قطر کے سابق وزیرِاعظم حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے، جس میں مستقبل میں ترکی اور ممکنہ طور پر مصر اور خلیجی ممالک کی شمولیت بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی مغربی، بالخصوص امریکی، پالیسیوں کے تناظر میں یہ اتحاد علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ایک ضروری قدم بن سکتا ہے۔
حمد بن جاسم کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ روایتی عالمی طاقتوں پر مکمل انحصار طویل المدتی سلامتی کی ضمانت نہیں رہا، اس لیے ایک خود انحصار علاقائی سکیورٹی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
بدلتا ہوا عالمی اور علاقائی منظرنامہ
سابق قطری وزیرِاعظم کے بیان کو اس وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہا ہے، جبکہ یوکرین اور انڈو پیسیفک خطے پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کے لیے یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ کیا وہ اپنی سلامتی کا انحصار مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر رکھ سکتے ہیں یا انہیں مشترکہ علاقائی صلاحیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
ممکنہ اتحاد کی اسٹریٹجک بنیادیں
اس مجوزہ دفاعی اتحاد میں ہر ملک منفرد صلاحیت لے کر آتا ہے:
- سعودی عرب: مالی وسائل، توانائی اور عرب دنیا میں سیاسی اثر
- پاکستان: ایٹمی صلاحیت، بڑی اور تجربہ کار مسلح افواج
- ترکی: جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور عملی عسکری تجربہ
یہ امتزاج ایک ایسے دفاعی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے جو نہ صرف عسکری بلکہ تکنیکی اور صنعتی سطح پر بھی خود کفیل ہو۔
ایران کے خلاف نہیں، استحکام کے لیے
حمد بن جاسم نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق محاذ آرائی پر مبنی بلاکس نے ماضی میں خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے، جبکہ مستقبل کا راستہ توازن، سفارت کاری اور ڈیٹرنس پر مبنی ہونا چاہیے۔
یہ مؤقف حالیہ سعودی-ایران مفاہمتی عمل اور خلیجی ممالک کی ڈی اسکیلیشن پالیسی سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
صرف فوجی نہیں، ہمہ جہتی تعاون
سابق قطری وزیرِاعظم کے مطابق یہ اتحاد محض فوجی تعاون تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں:
- معاشی شراکت داری
- سیاسی مشاورت
- دفاعی صنعت میں اشتراک
- علاقائی بحرانوں کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی
شامل ہونی چاہیے، تاکہ یہ اتحاد وقتی نہیں بلکہ پائیدار اور مؤثر بن سکے۔
واضح چارٹر کی ضرورت
حمد بن جاسم نے خبردار کیا کہ اگر اس اتحاد کی بنیاد ایک واضح، اچھی طرح سوچے سمجھے چارٹر پر نہ رکھی گئی تو یہ محض ایک علامتی فورم بن کر رہ جائے گا۔
ان کے مطابق رکن ممالک کی خودمختاری کا احترام، فیصلہ سازی کا شفاف طریقہ، اور طویل المدتی اہداف کی وضاحت اس اتحاد کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہوگی۔
مسلم دنیا اور آسیائی سیاست پر اثرات
اگر اس اتحاد میں مصر اور دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہو جاتے ہیں تو یہ مسلم دنیا کے سب سے اہم اسٹریٹجک پلیٹ فارمز میں سے ایک بن سکتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور مشرقی بحیرہ روم کو آپس میں جوڑ دے گا۔
پاکستان کے لیے یہ کردار اسے ایک پل ریاست (Bridge State) کی حیثیت دے سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکی کو علاقائی ڈیٹرنس اور سفارتی وزن میں اضافہ حاصل ہوگا۔
نتیجہ
حمد بن جاسم کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلم دنیا میں اب سلامتی کو نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے—جہاں خود انحصاری، علاقائی تعاون اور توازن مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔
یہ اتحاد حقیقت بنے یا نہیں، مگر اس پر ہونے والی بحث واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں علاقائی سلامتی کا دارومدار بیرونی طاقتوں سے زیادہ مشترکہ علاقائی صلاحیت پر ہوگا۔




