور بین الاقوامی عسکری تجزیوں کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں علیحدہ میزائل لانچرز ہونے کا دعویٰ براہِ راست تصدیق شدہ نہیں ہے۔
البتہ یہ بات درست ہے کہ ایران کے پاس:

  • بڑی تعداد میں موبائل لانچرز
  • ساحلی بیٹریز
  • تیز رفتار کشتیوں اور بحری پلیٹ فارمز پر نصب میزائل سسٹمز
    موجود ہیں، جو مجموعی طور پر سچوریشن اٹیک (Saturation Attack) کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

سمندری بارودی سرنگیں (Sea Mines)

امریکی اور یورپی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں، جنہیں اسٹرائٹ آف ہرمز جیسے حساس آبی راستوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایران کے سب سے مؤثر بحری ہتھیاروں میں شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ عالمی تجارت کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہیں۔

ایران کی آبدوزی قوت

ایران کے پاس تقریباً 25 سے 30 آبدوزیں ہیں:

  • کلو کلاس (3) — روسی ساختہ، نسبتاً بڑی
  • فاتح کلاس (3–4) — مقامی طور پر تیار کردہ
  • غدیر کلاس (20 سے زائد) — چھوٹی، کم گہرے پانیوں میں گھات لگانے کے لیے موزوں

یہ آبدوزیں:

  • بارودی سرنگیں بچھانے
  • اچانک حملے
  • محدود رینج کے کروز میزائل فائر کرنے
    کی صلاحیت رکھتی ہیں، مگر یہ امریکی نیوکلیئر آبدوزوں کا متبادل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں  ایران نے امریکہ سے رابطے کھلے رکھنے کی تصدیق کر دی، ٹرمپ کا سخت اقدامات پر غور

تیز رفتار کشتیاں اور اسوارم حکمتِ عملی

ایران کی اصل طاقت سینکڑوں تیز رفتار مسلح کشتیاں ہیں، جو:

  • ایک ساتھ حملہ (Swarm Attack)
  • ریڈار کو الجھانا
  • محدود فاصلے پر میزائل اور راکٹ فائر
    کرنے کی تربیت رکھتی ہیں۔

یہ کشتیاں کھلے سمندر میں تو کمزور ہیں، لیکن اسٹرائٹ آف ہرمز جیسے تنگ راستوں میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

بڑے بحری جہاز اور کٹیمران

ایران کے پاس محدود تعداد میں:

  • فریگیٹس
  • سپورٹ شپس
  • شاہد سلیمانی کلاس کٹیمران
    موجود ہیں، جو میزائل پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں، مگر یہ امریکی ڈسٹرائرز یا ایئرکرافٹ کیریئرز کا متبادل نہیں۔

کیا ایران امریکہ کو بحری جنگ میں شکست دے سکتا ہے؟

عسکری ماہرین کے مطابق:

  • ایران امریکہ کو روایتی بحری جنگ میں شکست نہیں دے سکتا
  • مگر وہ شدید نقصان، تاخیر اور عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے

اگر کسی ممکنہ تصادم کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہو تو صرف بحری قوت ناکافی ہو گی۔ لیکن اگر مقصد:

  • دباؤ ڈالنا
  • محدود حملہ
  • یا علاقائی پیغام دینا
    ہو، تو ایران کی موجودہ بحری صلاحیتیں خطرناک حد تک مؤثر ہو سکتی ہیں۔

عالمی اثرات

کسی بھی بڑی فوجی جھڑپ کی صورت میں:

  • تیل کی قیمتیں شدید متاثر ہوں گی
  • عالمی سپلائی چین میں خلل آئے گا
  • خلیجی خطہ براہِ راست جنگی زون بن سکتا ہے

ایران تقریباً 9 کروڑ آبادی والا ملک ہے، اور ماہرین متفق ہیں کہ ایران پر وسیع حملہ مکمل جنگ کے مترادف ہو گا، نہ کہ محدود فوجی کارروائی۔

خلاصہ

ایران کی بحری طاقت تعداد میں نہیں بلکہ حکمتِ عملی، جغرافیہ اور اسیمیٹرک وارفیئر میں پوشیدہ ہے۔ یہی پہلو اسے خطے میں ایک خطرناک مگر محتاط انداز میں استعمال ہونے والی قوت بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران فوج کو 1,000 نئے ڈرونز کی فراہمی، آبنائے ہرمز میں لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین