اسرائیل اور امریکا کے تعلقات عموماً قریبی اور ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں، لیکن غزہ کے مستقبل پر اب ایک واضح دراڑ سامنے آ گئی ہے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کیا گیا ایک غیر معمولی اور سخت لہجے کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد وہاں کون حکومت کرے گا، اس سوال پر تل ابیب اور واشنگٹن آمنے سامنے آ گئے ہیں۔
#BREAKING A rare and unusually blunt statement from Netanyahu’s office exposes a clear rift with the Trump administration over who will govern Gaza.
Prime Minister’s Office:
“The announcement regarding the composition of the Gaza Executive Committee, operating under the Peace…— גיא עזריאל Guy Azriel (@GuyAz) January 17, 2026
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے قیام سے متعلق اعلان اسرائیل سے مشاورت کے بغیر کیا گیا اور یہ اسرائیلی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ معاملہ براہِ راست امریکی وزیر خارجہ کے سامنے اٹھائیں۔
یہ محض سفارتی اختلاف نہیں—یہ ایک سیاسی اشارہ ہے۔
اختلاف کی جڑ کہاں ہے؟
امریکا کی جانب سے سامنے آنے والا منصوبہ بظاہر ایک امن کانفرنس کے تحت غزہ کے عبوری انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد نظم و نسق، استحکام اور بین الاقوامی قبولیت کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم اسرائیل کے لیے یہ منصوبہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
تل ابیب کا مؤقف واضح رہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ میں کوئی ایسا انتظام قبول نہیں کیا جائے گا جو:
- اسرائیل کی سلامتی کنٹرول کو محدود کرے
- بین الاقوامی نگرانی کو مسلط کرے
- یا بالواسطہ طور پر حماس کی واپسی کا راستہ ہموار کرے
اسی لیے اسرائیلی قیادت کسی بھی ایسے سیاسی ڈھانچے کو، جو اس کی رضامندی کے بغیر طے کیا جائے، اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی ترجیحات میں فرق
یہ اختلاف اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کی ترجیحات اب یکساں نہیں رہیں۔
واشنگٹن غزہ میں جلد از جلد استحکام، انسانی بحران کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے—خصوصاً عرب اتحادیوں اور یورپی دباؤ کے تناظر میں۔
اس کے برعکس، اسرائیل کی توجہ طویل المدتی سیکیورٹی کنٹرول، عسکری آزادی اور مستقبل کے حملوں کی روک تھام پر مرکوز ہے۔
نیتن یاہو کا کھلے عام ردعمل اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا غزہ کے مستقبل پر ایسے فیصلے مسلط کر سکتا ہے جو اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔
اندرونی سیاست کا عنصر
یہ بیان اسرائیل کی داخلی سیاست سے بھی جڑا ہے۔
نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں کسی بھی بیرونی مداخلت یا فلسطینی انتظامی ڈھانچے کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔ اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ اسرائیل کو غزہ کے فیصلوں سے باہر رکھا جا رہا ہے، تو یہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی لیے معاملے کو امریکی وزیر خارجہ تک لے جانا ایک واضح پیغام ہے: اسرائیل کو نظرانداز کر کے غزہ کا مستقبل طے نہیں کیا جا سکتا۔
کیا تعلقات میں دراڑ گہری ہو رہی ہے؟
یہ واقعہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے مکمل ٹوٹنے کی علامت نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ حتیٰ کہ نسبتاً ہم خیال ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی غزہ ایک حساس اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے۔
اگر امریکا اپنے منصوبے پر اصرار کرتا ہے تو یہ اختلاف آئندہ جنگ بندی مذاکرات، تعمیرِ نو کے منصوبوں اور علاقائی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
غزہ کا عسکری مرحلہ شاید جاری ہو، مگر اس کے بعد کی سیاسی جنگ اب پوری شدت سے شروع ہو چکی ہے—اور اس میں اتحادی بھی ایک صف میں کھڑے نظر نہیں آ رہے۔




