بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

برطانیہ کا رائل نیوی جہاز HMS Enterprise بنگلہ دیش کو فروخت، سمندری تحقیق اور سیکیورٹی میں اضافہ

برطانیہ نے رائل نیوی کا ہائیڈروگرافک اور اوشیانوگرافک سروے جہاز HMS Enterprise بنگلہ دیش کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی بحری سلامتی، سمندری تحقیق اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

اس پیش رفت کی خبر UK Defence Journal نے دی، جبکہ معاہدے پر دستخط ڈھاکا میں بنگلہ دیش نیوی ہیڈکوارٹرز میں کیے گئے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نیوی، برطانوی وزارتِ دفاع اور رائل نیوی کے درمیان طویل تکنیکی مشاورت جاری رہی۔

معاہدے کا تزویراتی اور ادارہ جاتی پس منظر

ڈھاکا میں برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق، HMS Enterprise کی فروخت بنگلہ دیش کی سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ برطانوی حکومت نے اس اقدام کو “آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک” کے تصور کی حمایت سے بھی جوڑا ہے، جس سے اس معاہدے کی تزویراتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

بنگلہ دیش کے لیے یہ خریداری کسی جنگی صلاحیت کے حصول کے بجائے میرٹائم ڈومین اویئرنیس اور غیر روایتی سیکیورٹی کرداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

سمندری تحقیق اور ہائیڈروگرافی میں نمایاں بہتری

HMS Enterprise بنگلہ دیش کی ہائیڈروگرافک اور اوشیانوگرافک تحقیق کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ جہاز سمندری فرش کی نقشہ سازی، نیویگیشنل چارٹس کی تیاری اور سمندری ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

برطانوی حکام کے مطابق، جہاز کو سائنسی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا، جس کے ذریعے بنگلہ دیش کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ ماڈل سول اور ملٹری اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکا اپنے فوجی اور اینٹی میزائل سسٹم اسرائیل کے اندر تعینات کرے گا

آفات سے نمٹنے اور انسانی امداد میں کردار

سائنسی تحقیق کے علاوہ، HMS Enterprise کو انسانی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے (HADR) کے لیے بھی مؤثر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ جدید مواصلاتی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیتوں کے باعث یہ جہاز ماضی میں کوآرڈینیشن ہب کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جہاز کی شمولیت بنگلہ دیش کو سمندری آفات، خصوصاً طوفانوں اور سیلاب جیسے موسمی خطرات کے دوران بہتر ردعمل کی صلاحیت فراہم کرے گی۔

برطانیہ اور بنگلہ دیش کے دفاعی تعلقات کا تسلسل

یہ معاہدہ برطانیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش برطانیہ سے C-130J سپر ہرکیولیز طیارے بھی حاصل کر چکا ہے، جو کم لاگت مگر آزمودہ پلیٹ فارمز کے حصول کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید برآں، 2021 میں بنگلہ دیش نے رائل نیوی کے پانچ تک ریٹائرڈ جہاز خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ HMS Enterprise کی خریداری ایک وسیع تر بحری جدیدکاری منصوبے کا ابتدائی قدم ہو سکتی ہے۔

HMS Enterprise: ڈیزائن اور آپریشنل کردار

2003 میں کمیشن ہونے والا HMS Enterprise (H88) رائل نیوی کے Echo کلاس سروے جہازوں میں شامل ہے، جو خاص طور پر سائنسی اور تحقیقی مشنز کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

اس کے اہم نظاموں میں شامل ہیں:

  • ملٹی بیم ایکو ساؤنڈرز
  • سائیڈ اسکین سونار
  • جدید اوشیانوگرافک سینسرز

ان کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا نیویگیشنل سیفٹی، چارٹ سازی اور عسکری منصوبہ بندی میں استعمال ہوتا ہے، بشمول ایمفیبیئس اور میرٹائم آپریشنز کی تیاری۔

یہ بھی پڑھیں  پیوٹن نے ریگولر فوج کی تعداد 15 لاکھ کرنے کا حکم دے دیا، روسی فوج دنیا کی دوسری بڑی فوج بن جائے گی

غیر مسلح مگر مؤثر پلیٹ فارم

اگرچہ HMS Enterprise کسی ہتھیار سے لیس نہیں، تاہم اس نے خلیج فارس، بحیرۂ روم اور کیریبین میں رائل نیوی کے ساتھ مختلف مشنز میں حصہ لیا ہے۔ اس کا غیر مسلح ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ جہاز جنگی نہیں بلکہ معاون اور تحقیقی کردار کے لیے ہے۔

یہی پہلو اس فروخت کو علاقائی سطح پر ایک صلاحیت سازی (capacity-building) اقدام کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ طاقت کے مظاہرے کے طور پر۔

نتیجہ: خاموش مگر بامعنی پیش رفت

اگرچہ یہ معاہدہ حجم میں محدود ہے، تاہم اس کی تزویراتی اہمیت نمایاں ہے۔ برطانیہ کے لیے یہ جنوبی ایشیا میں میرٹائم شراکت داری کے فروغ کی علامت ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے لیے یہ معاشی سلامتی، ماحولیاتی نگرانی اور آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔

یہ اقدام اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں دفاعی تعاون میں تحقیق، حکمرانی اور استحکام کو جنگی طاقت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

حماد سعید
حماد سعیدhttps://urdu.defencetalks.com/author/hammad-saeed/
حماد سعید 14 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا، جرائم، عدالتوں اور سیاسی امور کے علاوہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے، واسا، کسٹم، ایل ڈبلیو ایم سی کے محکموں کی رپورٹنگ کی۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین