قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور پاکستان کی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی کا نوٹس لیا گیا۔ کونسل نے پاک فوج کو اپنی صوابدید پر جواب دینے کا اختیار دیا ہے۔
ہندوستان کے بلا اشتعال فضائی حملوں کے بعد، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 پاکستانی جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے، این ایس سی نے ان کارروائیوں کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر سخت مذمت کی۔
وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے کہا کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے جان بوجھ کر عام شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا ایک قابل مذمت جرم ہے جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانونی معیارات کے منافی ہے۔
قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی معتبر، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک حقیقی تجویز پیش کی تھی، افسوس جسے مسترد کر دیا گیا۔ این ایس سی نے معصوم شہریوں پر حملوں اور گمراہ کن سیاسی عزائم کو پورا کرنے کی کوشش میں بے بنیاد دعووں کا سہارا لینے پر بھارتی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
این ایس سی نے مزید کہا کہ پاکستان کی معصوم آبادی کے خلاف ایسی کارروائیاں ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہیں۔ بھارت نے لاپرواہی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے نتائج کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔
بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پاک فوج نے ثابت قدمی سے ملک کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق، پاکستان معصوم جانوں کے ضیاع اور اپنی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے اپنے انتخاب کے وقت اور انداز میں اپنے دفاع میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو اس تناظر میں ضروری اقدامات کرنے کا باضابطہ اختیار دیا گیا ہے۔