امریکی صدر Donald Trump نے نئے سال کے آغاز پر جارحانہ اقدامات اور سخت بیانات کے ذریعے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ وینزویلا میں قیادت کی تبدیلی، تیل کے ذخائر پر کنٹرول کے اشارے، Greenland کے الحاق کی بات—even طاقت کے استعمال کا امکان—اور Iran کو دوبارہ حملے کی دھمکیوں نے اتحادیوں اور حریفوں دونوں کو چونکا دیا ہے۔
طاقت کی سیاست کی واپسی
ماہرین کے مطابق ٹرمپ 19ویں صدی کے “اثر و نفوذ کے دائروں” کی سوچ کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں، جہاں طاقتور ریاستیں اپنے حلقۂ اثر میں کھل کر بالادستی قائم کرتی ہیں۔ ناقدین اسے عالمی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
یورپ میں تشویش
یورپی رہنما خصوصاً NATO کے تناظر میں گرین لینڈ پر امریکی مؤقف سے فکرمند ہیں۔ ڈنمارک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جبری اقدام سے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ یورپ دفاعی خود انحصاری بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔
ایشیا اور لاطینی امریکا کا ردعمل
ایشیا میں خدشہ ہے کہ طاقت کے ذریعے “اسٹیٹس کو” بدلنے کی مثالیں خطرناک نظیر بن سکتی ہیں۔ لاطینی امریکا میں اگرچہ ردعمل محتاط ہے، مگر بعض ممالک چین کی طرف جھکاؤ کو بطور توازن دیکھ رہے ہیں۔
تیل، اثرورسوخ اور عالمی پیغام
وینزویلا کے تیل پر توجہ نے “نئی سامراجیت” کے الزامات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ روش Russia اور China کو بھی جارحانہ اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔
آگے کیا؟
ٹرمپ کے بیانات اشارہ دیتے ہیں کہ یہ پالیسی صرف مغربی نصف کرے تک محدود نہیں رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ عارضی جھٹکا ہے یا عالمی نظام میں مستقل تبدیلی کی شروعات۔




