امریکہ گرین لینڈ کے ساتھ کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن (COFA) طرز کے ایک معاہدے پر غور کر رہا ہے، جو آرکٹک خطے کی سیاست، نیٹو اتحاد اور ڈنمارک کی خودمختاری کے لیے بڑے سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔ دی اکانومسٹ اور یورپی میڈیا کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک کے تحت واشنگٹن، گرین لینڈ کو مالی امداد اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری فراہم کرے گا، جبکہ بدلے میں دفاع اور خارجہ امور کی ذمہ داری سنبھال لے گا، تاہم داخلی خود اختیاری برقرار رہے گی۔
یہ ماڈل امریکہ کے ان معاہدوں سے مشابہ ہے جو اس نے مائکرونیشیا، مارشل آئی لینڈز اور پالاؤ کے ساتھ کر رکھے ہیں، جہاں امریکی فوج کو وسیع رسائی حاصل ہے اور دیگر طاقتوں—خصوصاً چین—کے لیے دروازے بند رکھے جاتے ہیں۔

ڈنمارک کو نظرانداز کرنے کی حکمتِ عملی
اہم بات یہ ہے کہ یہ تجویز براہِ راست گرین لینڈ کی حکومت کو پیش کی جا سکتی ہے، جس سے کوپن ہیگن کو بائی پاس کرنے کا تاثر ملتا ہے۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور جس کی آبادی تقریباً 57 ہزار (اکثریت انوئٹ) پر مشتمل ہے، 2009 سے اندرونی معاملات میں خودمختاری رکھتا ہے، مگر دفاع اور خارجہ پالیسی کے لیے ڈنمارک پر انحصار کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوفا طرز کا معاہدہ طے پا گیا تو یہ عملی طور پر اسٹریٹجک خودمختاری کی منتقلی ہوگی، جس سے امریکہ کو وسائل کے معاہدوں—مثلاً نایاب دھاتوں (ریئر ارتھ) کی کان کنی—پر ویٹو پاور مل سکتی ہے۔
آرکٹک اہمیت اور امریکی موجودگی
امریکہ پہلے ہی پٹوفک اسپیس بیس (سابق تھول ایئر بیس) میں مضبوط فوجی موجودگی رکھتا ہے، جو 1951 کے دفاعی معاہدے کے تحت ممکن ہے۔ یہ اڈہ میزائل وارننگ، خلائی نگرانی اور آرکٹک راستوں پر نظر رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ کوفا معاہدہ اس موجودگی کو مزید گہرا کر دے گا۔
آرکٹک کی اہمیت برف کے پگھلنے کے ساتھ تیزی سے بڑھی ہے، جس سے نئے سمندری راستے کھل رہے ہیں۔ نارتھ ویسٹ پاسج عالمی شپنگ وقت کو 40 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرین لینڈ میں دنیا کے 10 سے 20 فیصد نایاب معدنی ذخائر موجود ہونے کا اندازہ ہے، جو ٹیکنالوجی اور گرین انرجی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ٹرمپ کی نئی پیش قدمی
امریکی صدر Donald Trump نے 2019 میں گرین لینڈ خریدنے کی تجویز دی تھی، جسے ڈنمارک نے “مضحکہ خیز” قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ تاہم 2025–26 میں ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ اٹھایا ہے۔
ان کے قریبی مشیر Stephen Miller نے ڈنمارک کے کردار کو “نوآبادیاتی” قرار دیا، اگرچہ فوجی مداخلت کے امکانات کو ماہرین غیر عملی سمجھتے ہیں—کیونکہ گرین لینڈ کا 80 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہے اور یہ ڈنمارک کے ذریعے نیٹو کے دائرے میں آتا ہے۔
یورپ اور نیٹو کی تشویش
ڈنمارک کی وزیر اعظم Mette Frederiksen نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی فوجی اقدام نیٹو کے خاتمے کے مترادف ہوگا اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ٹرانس اٹلانٹک سیکیورٹی ڈھانچے کو توڑ دے گا۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم نے بھی ٹرمپ کے خیالات کو مسترد کر دیا ہے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم Donald Tusk سمیت کئی یورپی رہنماؤں نے ڈنمارک سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ امریکہ کے خلاف نیٹو آرٹیکل 5 کا نفاذ ایک غیر معمولی قدم ہوگا، جو اتحاد کو شدید بحران سے دوچار کر سکتا ہے۔

عوامی رائے اور معاشی دباؤ
2023 کے ایک سروے کے مطابق 74 فیصد گرین لینڈرز امریکی الحاق کے خلاف ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی مراعات رائے عامہ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ گرین لینڈ کی جی ڈی پی تقریباً 3 ارب ڈالر ہے اور ڈنمارک سالانہ 600 ملین ڈالر کی سبسڈی دیتا ہے، جس سے اس کی معیشت بیرونی دباؤ کے لیے حساس بنتی ہے۔
ٹائم لائن اور سیاسی اشارے
پولیٹیکو کے مطابق امریکہ آنے والے مہینوں میں گرین لینڈ پر فیصلہ کن اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اور 4 جولائی 2026 جیسے علامتی سنگِ میل زیرِ بحث ہیں۔ یورپی میڈیا میں 20 دن کے ممکنہ ٹائم فریم کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جن سے نیٹو دارالحکومتوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ
ماہرین کے نزدیک یہ کسی فوری قبضے کے بجائے دوہری حکمتِ عملی ہے: ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان اختلافات کو بڑھانا، اور ساتھ ہی نوک (Nuuk) کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنا۔ اگر کوفا طرز کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ آرکٹک حکمرانی میں دہائیوں بعد سب سے بڑی تبدیلی ہوگی—جو طاقت کے توازن، نیٹو کی یکجہتی اور خودمختاری کے تصور کو ازسرِنو متعین کرے گی۔




