یہ صورتحال کسی حد تک اس کہاوت کی عملی تصویر ہے کہ “موچی کے بچے ننگے” — سویڈن، جو دنیا کے جدید ترین Erieye اور GlobalEye ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (AEW&C) طیاروں کا خالق ہے، اس وقت خود ایک بھی AEW&C طیارہ آپریٹ نہیں کر رہا۔
2024 میں سویڈن نے اپنی پوری Saab 340 AEW&C (Erieye) فلیٹ یوکرین کو عطیہ کر دی، جس کے بعد ملک عارضی طور پر فضائی نگرانی کے اس انتہائی اہم شعبے میں خالی ہاتھ ہو گیا ہے۔
یوکرین کو Erieye طیارے کیوں دیے گئے؟
یہ فیصلہ سویڈن کے یوکرین کے لیے اعلان کردہ بڑے دفاعی امدادی پیکج کا حصہ تھا۔ Saab 340 AEW&C طیارے، جن میں Erieye ریڈار سسٹم نصب ہے، طویل فاصلے سے:
- دشمن طیاروں کی نشاندہی
- میزائل اور فضائی خطرات کی نگرانی
- کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ
جیسے اہم فرائض انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ طیارے یوکرین کے فضائی دفاع، بالخصوص مستقبل میں F-16 جنگی طیاروں کے استعمال کے تناظر میں، نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
سویڈن اس وقت کس پر انحصار کر رہا ہے؟
Erieye طیاروں کی منتقلی کے بعد:
- سویڈن کے پاس اس وقت کوئی فعال AEW&C طیارہ موجود نہیں
- ملک عارضی طور پر نیٹو اور اتحادی ممالک کے فضائی نگرانی نظام پر انحصار کر رہا ہے
- زمینی ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظام بدستور فعال ہیں، مگر فضائی ارلی وارننگ کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے
یہ انحصار اس وقت تک رہے گا جب تک نئے طیارے سروس میں شامل نہیں ہو جاتے۔
GlobalEye: سویڈن کا مستقبل کا فضائی محافظ
سویڈن نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے:
- 2022 میں Saab سے دو GlobalEye AEW&C طیاروں کا آرڈر دیا
- بعد ازاں تیسرا GlobalEye طیارہ بھی آرڈر کیا گیا
- ان جدید طیاروں کی متوقع ڈیلیوری 2027 سے شروع ہوگی
GlobalEye، Bombardier Global 6000 بزنس جیٹ پر مبنی ہے اور اس میں:
- Erieye ER لانگ رینج ریڈار
- سمندری، زمینی اور فضائی نگرانی کی بیک وقت صلاحیت
- جدید الیکٹرانک وارفیئر اور ڈیٹا فیوژن سسٹمز
شامل ہیں، جو اسے دنیا کے جدید ترین AEW&C پلیٹ فارمز میں شامل کرتے ہیں۔
کیا یہ فیصلہ خطرناک تھا؟
تقریباً 12 ارب ڈالر سالانہ دفاعی بجٹ رکھنے کے باوجود، سوئڈن نے جان بوجھ کر یہ رسک لیا۔ ماہرین کے مطابق:
- یہ فیصلہ یورپی اجتماعی سلامتی کے تناظر میں کیا گیا
- روس۔یوکرین جنگ میں یوکرین کی فضائی صلاحیت بڑھانا ترجیح سمجھی گئی
- GlobalEye کی آمد کے بعد سوئڈن کی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی
نتیجہ
سویڈن کا یہ قدم وقتی طور پر دفاعی خلا ضرور پیدا کرتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ جدید، طاقتور اور خودمختار فضائی نگرانی نظام کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یورپ میں دفاعی ترجیحات اب قومی حدود سے نکل کر اجتماعی سلامتی کی سمت بڑھ رہی ہیں۔




