بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

سعودی–پاکستان–ترکی دفاعی اتحاد ناگزیر؟ سابق قطری وزیرِاعظم کا اہم بیان

قطر کے سابق وزیرِاعظم حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے، جس میں مستقبل میں ترکی اور ممکنہ طور پر مصر اور خلیجی ممالک کی شمولیت بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی مغربی، بالخصوص امریکی، پالیسیوں کے تناظر میں یہ اتحاد علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ایک ضروری قدم بن سکتا ہے۔

حمد بن جاسم کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ روایتی عالمی طاقتوں پر مکمل انحصار طویل المدتی سلامتی کی ضمانت نہیں رہا، اس لیے ایک خود انحصار علاقائی سکیورٹی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

بدلتا ہوا عالمی اور علاقائی منظرنامہ

سابق قطری وزیرِاعظم کے بیان کو اس وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے، جبکہ یوکرین اور انڈو پیسیفک خطے پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔

اس صورتحال میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کے لیے یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ کیا وہ اپنی سلامتی کا انحصار مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر رکھ سکتے ہیں یا انہیں مشترکہ علاقائی صلاحیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔

ممکنہ اتحاد کی اسٹریٹجک بنیادیں

اس مجوزہ دفاعی اتحاد میں ہر ملک منفرد صلاحیت لے کر آتا ہے:

  • سعودی عرب: مالی وسائل، توانائی اور عرب دنیا میں سیاسی اثر
  • پاکستان: ایٹمی صلاحیت، بڑی اور تجربہ کار مسلح افواج
  • ترکی: جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور عملی عسکری تجربہ
یہ بھی پڑھیں  نیا دفاعی بلاک؟ ترکی سعودی عرب–پاکستان دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہاں

یہ امتزاج ایک ایسے دفاعی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے جو نہ صرف عسکری بلکہ تکنیکی اور صنعتی سطح پر بھی خود کفیل ہو۔

ایران کے خلاف نہیں، استحکام کے لیے

حمد بن جاسم نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق محاذ آرائی پر مبنی بلاکس نے ماضی میں خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے، جبکہ مستقبل کا راستہ توازن، سفارت کاری اور ڈیٹرنس پر مبنی ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف حالیہ سعودی-ایران مفاہمتی عمل اور خلیجی ممالک کی ڈی اسکیلیشن پالیسی سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

صرف فوجی نہیں، ہمہ جہتی تعاون

سابق قطری وزیرِاعظم کے مطابق یہ اتحاد محض فوجی تعاون تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں:

  • معاشی شراکت داری
  • سیاسی مشاورت
  • دفاعی صنعت میں اشتراک
  • علاقائی بحرانوں کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی

شامل ہونی چاہیے، تاکہ یہ اتحاد وقتی نہیں بلکہ پائیدار اور مؤثر بن سکے۔

واضح چارٹر کی ضرورت

حمد بن جاسم نے خبردار کیا کہ اگر اس اتحاد کی بنیاد ایک واضح، اچھی طرح سوچے سمجھے چارٹر پر نہ رکھی گئی تو یہ محض ایک علامتی فورم بن کر رہ جائے گا۔

ان کے مطابق رکن ممالک کی خودمختاری کا احترام، فیصلہ سازی کا شفاف طریقہ، اور طویل المدتی اہداف کی وضاحت اس اتحاد کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہوگی۔

مسلم دنیا اور آسیائی سیاست پر اثرات

اگر اس اتحاد میں مصر اور دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہو جاتے ہیں تو یہ مسلم دنیا کے سب سے اہم اسٹریٹجک پلیٹ فارمز میں سے ایک بن سکتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور مشرقی بحیرہ روم کو آپس میں جوڑ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں  فرانس کے سورس کوڈ انکار کے باوجود ہندوستان رافیل ڈریم کے تعاقب میں

پاکستان کے لیے یہ کردار اسے ایک پل ریاست (Bridge State) کی حیثیت دے سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکی کو علاقائی ڈیٹرنس اور سفارتی وزن میں اضافہ حاصل ہوگا۔

نتیجہ

حمد بن جاسم کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلم دنیا میں اب سلامتی کو نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے—جہاں خود انحصاری، علاقائی تعاون اور توازن مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔

یہ اتحاد حقیقت بنے یا نہیں، مگر اس پر ہونے والی بحث واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں علاقائی سلامتی کا دارومدار بیرونی طاقتوں سے زیادہ مشترکہ علاقائی صلاحیت پر ہوگا۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین