بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

نیٹو آرکٹک سکیورٹی بڑھانے کے لیے تیار، ڈنمارک نے گرین لینڈ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ مسترد کر دیا

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے بعد اتحاد آرکٹک خطے میں سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے فریم ورک پر کام کر رہا ہے، جس کے عملی نتائج 2026 کے آغاز تک سامنے آنے کی توقع ہے۔

عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے موقع پر ڈیووس میں خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ نیٹو جلد ہی اپنے سینئر فوجی کمانڈرز کا اجلاس بلائے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آرکٹک کی حفاظت کے لیے کن اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔

“ہم نیٹو کے پلیٹ فارم پر اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے ساتھ مل کر یہ طے کریں گے کہ کیا ضروری ہے،” روٹے نے کہا۔
“مجھے پورا یقین ہے کہ ہم یہ کام تیزی سے کر سکتے ہیں۔ میری امید ہے کہ 2026 میں، بلکہ ممکن ہو تو 2026 کے آغاز میں، نتائج سامنے آ جائیں گے۔”

یوکرین متاثر نہیں ہوگا

مارک روٹے نے اس بات پر زور دیا کہ آرکٹک سکیورٹی میں اضافے سے نیٹو کی یوکرین کے لیے فوجی اور سیاسی حمایت متاثر نہیں ہوگی، جہاں روس کے خلاف جنگ بدستور جاری ہے۔

آرکٹک خطہ عالمی طاقتوں کے لیے تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ برف پگھلنے کے باعث نئے بحری راستے کھل رہے ہیں اور قدرتی وسائل تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں روس نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جبکہ چین بھی معاشی اور سائنسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  عرب ریاستوں نے تہران کو اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران غیرجانبدار رہنے کی یقین دہانی کرادی

روٹے نے ڈیووس میں کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر غور کیا گیا کہ نیٹو ممالک کس طرح اجتماعی طور پر یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ “آرکٹک محفوظ رہے اور روس اور چین اس خطے سے دور رہیں۔”

گرین لینڈ، ٹیرف اور ٹرمپ کا یوٹرن

یہ گفتگو اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ایک فریم ورک طے پا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے یورپی ممالک پر مجوزہ تجارتی ٹیرف عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ ان کی گرین لینڈ سے متعلق خواہشات کی مخالفت کر رہے تھے۔

مارک روٹے نے واضح کیا کہ ان کی ملاقات میں گرین لینڈ میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) کی کان کنی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری زیرِ بحث آئی ہو۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ روٹے نے مذاکرات کے دوران ڈنمارک کی خودمختاری پر کسی قسم کے “سمجھوتے” کی تجویز پیش نہیں کی۔

ڈنمارک کی دوٹوک پوزیشن

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے صدر ٹرمپ کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کی خودمختاری پر کسی صورت بات چیت نہیں کرے گا۔

“ہم سکیورٹی، سرمایہ کاری اور معیشت جیسے تمام سیاسی معاملات پر بات چیت کر سکتے ہیں،” فریڈرکسن نے بیان میں کہا۔
“لیکن ہم اپنی خودمختاری پر مذاکرات نہیں کر سکتے۔”

انہوں نے کہا کہ مملکتِ ڈنمارک اپنے اتحادیوں کے ساتھ آرکٹک میں سکیورٹی مضبوط بنانے پر تعمیری مکالمے کے لیے تیار ہے، جن میں امریکی ‘گولڈن ڈوم’ دفاعی منصوبہ بھی شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت اور چین نے ایل اے سی پر سرحدی گشت کے حوالے سے اہم معاہدہ کر لیا

میٹے فریڈرکسن اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کے ان مطالبات کو مسترد کرتی رہی ہیں جن میں امریکہ کے گرین لینڈ پر کنٹرول کی بات کی گئی تھی۔ گرین لینڈ ایک خودمختار آرکٹک علاقہ ہے جو مملکتِ ڈنمارک کا حصہ ہے۔

آرکٹک میں بڑھتی عالمی کشمکش

یہ پیش رفت آرکٹک میں بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے، جہاں نیٹو روس کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گرین لینڈ اپنی جغرافیائی اہمیت، ممکنہ معدنی وسائل اور شمالی امریکا و یورپ کے درمیان اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث اس بحث کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیوں سے دستبرداری نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ فوری تناؤ کم کیا ہے، تاہم آرکٹک سکیورٹی اور گرین لینڈ کے کردار پر بحث آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

انعم کاظمی
انعم کاظمی
انعم کاظمی پاکستانی صحافت کا ابھرتا ستارہ ہیں، دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز پر کرنٹ افیئرز کے پروگرامز میں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور کانٹینٹ کنٹریبیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ بھی تعلق رہا، ڈیفنس ٹاکس میں کالم نگار ہیں۔ بین الاقوامی اور سکیورٹی ایشوز پر لکھتی ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین