امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ ایران کے خلاف وسیع تر اور جارحانہ فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے، ایسے وقت میں جب ایران کے اندر شدید عوامی احتجاج، ریاستی کریک ڈاؤن اور جوہری و میزائل پروگرام سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ انکشاف امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔
اعلیٰ امریکی حکام نے صدر ٹرمپ کو ایسے منظرناموں پر بریفنگ دی ہے جن میں بڑے پیمانے پر فضائی اور میزائل حملے، اسپیشل فورسز کی کارروائیاں اور ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان مباحث کا پس منظر ایران میں دسمبر 2025 کے اواخر میں شروع ہونے والے مظاہرے ہیں، جنہیں حکومتی فورسز نے سختی سے کچل دیا۔
پینٹاگون کی تیاری: محدود حملوں سے “فیصلہ کن” کارروائی تک
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے مشترکہ طور پر “فیصلہ کن” فوجی کارروائی کے آپشنز تیار کیے ہیں، جن میں ایران کے ریاستی اہداف اور Islamic Revolutionary Guard Corps سے وابستہ تنصیبات پر بڑے پیمانے کے حملے شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نسبتاً محدود حملوں کے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں، جن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا یا مخصوص IRGC انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ہے، بغیر کسی ہمہ گیر جنگ کے۔
امریکی دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کو نشانہ بنانے یا گرفتار کرنے کی کوئی بھی کوشش ماضی کی کارروائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی۔ ایک ممکنہ “ڈیکیپیٹیشن اسٹریٹجی” کے بعد ملک میں انتشار روکنے کے لیے وسیع زمینی اور فضائی فورسز درکار ہوں گی، جو کسی بڑے حملے کے بغیر دستیاب نہیں۔
اسپیشل فورسز اور جوہری تنصیبات
نیو یارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس ایسے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے جن میں ایرانی جوہری تنصیبات پر اسپیشل فورسز کے حملے شامل ہوں، خصوصاً وہ مقامات جو اب بھی فعال سمجھے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار سازی، میزائل صلاحیت اور علاقائی پراکسی گروپس کی مدد کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
کچھ منظرنامے ایسے اقدامات پر بھی مشتمل ہیں جو سپریم لیڈر کے ادارے کو کمزور کریں، اندرونی عدم استحکام پیدا کریں یا طویل المدتی طور پر نظامِ حکومت کو دباؤ میں لائیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے تاحال کسی حملے کی منظوری نہیں دی، تاہم انہوں نے دباؤ بڑھانے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو مذاکراتی حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
مظاہرے، کریک ڈاؤن اور بڑھتی علاقائی بے چینی
یہ تمام بحثیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران شدید داخلی بحران سے گزر رہا ہے۔ امریکی حکام اور اقوام متحدہ سے منسلک اندازوں کے مطابق دسمبر 2025 کے بعد سے 18 ہزار تک افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ صورتحال جون 2025 میں ایرانی اہداف پر امریکی فضائی حملوں اور گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد مزید بگڑ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف مزید تشدد امریکی فوجی ردِعمل کو متحرک کر سکتا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں بعض سزاؤں کی منسوخی کے بعد انہوں نے بیانات میں عارضی نرمی دکھائی۔
اتحادیوں کا اختلاف، خلیجی ممالک کی پسپائی
اسرائیل نے مبینہ طور پر ایران کے میزائل نظام کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ بڑے آپریشن کی حمایت کی ہے۔ تاہم اہم خلیجی اتحادیوں نے امریکی منصوبہ بندی پر واضح حدود عائد کر دی ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان ممالک کو 2019 میں سعودی تیل تنصیبات پر حملوں جیسے جوابی اقدامات اور پراکسی ردِعمل کا خدشہ ہے۔
اس کے نتیجے میں امریکہ کو زیادہ تر یکطرفہ عسکری وسائل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جن میں USS Abraham Lincoln کیریئر اسٹرائیک گروپ، اردن میں تعینات F-15E طیارے، B-2 اسٹیلتھ بمبارز، آبدوزیں اور Diego Garcia جیسے طویل فاصلے کے اڈوں سے آپریشنز شامل ہیں۔
خطرات برقرار، حتمی فیصلہ نہیں
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حتیٰ کہ کامیاب فوجی مہم بھی منظم تبدیلی کے بجائے طویل عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران کا وسیع رقبہ، مضبوط سیکیورٹی ڈھانچہ اور طاقت کے استعمال کی آمادگی کسی بھی تنازع کو ہفتوں یا مہینوں تک کھینچ سکتی ہے، خاص طور پر جب خلیجی حمایت محدود ہو۔
جنوری 2026 کے اختتام تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ ایران سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کی اپیل جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فوجی طاقت کے مضبوط ہونے پر بھی زور دے رہے ہیں۔
یہ اب بھی واضح نہیں کہ آیا یہ آپشنز حقیقی جنگی تیاری ہیں یا سفارتی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ، تاہم ایک بات طے ہے کہ یہ مباحث ایک پہلے سے غیر مستحکم مشرقِ وسطیٰ میں تیز رفتار کشیدگی کے خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔




