روس 2026 میں Su-75 “چیک میٹ” لائٹ اسٹیلتھ فائٹر کی پہلی پرواز کا ہدف رکھتا ہے۔ روسی اخبار ازویستیا کے مطابق 12 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ پرواز اس منصوبے کے لیے پہلا حقیقی عملی مرحلہ ہوگی، جو اب تک صرف ایک مکمل ماک اپ کی صورت میں موجود ہے۔
Su-75 کو پہلی بار اگست 2021 میں MAKS ایئر شو میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ یہ ایک سنگل انجن، لائٹ ٹیکٹیکل فائٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد بھاری Su-57 کے ساتھ کام کرنا اور روسی فضائیہ میں موجود پرانے MiG-29 طیاروں کی جگہ لینا ہے۔
بار بار تاخیر کا شکار منصوبہ
ابتدائی طور پر Su-75 کی پہلی پرواز 2023 کے لیے متوقع تھی، مگر بعد ازاں اس تاریخ کو 2024، پھر 2025 اور اب 2026 تک مؤخر کر دیا گیا۔ یہ تاخیر مالی وسائل کی کمی، صنعتی ترجیحات اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
جنوری 2026 تک Su-75 اب بھی پری فلائٹ ڈیولپمنٹ مرحلے میں ہے اور نہ ہی کسی ملکی یا غیر ملکی خریدار کی تصدیق سامنے آئی ہے۔
تیاری کہاں ہو رہی ہے؟
روسی حکام کے مطابق، پروٹوٹائپ کی تیاری کومسومولسک آن آمور ایئرکرافٹ پلانٹ میں جاری ہے، جہاں Su-35S اور Su-57 جیسے لڑاکا طیارے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم یوکرین جنگ کے بعد عائد پابندیوں کے باعث الیکٹرانکس، مشین ٹولز اور مالی وسائل تک رسائی محدود رہی ہے، جبکہ روسی فضائیہ کے لیے موجودہ طیاروں کی پیداوار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ڈیزائن اور اسٹیلتھ خصوصیات
Su-75 کا ڈیزائن کم ریڈار سگنیچر اور سادہ مینوفیکچرنگ کے توازن پر مبنی ہے۔ اس میں:
- ڈائیورٹر لیس سپرسونک ان لیٹ
- V-ٹیل کنفیگریشن
- اندرونی ہتھیار خانے (Internal Weapons Bays)
شامل ہیں، جو کم نمایاں آپریشنز میں مدد دیتے ہیں۔ 2021 کے بعد سامنے آنے والے ڈیزائن پیٹنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کی ایروڈائنامکس اور اسٹیلتھ خصوصیات پر مسلسل کام جاری ہے۔
ممکنہ تکنیکی خصوصیات
Su-75 کو ایک ملٹی رول سنگل سیٹ فائٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں مشنز انجام دے سکتا ہے۔ اسے ممکنہ طور پر Saturn AL-51F-1 انجن کے مشتق ورژن سے طاقت ملے گی، جو جدید Su-57 طیاروں میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق:
- زیادہ سے زیادہ رفتار: Mach 1.8 تا 2.0
- زیادہ سے زیادہ وزن: تقریباً 26,000 کلوگرام
- ہتھیاروں کی صلاحیت: 7,400 کلوگرام تک
یہ تمام اعداد و شمار پرواز کے بعد ہی حتمی طور پر تصدیق ہوں گے۔
برآمدی منصوبہ یا فضائیہ کی ضرورت؟
ماہرین کے مطابق Su-75 منصوبہ بنیادی طور پر برآمدی منڈی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ روسی حکام نے متعدد بار کہا ہے کہ طیارے کی سیریل پروڈکشن کا انحصار غیر ملکی آرڈرز پر ہوگا، نہ کہ فوری ملکی خریداری پر۔
یہی وجہ ہے کہ Su-75 کو کم لاگت، سادہ ڈیزائن اور Su-57 کے ساتھ پرزہ جاتی مطابقت کے اصول پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
نتیجہ
اگر Su-75 کی پہلی پرواز واقعی 2026 میں ہو جاتی ہے تو یہ روس کے لیے کئی دہائیوں بعد ایک نیا لائٹ فائٹر متعارف کرانے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ تاہم اس کی حقیقی صلاحیت، پیداوار اور آپریشنل مستقبل کا انحصار آنے والے فلائٹ ٹیسٹس اور ممکنہ خریداروں کے فیصلوں پر ہوگا۔




