بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکا کا پیرو کے لیے 1.5 ارب ڈالر کا بحری اڈہ منصوبہ: لاطینی امریکا میں خاموش اسٹریٹجک پیش قدمی

امریکا نے پیرو کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کے ایک بڑے دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دارالحکومت لیما کے قریب واقع کالاؤ نیول بیس کی بحری اور زمینی تنصیبات کو جدید بنانا ہے۔ یہ منظوری 15 جنوری کو امریکی محکمہ خارجہ نے دی، جبکہ ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا۔

یہ معاہدہ روایتی اسلحہ فروخت کے برعکس ہے، کیونکہ اس میں کسی بھی قسم کا بڑا جنگی ہتھیار یا پلیٹ فارم شامل نہیں۔ اس کے بجائے توجہ بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور طویل المدتی آپریشنل سپورٹ پر مرکوز ہے، جو امریکا کی بدلتی ہوئی دفاعی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

معاہدے میں کیا شامل ہے؟

ڈی ایس سی اے کے مطابق، پیرو نے کالاؤ نیول بیس میں بندرگاہی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جامع تعمیراتی اور انجینئرنگ خدمات کی درخواست کی تھی، جن میں شامل ہیں:

  • نیول تنصیبات کا ڈیزائن اور تعمیر
  • پروجیکٹ اور کنسٹرکشن مینجمنٹ
  • انجینئرنگ اسٹڈیز اور تکنیکی جائزے
  • انفراسٹرکچر اسسمنٹ اور منصوبہ بندی
  • لاجسٹکس اور حصولیاتی معاونت
  • طویل المدتی دیکھ بھال اور سپورٹ

ان تمام خدمات کی مجموعی مالیت 1.5 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں جنوبی امریکا میں امریکی دفاعی انفراسٹرکچر کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔

کالاؤ نیول بیس کی اسٹریٹجک اہمیت

کالاؤ نیول بیس پیرو کا سب سے اہم بحری اڈہ ہے، جو بحرالکاہل میں پیرو کی بحری سرگرمیوں، جہازوں کی مرمت، لاجسٹکس اور سمندری سلامتی کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

یہ اڈہ درج ذیل اہم ذمہ داریاں نبھاتا ہے:

  • سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ
  • منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام
  • غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف کارروائیاں
  • قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیاں
یہ بھی پڑھیں  پراسرار ڈرونز : حکومت عوام سے سچ چھپا رہی ہے، 80 فیصد امریکی عوام کی رائے

امریکی حکام کے مطابق، اس منصوبے سے نیول بیس کے اندر شہری اور عسکری سرگرمیوں کا ٹکراؤ کم ہوگا، جس سے آپریشنل سکیورٹی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

بغیر فوجی اڈے کے مستقل امریکی موجودگی

معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 20 تک امریکی سرکاری یا کنٹریکٹر اہلکار دس سال تک پیرو میں تعینات رہ سکتے ہیں تاکہ منصوبے کی نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ حکمتِ عملی امریکا کی اس پالیسی کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت مستقل فوجی اڈے قائم کیے بغیر، تکنیکی اور لاجسٹک شراکت کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا جاتا ہے۔

علاقائی اور عالمی تناظر

اگرچہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے خطے میں عسکری توازن متاثر نہیں ہوگا، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدام لاطینی امریکا کے بحرالکاہلی ساحل پر امریکا کی اسٹریٹجک موجودگی کو مضبوط بناتا ہے۔

یہ علاقہ اس وقت خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ:

  • چین کی بندرگاہی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے
  • غیر قانونی ماہی گیری کے واقعات بڑھ رہے ہیں
  • سمندری اسمگلنگ اور منشیات کی ترسیل کے راستے پھیل رہے ہیں

پیرو کی بحری لاجسٹکس کو مضبوط بنا کر امریکا نہ صرف ایک اتحادی ملک کی صلاحیت بڑھا رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر بیرونی اثر و رسوخ کا توازن بھی قائم کر رہا ہے۔

ہتھیار نہیں، مگر اسٹریٹجک اثر

اس معاہدے میں بڑے ہتھیار شامل نہ ہونا اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ انفراسٹرکچر پر مبنی دفاعی معاہدے امریکا کو طویل المدتی اسٹریٹجک اثر دیتے ہیں، جبکہ اسلحہ کی دوڑ یا سیاسی تنازعات سے بھی بچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  امارات کے تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کے لیے لاک ہیڈ مارٹن کو 142.6 ملین ڈالر کا نیا کنٹریکٹ مل گیا

ڈی ایس سی اے کے مطابق پیرو کو ان خدمات کو اپنی مسلح افواج میں شامل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا، کیونکہ یہ موجودہ ڈھانچے کے مطابق ہیں۔

ابھی تک کسی بڑے امریکی کنٹریکٹر کا نام سامنے نہیں آیا، اور اس کا انتخاب بعد میں مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔

پیرو کے لیے فوائد

پیرو کے لیے یہ منصوبہ بحری صلاحیت میں اضافہ، آپریشنل تیاری میں بہتری اور اخراجات میں طویل المدتی کمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ سب کچھ بغیر کسی بڑے اسلحہ معاہدے کے کیا جا رہا ہے، جو داخلی سیاسی لحاظ سے بھی نسبتاً کم حساس ہے۔

ساتھ ہی، یہ معاہدہ پیرو کو خطے میں امریکا کا ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر بھی بناتا ہے۔

نتیجہ

کالاؤ نیول بیس کی جدیدکاری کا یہ 1.5 ارب ڈالر کا منصوبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ امریکا کس طرح خاموشی سے مگر مؤثر انداز میں علاقائی سکیورٹی ماحول کو تشکیل دے رہا ہے۔

یہ نہ تو اسلحہ کی نمائش ہے اور نہ ہی کھلی عسکری توسیع، بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے، جو آنے والے برسوں میں لاطینی امریکا میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین