امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کسی ریاست کے خلاف جنگ نہیں بلکہ منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور امریکہ دشمن عناصر کے خلاف قومی سلامتی پر مبنی کارروائی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی نصف کرے کو منشیات فروشوں، ایرانی پراکسیز یا مخالف حکومتوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔

متعدد امریکی ٹی وی پروگراموں میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ وینزویلا کے سابق حکمراں نکولس مادورو کی گرفتاری ایک محدود اور ہدفی آپریشن تھا۔
“کوئی جنگ نہیں ہو رہی۔ ہم وینزویلا سے نہیں بلکہ منشیات اسمگلنگ تنظیموں سے جنگ میں ہیں،”۔
’حملہ نہیں، محدود کارروائی‘
روبیو نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ اقدام فوجی حملہ یا طویل آپریشن تھا۔ ان کے مطابق امریکی فورسز صرف چند گھنٹوں کے لیے وینزویلا کی سرزمین پر موجود رہیں۔
“امریکی فوجیں وینزویلا میں موجود نہیں ہیں۔ وہ صرف تقریباً دو گھنٹوں کے لیے وہاں تھیں جب مدورو کو گرفتار کیا گیا”۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ کوئی طویل فوجی کارروائی یا جارحیت نہیں تھی، اس لیے کانگری کی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم جہاں قانونی تقاضا ہوگا وہاں کانگریس کو آگاہ کیا جائے گا۔
مغربی نصف کرہ ’ریڈ لائن‘
روبیو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اپنے خطے میں دشمن طاقتوں کو قدم جمانے کی اجازت نہیں دے گا۔
“یہ ہمارا خطہ ہے۔ ہم مغربی نصف کرے کو امریکہ کے مخالفین، حریفوں اور دشمنوں کا اڈہ نہیں بننے دیں گے،”۔
انہوں نے خاص طور پر ایران اور حزب اللہ کی موجودگی اور وینزویلا کے تیل کے شعبے کو امریکہ مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
دباؤ برقرار رہے گا
امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ مدورو کی گرفتاری کے باوجود وینزویلا پر دباؤ ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھے گا۔
“ہم الفاظ نہیں، نتائج دیکھیں گے۔ کیا منشیات آنا بند ہوتی ہیں؟ کیا ایران اور حزب اللہ کو نکالا جاتا ہے؟” روبیو نے سوال اٹھایا۔
ان کے مطابق جب تک یہ تبدیلیاں نہیں آتیں، وینزویلا کو تیل کی پابندیوں، سمندری نگرانی اور عدالتی احکامات کے تحت جہازوں کی ضبطی جیسے اقدامات کا سامنا رہے گا۔
’غیر قانونی صدر‘

روبیو نے میڈیا پر بھی تنقید کی جو اب بھی مدورو کو صدر قرار دے رہا ہے۔
“مدورو صرف منشیات فروش نہیں بلکہ ایک غیر قانونی صدر تھا۔ وہ سربراہِ مملکت نہیں تھا”۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں مدورو کی گرفتاری پر انعام مقرر تھا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔
“فرق یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس پر عمل کر دکھایا،”
تجزیہ
روبیو کی وضاحتیں اس بات کی علامت ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کارروائی کو رجیم چینج کے بجائے قانون نافذ کرنے اور سلامتی کے اقدام کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ منشیات، تیل اور غیر ملکی اثر و رسوخ کو بنیاد بنا کر واشنگٹن یہ پیغام دے رہا ہے کہ لاطینی امریکہ میں امریکی پالیسی اب نتائج پر مبنی سخت حکمتِ عملی اختیار کرے گی۔
یہ مؤقف اتحادیوں اور حریفوں دونوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ مغربی نصف کرے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر آپشن استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔




