بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

مشرقِ وسطیٰ سے امریکی طیارہ بردار جہازوں کی غیر موجودگی: ایران کے اندرونی بحران کے دوران ڈیٹرنس کا نیا امتحان

جنوری 2026 کے اوائل میں مشرقِ وسطیٰ سے امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جنگی گروپس (Carrier Strike Groups) کی مکمل غیر موجودگی امریکی عسکری حکمتِ عملی میں ایک غیر معمولی اور ساختی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکی بحری ادارے USNI News Fleet and Marine Tracker کے مطابق 5 جنوری تک امریکی بحریہ کا کوئی بھی طیارہ بردار جہاز امریکی ففتھ فلیٹ کے دائرۂ کار میں موجود نہیں—جو دہائیوں پر محیط ڈیٹرنس ماڈل سے واضح انحراف ہے۔

یہ خلا ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران شدید اندرونی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ معاشی زوال، مہنگائی اور سیاسی جبر کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے 1979 کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش سب سے بڑے داخلی چیلنج میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان غلط اندازوں اور تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 جنوری کو واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکہ مداخلت پر غور کرے گا۔ یہ بیان اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ خطے میں اس وقت امریکی طیارہ بردار جہاز موجود نہیں، جو روایتی طور پر امریکی عسکری دباؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔

طیارہ بردار جہاز کیوں اہم ہیں؟

طیارہ بردار جنگی گروپس محض عسکری علامت نہیں بلکہ مکمل فضائی و بحری جنگی نظام ہوتے ہیں، جو فضائی برتری، درست حملے، الیکٹرانک وارفیئر اور سمندری نگرانی انجام دے سکتے ہیں۔ ماضی میں خلیج فارس، بحیرۂ عرب اور بحیرۂ احمر میں ان کی مسلسل موجودگی ایران کے خلاف امریکی ڈیٹرنس کا مرکزی ستون رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں پہلی بار سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزائے قید

ان کی عدم موجودگی امریکی ردعمل کے آپشنز کو محدود کرتی ہے، فیصلہ سازی کے اوقات کو کم کرتی ہے اور امریکہ کو زمینی اڈوں پر انحصار بڑھانے پر مجبور کرتی ہے—جو ایرانی میزائل، ڈرون اور پراکسی صلاحیتوں کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

امریکی بحری طاقت کہاں منتقل ہو گئی؟

یہ صورتحال کسی حادثاتی تعیناتی کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی ترجیحات میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ امریکی بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford کیریبین میں Operation Southern Spear کے تحت تعینات ہے، جہاں وہ وینزویلا میں امریکی زیر قیادت کارروائیوں میں مدد کر رہا ہے۔

اسی دوران USS Abraham Lincoln انڈو پیسیفک میں جنوبی چین کے سمندر اور فلپائن سی میں گشت کر رہا ہے، جہاں چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کو روکنا امریکی ترجیح بن چکا ہے۔ دیگر جہاز جاپان میں تعینات یا مرمت و ریٹائرمنٹ کے مراحل میں ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے فوری متبادل ممکن نہیں رہا۔

عسکری اور اسٹریٹجک خطرات

مشرقِ وسطیٰ میں طیارہ بردار جہازوں کی غیر موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائی کرنا پڑی تو اسے طویل فاصلے سے بمبار طیاروں یا علاقائی اڈوں پر انحصار کرنا ہوگا، جو نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہیں بلکہ ایرانی حملوں کے لیے نسبتاً آسان ہدف بھی ہیں۔

کسی طیارہ بردار جہاز کی فوری واپسی بھی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ انڈو پیسیفک سے مشرقِ وسطیٰ تک اس کی آمد کئی دن لیتی ہے اور یہ نقل و حرکت کھلے ذرائع سے فوراً ظاہر ہو جاتی ہے، جس سے ایران کو دفاعی تیاری کا وقت مل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سکیورٹی گارنٹی کے بدلے معدنیات، زیلنسکی نے ٹرمپ کو پیشکش کردی

ایران کا اندرونی بحران اور تصادم کا خدشہ

دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاج اب کئی صوبوں میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات میں بدل چکے ہیں۔ مہنگائی 40 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، تیل کے شعبے میں ہڑتالیں ہو رہی ہیں اور سیکیورٹی فورسز میں نچلے درجے پر بغاوت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایسے ماحول میں کسی بھی امریکی حملے کو تہران محدود دباؤ کے بجائے وجودی خطرہ تصور کرے گا، جس کے نتیجے میں ایران میزائل حملوں، آبنائے ہرمز کی بندش اور پراکسی گروپس کے ذریعے پورے خطے میں شدید ردعمل دے سکتا ہے۔

عالمی اثرات اور توانائی کی منڈیاں

آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات ایشیائی معیشتوں، خصوصاً توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر شدید ہوں گے۔

یہ خلا روس اور چین کے لیے بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ عسکری و سفارتی تعاون بڑھائیں، جبکہ امریکی اتحادی اس بات پر غور کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں کہ آیا واشنگٹن بیک وقت کئی خطوں میں مؤثر ڈیٹرنس برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

نتیجہ: ایک نیا اسٹریٹجک موڑ

مشرقِ وسطیٰ سے امریکی طیارہ بردار جہازوں کی غیر موجودگی محض عارضی تعیناتی نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک تبدیلی کا مظہر ہے۔ اگرچہ یہ فوری تصادم کے امکانات کو کم کر سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ڈیٹرنس توازن بھی کمزور ہو رہا ہے جو دہائیوں سے امریکی بحری برتری پر قائم تھا۔

یہ بھی پڑھیں  ’امن بذریعہ طاقت‘: ٹرمپ کے دوسرے دور میں 2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ

ایران کے اندرونی بحران اور عالمی بحری وسائل کی محدودیت کے تناظر میں، مشرقِ وسطیٰ اب امریکی سمندری طاقت کی حدود کو جانچنے کا ایک نیا میدان بنتا جا رہا ہے—جہاں غلط فہمی، وقت اور تاثر کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین