امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران پر ممکنہ حملوں سے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کے باوجود اپنے اعلیٰ مشیروں سے اب بھی ایران کے خلاف ’’فیصلہ کن‘‘ فوجی آپشنز پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کے مطابق یہ اندرونی مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔
WSJ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے لیے مختلف فوجی منظرنامے تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ٹھکانوں پر محدود حملوں سے لے کر ایسے سخت آپشنز بھی شامل ہیں جن کا مقصد ایرانی حکومت کو کمزور یا حتیٰ کہ اقتدار سے بے دخل کرنا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تاحال کسی حملے کا حتمی حکم نہیں دیا گیا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے تہران کو سزا دینے کا آپشن خارج نہیں کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تیاری تیز کر دی ہے۔ امریکی F-15E لڑاکا طیارے اردن پہنچ چکے ہیں، جبکہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ خلیج فارس کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس گروپ میں جدید F-35 لڑاکا طیارے، تباہ کن جنگی جہاز اور الیکٹرانک وارفیئر طیارے شامل ہیں۔
امریکی حکام نے WSJ کو بتایا کہ ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے نمٹنے کے لیے مزید پیٹریاٹ اور THAAD میزائل ڈیفنس سسٹمز بھی خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات سے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف زیادہ وسیع فوجی آپشنز دستیاب ہو سکتے ہیں۔
ایران میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ
امریکی حکام کے مطابق ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ بعض اندازے 2,000 سے 3,000 ہلاکتوں کی بات کرتے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ WSJ کے مطابق اقوام متحدہ کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز اب تک 18 ہزار افراد کو ہلاک کر چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اشارہ دیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران نے گزشتہ ہفتے 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے کا منصوبہ روک دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم دیکھیں گے ایران کے معاملے میں آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘
رجیم چینج یا محدود فوجی کارروائی؟
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے۔ سابق امریکی ایئر فورس لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے خبردار کیا کہ فضائی حملے وقتی دباؤ تو ڈال سکتے ہیں، مگر حقیقی رجیم چینج کے لیے وسیع فضائی اور زمینی کارروائیاں درکار ہوں گی۔
اس سے بھی زیادہ محتاط رائے ماہرین نے دی ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ کار رمزی مردینی کے مطابق ’’صرف قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی ملک میں انتشار پیدا کر سکتی ہے، مگر کوئی متبادل قوت موجود نہیں جو اقتدار سنبھال سکے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’ایران میں سڑکوں کی نگرانی کون کرے گا؟ جوہری تنصیبات کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘
سعودی عرب اور اسرائیل کی اہمیت
WSJ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے حال ہی میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ایران پر بات چیت کی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ امریکی فضائی مہم میں سعودی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اسرائیل نے بھی واشنگٹن کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے میزائل ڈیفنس ذخائر خاصی حد تک کم ہو چکے ہیں، جس کے باعث وہ ایرانی جوابی حملوں کے حوالے سے فکرمند ہے۔
ٹرمپ کے متضاد بیانات
اگرچہ صدر ٹرمپ ماضی میں ’’رجیم چینج‘‘ جنگوں سے گریز کا عندیہ دیتے رہے ہیں، تاہم حالیہ بیانات میں تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف انہوں نے سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی جیسے جلاوطن رہنماؤں کی مقبولیت پر شکوک کا اظہار کیا، تو دوسری جانب انہوں نے ایرانی قیادت کو ہٹانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
ایران نے ان بیانات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا تو اسے ’’ایرانی قوم کے خلاف ہمہ گیر جنگ‘‘ تصور کیا جائے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس وقت فوجی کارروائی، سخت پابندیوں اور غیر عسکری دباؤ کے درمیان توازن تلاش کر رہی ہے، جبکہ پورا خطہ ایک ممکنہ بڑے تصادم کے خدشے میں مبتلا ہے۔




