سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، اسٹریٹجک تعاون اور عالمی و علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیرِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ مفادات کے مطابق عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کی توثیق کی۔
یہ ملاقات سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری کے تسلسل کی عکاس ہے، جس میں عسکری رابطہ کاری، تربیتی تعاون اور اعلیٰ سطحی مشاورت شامل رہی ہے۔
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir, to reaffirm our strong relations and strategic defense partnership. We discussed our joint efforts to promote global peace and security in a manner that serves our shared interests. pic.twitter.com/3oCFI2t6RR
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) February 12, 2026
علاقائی تناظر: غزہ اور سفارتی رابطے
یہ دفاعی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے باعث خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں۔ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی دارالحکومتوں میں جنگ بندی، انسانی امداد، اور بعد از جنگ انتظامات سے متعلق مشاورت جاری ہے۔
سعودی عرب ان سفارتی رابطوں میں ایک سرگرم فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی، انسانی امداد کی فراہمی اور سیاسی حل کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد کسی ایک باضابطہ ڈھانچے کے بجائے مسلسل سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے پیش رفت کو ممکن بنانا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان نے بھی سفارتی سطح پر غزہ میں جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی حمایت کا مؤقف برقرار رکھا ہے، جو اس کی روایتی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے وابستگی کے مطابق ہے۔
امریکی سیاسی سرگرمیوں کا پس منظر
ریاض میں ہونے والی ملاقات کو امریکی سیاسی منظرنامے میں جاری سرگرمیوں کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف علاقائی ممالک سے روابط اور ملاقاتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں بعض مبصرین مستقبل کی ممکنہ سفارتی کوششوں سے جوڑتے ہیں۔
یہ سرگرمیاں فی الوقت سیاسی نوعیت کی سمجھی جاتی ہیں، تاہم خطے کے ممالک امریکی سیاسی حرکیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کا اثر آئندہ سفارتی ماحول اور بین الاقوامی ثالثی کوششوں پر پڑ سکتا ہے۔
سعودی–پاکستان دفاعی تعلقات کی وسیع اہمیت
ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی دفاعی ملاقاتیں صرف دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وسیع تر علاقائی مشاورت کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
بیان میں “عالمی امن و سلامتی” پر زور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک موجودہ علاقائی بحرانوں کو ایک وسیع اسٹریٹجک تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
نتیجہ
ریاض میں سعودی اور پاکستانی عسکری قیادت کی ملاقات ایک ایسے مرحلے پر ہوئی ہے جب خطہ شدید سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ کسی باضابطہ امن ڈھانچے کا اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم ملاقاتوں، رابطوں اور مشاورت کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں غزہ سمیت موجودہ بحرانوں پر خاموش مگر متحرک سفارت کاری کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ پیش رفت سعودی–پاکستان تعلقات کو نہ صرف دوطرفہ بلکہ علاقائی استحکام کے تناظر میں بھی اہم بناتی ہے۔



