بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ترکی کا Kızılelma ڈرون: خودکار فضائی جنگ کے نئے دور کا آغاز

ترکی کا Bayraktar Kızılelma اب صرف ایک جدید ڈرون نہیں رہا بلکہ یہ فضائی جنگ میں ایک نئے خودکار (Autonomous) دور کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ آزمائشوں میں Kızılelma نے مکمل خودکار پرواز، ہم آہنگ مشنز اور مشترکہ فضائی گشت کی صلاحیتیں ظاہر کی ہیں، جو اب تک صرف انسان بردار لڑاکا طیاروں سے منسوب سمجھی جاتی تھیں۔

ترکی کی دفاعی کمپنی Baykar کی جانب سے تیار کیا گیا یہ جیٹ پاورڈ ڈرون، مصنوعی ذہانت، سینسر فیوژن اور خود فیصلے کرنے والی ٹیکنالوجی کے امتزاج سے فضائی جنگ کے تصورات کو ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔

خودکار صلاحیت مرکزِ توجہ

حالیہ ٹیسٹس میں Kızılelma کی توجہ ہتھیاروں سے زیادہ خودمختار مشن انجام دینے کی صلاحیت پر رہی۔ یہ ڈرون اب مکمل طور پر خودکار موڈ میں:

  • ٹیک آف اور لینڈنگ
  • فضائی گشت (Combat Air Patrol)
  • ہم آہنگ پرواز (Synchronized Missions)
  • قریبی فارمیشن میں آپریشن

انجام دے سکتا ہے، وہ بھی بغیر کسی انسانی پائلٹ کے براہِ راست کنٹرول کے۔

یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈرونز اب محض ریموٹ کنٹرول پلیٹ فارم نہیں رہے بلکہ ٹیکٹیکل فیصلہ سازی کی طرف بڑھ چکے ہیں۔

انسان بردار جہاز جیسا ڈیزائن

Kızılelma کا ڈیزائن جان بوجھ کر ایک انسان بردار لڑاکا طیارے سے مشابہ رکھا گیا ہے۔ جیٹ انجن، اسٹیلتھ نما ساخت، اندرونی ہتھیار خانے اور تیز رفتار اسے روایتی UAVs سے ممتاز بناتے ہیں۔

ترکی بیک وقت کئی خودکار فضائی پلیٹ فارمز پر کام کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ Kızılelma ایک وسیع تر خودکار فضائی ایکو سسٹم کا حصہ ہے، نہ کہ ایک واحد تجربہ۔

یہ بھی پڑھیں  مکلا ایئرپورٹ تنازع: یمن کا یو اے ای پر دھماکہ خیز مواد چھوڑنے کا الزام، امارات کی سخت تردید

لاگت اور فضائی طاقت میں انقلاب

خودکار جنگی ڈرونز کا سب سے بڑا فائدہ لاگت میں نمایاں کمی ہے۔
امریکی XQ-58 Valkyrie یا چینی GJ-11 جیسے منصوبوں کی فی یونٹ لاگت کا تخمینہ 20 سے 30 ملین ڈالر کے درمیان لگایا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں چھٹی نسل کے انسان بردار لڑاکا طیاروں کی قیمت 250 سے 300 ملین ڈالر تک جا سکتی ہے، جبکہ ایک پائلٹ کی تربیت پر مزید 12–15 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

یوں ایک چھٹی نسل کا ایک لڑاکا طیارہ، 10 سے 15 خودکار جنگی ڈرونز کے برابر لاگت رکھتا ہے—وہ بھی بغیر پائلٹ کے جانی خطرے کے۔

پلیٹ فارم سے جھنڈ (Swarm) تک

Kızılelma جیسے پلیٹ فارمز کا تصور انفرادی برتری کے بجائے علاقائی کنٹرول اور تسلسل (Persistence) پر مبنی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز:

  • وسیع سمندری یا زمینی علاقوں کی نگرانی
  • تصویری ڈیٹا سے خود ہدف کی شناخت
  • مشترکہ حملے

جیسے مشنز انجام دے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے ڈرون سامنے آئیں گے جو آج کے لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں ایک تہائی وزن اور حجم کے ہوں گے، مگر زیادہ دیر تک پرواز اور طویل فاصلے کے میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

پس منظر میں ایک اہم سنگِ میل

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Kızılelma اس سے قبل Beyond Visual Range (BVR) فضائی میزائل کے کامیاب استعمال کا مظاہرہ بھی کر چکا ہے، جس نے ایک بغیر پائلٹ پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل فضائی کِل چین کو ممکن بنا کر دکھایا تھا۔

تاہم حالیہ پیش رفت اس سے کہیں آگے کی ہے—اب بات صرف ہتھیار چلانے کی نہیں بلکہ خودکار فضائی حکمتِ عملی کی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سلامتی کونسل میں سنگل سٹیٹ ویٹو پاور ختم کی جانی چاہئے، صدر فن لینڈ

اسٹریٹجک اثرات

Kızılelma کی پیش رفت ترکی کو اُن چند ممالک میں شامل کر رہی ہے جو AI پر مبنی فضائی جنگ کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ امریکا اور چین بھی اس سمت میں کام کر رہے ہیں، مگر ترکی کا ماڈل نسبتاً تیز، کم لاگت اور عملی تجربات پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔

ایسے وقت میں جب پائلٹس کی کمی، اخراجات اور خطرات بڑھ رہے ہیں، خودکار جنگی ڈرونز مستقبل کی فضائی طاقت کا مرکزی ستون بنتے دکھائی دیتے ہیں۔

نتیجہ

Bayraktar Kızılelma اب ایک تجرباتی منصوبہ نہیں رہا۔ اس کی خودکار صلاحیتیں، ہم آہنگ آپریشنز اور لاگت میں انقلابی امکانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فضائی جنگ ایک بنیادی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

خودکار فضائی جنگ کا دور اب محض تصور نہیں—یہ حقیقت بن رہا ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین