جمعہ, 13 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

اٹلی کی GCAP میں بھاری سرمایہ کاری: یورپ کے چھٹی نسل کے فائٹر پروگرام کی سمت میں فیصلہ کن موڑ

اٹلی کی پارلیمنٹ نے گلوبل کامبیٹ ایئر پروگرام (GCAP) کے ابتدائی ترقیاتی مراحل کے لیے 8.77 ارب یورو کی منظوری دے دی ہے، جو ملک کی جدید عسکری تاریخ کے مہنگے ترین فضائی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ منظوری 2037 تک سالانہ اقساط میں رقوم کی فراہمی کا احاطہ کرتی ہے اور اس امر کی علامت ہے کہ روم چھٹی نسل کی فضائی صلاحیتوں کو ایک طویل المدتی اسٹریٹجک ترجیح سمجھتا ہے ۔

یہ رقم اٹلی کے مجموعی متوقع GCAP حصے—تقریباً 18.6 ارب یورو—کا حصہ ہے، جو 2021 کے ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے باوجود حکومت اس منصوبے کو محض ایک لڑاکا طیارے کی خریداری نہیں بلکہ ٹیکنالوجیکل خودمختاری اور مساوی شراکت میں سرمایہ کاری کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

GCAP کیا ہے؟

Global Combat Air Programme کا باضابطہ آغاز دسمبر 2022 میں ہوا، جب Italy، United Kingdom اور Japan نے اپنے الگ الگ چھٹی نسل کے فائٹر پروگرامز کو یکجا کیا۔ ہدف یہ ہے کہ 2035 تک ایک آپریشنل نظام میدان میں لایا جائے ۔

GCAP کو ایک واحد پلیٹ فارم کے بجائے “سسٹم آف سسٹمز” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں مرکزی انسان بردار فائٹر، بغیر پائلٹ معاون جنگی طیارے، مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی، جدید سینسرز اور ایک مربوط کامبیٹ کلاؤڈ نیٹ ورک شامل ہے۔

صنعتی ڈھانچہ اور شراکت

GCAP کی صنعتی ساخت سابقہ یورپی دفاعی منصوبوں سے حاصل شدہ اسباق کی عکاسی کرتی ہے۔ BAE Systems برطانیہ کی جانب سے ایئر فریم اور مجموعی انضمام کی ذمہ دار ہے، Leonardo اٹلی میں سسٹمز، ہتھیاروں اور تربیتی انضمام کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ Mitsubishi Heavy Industries جاپان میں ایئر فریم اور سسٹمز کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب امریکا کے ساتھ جامع دفاعی معاہدہ کے مقصد سے پیچھے ہٹ گیا

اہم بات یہ ہے کہ شراکت داری میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ دانشورانہ حقوق کی شقیں شامل ہیں، جو ماضی کے منصوبوں میں سامنے آنے والی عدم مساوات کو کم کرنے کی کوشش ہیں۔

بڑھتی لاگت اور سیاسی نگرانی

منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت نے اندرونِ ملک سیاسی سوالات کو جنم دیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ GCAP اب اٹلی کے F-35 پروگرام سے بھی مہنگا ہو چکا ہے۔ ناقدین شفافیت اور اخراجات کی وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود حکومتی مؤقف یہ ہے کہ چھٹی نسل کی فضائی صلاحیتیں مستقبل کی ڈیٹرنس کے لیے ناگزیر ہیں۔ دفاعی حکام کے مطابق GCAP میں اٹلی پہلی بار برابر کی سطح پر فیصلہ سازی کا کردار ادا کر رہا ہے، جو اس سرمایہ کاری کو اسٹریٹجک حیثیت دیتا ہے ۔

یورپی تناظر: GCAP بمقابلہ FCAS

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپ کے متبادل پروگرام Future Combat Air System (FCAS) کو صنعتی اختلافات اور شیڈول تاخیر کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق Germany GCAP میں شمولیت پر غور کر رہا ہے، جو یورپی فضائی دفاعی تعاون میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے ۔

اگر ایسا ہوا تو یورپ میں چھٹی نسل کے فائٹر کی ترقی بڑی حد تک GCAP کے گرد مرکوز ہو سکتی ہے۔

یورپ سے آگے اسٹریٹجک اثرات

GCAP کی ساخت نہ صرف یورپی بلکہ انڈو پیسیفک سکیورٹی ماحول سے بھی ہم آہنگ ہے۔ جاپان کی شمولیت اور نیٹو معیار کی انٹرآپریبلٹی اس پروگرام کو وسیع اتحادی تناظر میں قابلِ قدر بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  غزہ کے متعلق ٹرمپ کا حیران کن موقف ان کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس

آسٹریلیا، سعودی عرب اور کینیڈا جیسے ممالک کی دلچسپی اس کی ممکنہ توسیع کی نشاندہی کرتی ہے، اگرچہ اس سے گورننس اور ٹیکنالوجی شیئرنگ کے نئے چیلنجز بھی جنم لیں گے ۔

نتیجہ

اٹلی کی جانب سے GCAP کے لیے بھاری مالی منظوری ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے: مستقبل کی فضائی برتری صرف جدید طیارے سے نہیں بلکہ مربوط نظام، صنعتی خودمختاری اور قابلِ اعتماد شراکت داری سے حاصل ہو گی۔
اگرچہ لاگت اور سیاستی دباؤ برقرار ہیں، مگر GCAP کی مستحکم پیش رفت اسے یورپ کے چھٹی نسل کے فضائی مستقبل کا مرکزی ستون بنا سکتی ہے۔

2030 کی دہائی میں جب ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹرز پرواز کریں گے اور 2035 کا ہدف قریب آئے گا، GCAP محض ایک نیا فائٹر نہیں بلکہ عسکری تعاون کے ایک نئے ماڈل کی نمائندگی کرے گا ۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین