بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکہ اور ریتھیون کے طویل المدتی معاہدے، Tomahawk اور AMRAAM میزائلوں کی پیداوار میں بڑا اضافہ

Raytheon نے امریکی United States Department of Defense کے ساتھ پانچ بڑے فریم ورک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد اہم میزائل نظاموں کی پیداوار میں نمایاں اور دیرپا اضافہ کرنا ہے۔

یہ معاہدے، جن کی مدت سات سال تک ہو سکتی ہے، امریکی اور اتحادی افواج میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر Tomahawk کروز میزائل، AMRAAM فضائی میزائل اور Standard Missile خاندان کے مختلف ورژنز کی سالانہ پیداوار اور ترسیل کی رفتار بڑھانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

کن میزائل نظاموں کی پیداوار بڑھائی جائے گی

ریتهیون کے مطابق ان معاہدوں کے تحت درج ذیل نظام شامل ہیں:

  • Tomahawk Land Attack اور Maritime Strike میزائل
  • AIM-120 AMRAAM فضائی میزائل
  • SM-3 Block IB بیلسٹک میزائل دفاعی انٹرسیپٹر
  • SM-3 Block IIA انٹرسیپٹر
  • SM-6 ملٹی مشن میزائل

یہ تمام نظام امریکی اور اتحادی افواج کی اسٹرائیک، ایئر ڈیفنس اور میزائل ڈیفنس صلاحیتوں کا مرکزی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

پیداوار کے اہداف: وقتی اضافہ نہیں، ساختی تبدیلی

ریتهیون کے مطابق معاہدوں کی بدولت کمپنی درج ذیل سطح تک پیداوار بڑھانے کی صلاحیت حاصل کرے گی:

  • سالانہ ایک ہزار سے زائد Tomahawk میزائل
  • کم از کم 1,900 AMRAAM میزائل سالانہ
  • سالانہ 500 سے زائد SM-6 میزائل

اس کے علاوہ SM-3 Block IIA کی پیداوار میں اضافہ اور SM-3 Block IB کی ترسیل میں تیزی لانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

RTX کے مطابق، ان میں سے کئی میزائلوں کی پیداوار موجودہ سطح کے مقابلے میں دو سے چار گنا تک بڑھ سکتی ہے، جو دفاعی صنعت میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور امریکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق Inspired Gambit–2026 کا پبی میں آغاز

صنعتی حکمتِ عملی: ہنگامی ردعمل سے مستقل صلاحیت تک

RTX کے چیف ایگزیکٹو کرس کیلیو کے مطابق یہ معاہدے روایتی، قلیل مدتی دفاعی خریداری کے ماڈل سے ہٹ کر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فریم ورک معاہدے حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کے طریقۂ کار کو ازسرِنو متعین کرتے ہیں اور اہم عسکری ٹیکنالوجی کی ترسیل میں رفتار پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ انہوں نے ان معاہدوں کو امریکی انتظامیہ کی Acquisition Transformation Strategy سے بھی منسلک قرار دیا۔

اس ماڈل کے تحت صنعت کو طویل المدتی یقین دہانی ملتی ہے، جس سے سرمایہ کاری، افرادی قوت میں اضافہ اور پیداواری خودکاری ممکن ہوتی ہے۔

پیداوار کہاں ہوگی

میزائلوں کی تیاری اور انضمام (integration) ریتهیون کی درج ذیل تنصیبات میں کی جائے گی:

  • ٹوسان، ایریزونا
  • ہنٹس وِل، الاباما
  • اینڈوور، میساچوسٹس

کمپنی کے مطابق وہ پہلے ہی پیداواری صلاحیت میں توسیع پر بھاری سرمایہ کاری کر چکی ہے اور آئندہ بھی فیکٹریوں، ورک فورس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگاتی رہے گی تاکہ بلند پیداواری سطح برقرار رکھی جا سکے۔

وسیع تر تناظر: میزائل ذخائر بطور تزویراتی چیلنج

یہ معاہدے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ حالیہ تنازعات اور بڑھتی عالمی کشیدگی کے بعد اعلیٰ درجے کے میزائل ذخائر ایک بنیادی اسٹریٹجک مسئلہ بن چکے ہیں۔

Tomahawk اور SM-6 بحری اور فضائی دفاعی آپریشنز کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ AMRAAM امریکی اور کئی اتحادی فضائی افواج کا مرکزی بیونڈ ویژول رینج میزائل ہے۔ SM-3 انٹرسیپٹرز امریکی اور جاپانی Aegis نظام سمیت متعدد میزائل دفاعی ڈھانچوں کی بنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  امارات کے تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کے لیے لاک ہیڈ مارٹن کو 142.6 ملین ڈالر کا نیا کنٹریکٹ مل گیا

اتحادی افواج اور ڈیٹرنس پر اثرات

اگرچہ معاہدے امریکی ضرورت کے تحت کیے گئے ہیں، تاہم ان کے اثرات اتحادی ممالک تک بھی پھیلتے ہیں۔ پیداوار میں اضافہ:

  • ترسیل کے وقت میں کمی
  • ذخائر کی پائیداری
  • اور طویل المدتی آپریشنل منصوبہ بندی

کو زیادہ قابلِ اعتماد بناتا ہے۔

ڈیٹرنس کے تناظر میں، یہ اقدام اس خطرے کو کم کرتا ہے کہ کسی طویل یا شدید بحران میں میزائل ذخائر فیصلہ کن رکاوٹ بن جائیں۔

نتیجہ: دفاعی پیداوار میں خاموش مگر بنیادی تبدیلی

ریتهیون اور امریکی وزارتِ دفاع کے درمیان یہ فریم ورک معاہدے کسی ایک ہنگامی صورتحال کا ردعمل نہیں بلکہ امریکی دفاعی صنعت کی طویل المدتی تنظیمِ نو کی علامت ہیں۔

یہ معاہدے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ مستقبل کی تزویراتی مسابقت میں پیداواری صلاحیت بذاتِ خود ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہو گی، نہ کہ صرف ہتھیاروں کی تعداد۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین