جمعرات, 12 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

2026 میں دنیا کے سب سے بڑے جدید فائٹر جیٹ بیڑے: تعداد، صلاحیت اور اسٹریٹجک معنی

اگرچہ جدید فضائی جنگ میں اسٹیلتھ، سینسر فیوژن اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، تاہم فائٹر طیاروں کی مجموعی تعداد اور ان کی ساخت اب بھی کسی ریاست کی عسکری طاقت، ڈیٹرنس اور طویل المدتی جنگی صلاحیت کا بنیادی اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔
2026 میں دنیا کے سب سے بڑے جدید فائٹر جیٹ بیڑوں کا جائزہ نہ صرف عسکری طاقت کو واضح کرتا ہے بلکہ علاقائی سلامتی کے رجحانات اور اسٹریٹجک ترجیحات کو بھی بے نقاب کرتا ہے ۔

امریکہ: تعداد اور ٹیکنالوجی کا امتزاج

The US State Department has approved the sale of F-35 aircraft to Romania

United States بدستور عالمی فضائی طاقت میں سب سے آگے ہے۔ امریکی فضائیہ، بحریہ اور میرین کور مل کر 2,700 سے زائد جدید لڑاکا طیارے آپریٹ کر رہے ہیں۔
F-35 لائٹننگ II اس بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جسے F-22 ریپٹر، جدید F-15EX، اپ گریڈڈ F-16 اور F/A-18 سپر ہارنیٹ سہارا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ Next Generation Air Dominance (NGAD) پروگرام مستقبل میں بھی فضائی برتری کو یقینی بنانے کی کوشش ہے ۔

روس: بڑا بیڑا، مگر محدود تیاری

Russia کے پاس اندازاً 1,200 تا 1,400 جدید فائٹر طیارے موجود ہیں، جن کی بنیاد Su-27 فیملی پر ہے۔
تاہم آپریشنل دستیابی غیر یکساں ہے۔ Su-57 اسٹیلتھ فائٹر محدود تعداد میں سروس میں ہے، جبکہ پابندیاں، بجٹ مسائل اور مسلسل عسکری مصروفیات جدید کاری کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں ۔

چین: تیز رفتار توسیع اور مقامی پیداوار

China نے گزشتہ دہائی میں فضائی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2026 تک چین کے پاس 1,200 سے زائد جدید فائٹر طیارے موجود ہیں۔
J-20 اسٹیلتھ فائٹرز کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جو چین کو پانچویں نسل کے طیاروں کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر لے آتی ہے۔ یہ پیش رفت براہِ راست انڈو پیسفک میں چین کی اسٹریٹجک حکمت عملی سے جڑی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ کا گولڈن ڈوم منصوبہ، امریکا خلا میں ہتھیار نصب کرے گا

بھارت: تنوع پر مبنی صلاحیت

India کا جدید فائٹر بیڑا 600 تا 650 طیاروں پر مشتمل ہے، جس میں Su-30MKI، رافیل اور مقامی تیجس شامل ہیں۔
یہ تنوع آپریشنل لچک فراہم کرتا ہے، مگر لاجسٹکس اور مینٹیننس کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔ AMCA پروگرام مستقبل میں خود انحصاری کی علامت ہے ۔

درمیانی طاقتیں: معیار بمقابلہ مقدار

Japan، South Korea، Pakistan، Israel، Egypt اور Saudi Arabia جیسے ممالک نسبتاً چھوٹے مگر جدید اور ہدفی نوعیت کے فائٹر بیڑے رکھتے ہیں۔
یہ ممالک تعداد کے بجائے ٹیکنالوجی، تربیت اور مخصوص مشن صلاحیت پر انحصار کرتے ہیں ۔

رینکنگ چارٹ: 2026 میں دنیا کے سب سے بڑے جدید فائٹر جیٹ بیڑے

رینکملکاندازاً جدید فائٹر طیارے (2026)نمایاں پلیٹ فارمزاسٹریٹجک کردار
1United States2,700+F-35، F-22، F-15EX، F-16عالمی فضائی برتری
2Russia1,200–1,400Su-30SM، Su-35S، Su-34بڑا مگر دباؤ میں بیڑا
3China1,200+J-20، J-16، J-10تیز رفتار توسیع
4India600–650Su-30MKI، رافیل، تیجسعبوری مرحلہ
5South Korea400–450F-35A، F-15K، KF-21ٹیکنالوجی پر مبنی
6Pakistan350–400JF-17، F-16اسٹریٹجک توازن
7Japan300–350F-15J، F-35دفاعی فضائی طاقت
8Egypt300+رافیل، MiG-29Mمتنوع ذرائع
9Israel250–300F-35I، F-15Iاعلیٰ معیار
10Saudi Arabia250–280F-15SA، ٹائفونعلاقائی ڈیٹرنس

نتیجہ

2026 کے فائٹر جیٹ بیڑے واضح کرتے ہیں کہ جدید فضائی طاقت کا دارومدار صرف تعداد پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تیاری، اور صنعتی صلاحیت پر ہے۔ اس کے باوجود، بڑے بیڑے طویل المدتی تنازعات میں اسٹریٹجک گہرائی اور استقامت فراہم کرتے ہیں۔
یہ توازن ہی آنے والے برسوں میں عالمی فضائی طاقت کی سمت کا تعین کرے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  طیاروں کی گنتی کا چیلنج، بھارت قبول کرے یا مسترد، دونوں صورت شرمندگی مقدر
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین