بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

وینزویلا کارروائی کے پسِ پردہ کہانی: اصل ہدف کیوبا، چین نہیں

وینزویلا میں امریکی کارروائی کو عالمی سطح پر ابتدا میں چین کے خلاف ایک اسٹریٹجک اقدام سمجھا گیا، تاہم سفارتی اور پالیسی حلقوں میں اب یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اس آپریشن کا اصل ہدف چین نہیں بلکہ کیوبا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی لاطینی امریکہ میں دہائیوں سے قائم ایک خفیہ طاقت کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کی منظم کوشش ہے۔

اس حکمتِ عملی کے معماروں میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کردار کلیدی بتایا جاتا ہے۔ روبیو نہ صرف لاطینی امریکی سیاست کے ماہر سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان کا خاندانی پس منظر بھی کیوبا سے جڑا ہے، جس کے باعث کیوبا کی حکومت ان کی خارجہ ترجیحات میں خصوصی حیثیت رکھتی ہے۔

وینزویلا پر کیوبا کا گہرا اثر و رسوخ

Image

ماہرین کے مطابق وینزویلا گزشتہ دو دہائیوں سے عملی طور پر کیوبا کے اثرِ رسوخ میں رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت شروع ہوئی جب سابق صدر ہیوگو شاویز نے ایک ناکام بغاوت کے بعد اپنی فوج کی وفاداری پر شکوک ظاہر کیے اور کیوبا سے سیکیورٹی و انٹیلی جنس مدد حاصل کی۔ اس کے بعد ہزاروں کیوبن اہلکار — جن میں ڈاکٹر، تکنیکی ماہرین، اسپورٹس ٹرینرز اور خفیہ ایجنسیاں شامل تھیں — وینزویلا کے اہم ریاستی اداروں میں تعینات ہو گئیں۔

بالخصوص فوج، ڈیٹا بیسز، نگرانی کے نظام اور صدارتی سیکیورٹی پر کیوبن اثر و رسوخ کو شاویز اور بعد ازاں نکولس مادورو کی حکومتوں کے لیے “کُو پروف” (بغاوت سے محفوظ) نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ ان خدمات کے بدلے وینزویلا روزانہ بڑی مقدار میں تیل کیوبا کو فراہم کرتا رہا، جو کیوبا کی معیشت اور توانائی کی بنیادی شہ رگ بن چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  وینزویلا کارروائی : روس، چین اور بڑی طاقتیں کہاں کھڑی ہیں اور امریکی کردار پر کیا اثر پڑے گا؟

مادورو کی گرفتاری: علامتی اقدام یا اسٹریٹجک وار؟

مدورو کی گرفتاری کو بعض حلقے ایک مضبوط آمر کے خاتمے کے طور پر پیش کر رہے ہیں، مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مادورو طاقت کا حقیقی مرکز نہیں بلکہ ایک علامتی چہرہ تھے۔ اصل طاقت اب بھی وینزویلا میں موجود کیوبن نیٹ ورک کے ہاتھ میں ہے، اسی لیے عبوری قیادت کی جانب سے سخت اور مزاحمتی بیانات سامنے آئے۔

امریکہ نے فی الحال براہِ راست نئی حکومت قائم کرنے کے بجائے لاجسٹک اور معاشی دباؤ کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اس میں ساحلی بندرگاہوں پر کنٹرول، بحری و فضائی نگرانی اور ممکنہ طور پر بندرگاہوں کے گرد “گرین زونز” کا قیام شامل ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد کیوبا کو جانے والی تیل اور رسد کی ترسیل روکنا بتایا جاتا ہے۔

’تیل‘ مگر خلیجی جنگ والا نہیں

صدر ٹرمپ کے تیل سے متعلق بیانات کو بعض مبصرین غلط تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہدف فوری طور پر تیل نکالنا نہیں — کیونکہ اس عمل میں برسوں لگ سکتے ہیں — بلکہ کیوبا کی مالی اور توانائی بنیاد کو کمزور کرنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کو مغربی نصف کرے میں امریکی سلامتی کے نئے بیانیے سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کیوبا کو طویل عرصے سے امریکہ کے لیے ایک مستقل چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔

چین: مرکزی ہدف نہیں، ضمنی فائدہ

اگرچہ چین وینزویلا میں توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں شامل رہا، مگر اسے اس کارروائی کا بنیادی نشانہ نہیں سمجھا جا رہا۔ وینزویلا چین کے لیے کبھی بھی اسٹریٹجک اولین ترجیح نہیں رہا بلکہ ایک اضافی فائدہ تھا۔ امریکی کنٹرول کے نتیجے میں چین کو تیل کی ترسیل جاری رہ سکتی ہے، تاہم مارکیٹ قیمتوں پر اور امریکی نگرانی کے تحت۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیل کے شام میں 480 فضائی حملے، وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا، نیتن یاہو کا مشرق وسطیٰ کی تشکیل نو کرنے کا اعلان

Image

یوں امریکہ کے ہاتھ میں مستقبل کے لیے ایک نیا سفارتی اور تجارتی دباؤ کا ذریعہ آ گیا ہے، جب کہ چین براہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے خریدار کے کردار تک محدود ہو جاتا ہے۔

روس، گیانا اور مہاجرین کا زاویہ

روس کو وینزویلا میں چین کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے، جہاں اسے امریکہ کے خلاف اثرانداز ہونے کے ایک مرکز کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ روسی کنٹریکٹرز اور سیکیورٹی نیٹ ورکس کی موجودگی کے باعث ماسکو کے ساتھ معاملات زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، پڑوسی ملک گیانا میں دریافت ہونے والے نئے تیل کے ذخائر، جن پر بین الاقوامی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، اب امریکی تحفظ میں سمجھے جا رہے ہیں، جب کہ مادورو کے توسیع پسندانہ دعوے غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔

داخلی سطح پر، اس آپریشن سے امریکہ کو وینزویلا کے مہاجرین کی واپسی کے لیے بھی ایک قانونی اور انتظامی جواز مل سکتا ہے، خاص طور پر اگر کچھ علاقوں کو “امریکی زیرِ انتظام” قرار دیا جاتا ہے۔

تجزیہ

مجموعی طور پر یہ کارروائی:

  • کیوبا کی معیشت اور توانائی نظام کو کمزور کرنے
  • چین کو براہِ راست تصادم کے بغیر محدود کرنے
  • روس کو دفاعی پوزیشن میں دھکیلنے
  • اور لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ بحال کرنے

کی ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

اگر آنے والے مہینوں میں کیوبا کے خلاف مزید سفارتی، معاشی یا انٹیلی جنس اقدامات سامنے آتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وینزویلا آپریشن دراصل ایک ملک نہیں بلکہ ایک پورے علاقائی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  آئی سی سی کے پراسیکوٹر نے میانمار کے فوجی حکمرانوں کے وارنٹ گرفتاری مانگ لیے
سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین