امریکا کی جانب سے وینزویلا کے تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن پر کنٹرول نے ایسے خام تیل کے کارگو کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو اس سے قبل چین کو دیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نیا مالی اور سفارتی تنازع کھڑا ہو سکتا ہے، جو وینزویلا کے لیے ڈیفالٹ سے نکلنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
اندازوں کے مطابق وینزویلا کے 150 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں میں سے تقریباً 10 فیصد چین کے قرضوں پر مشتمل ہے، جن کی ادائیگی تیل کی کھیپوں کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اس انتظام میں اس وقت خلل پڑا جب امریکا نے رواں ماہ وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
قرض سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی آمدن پر چین کے دعوؤں اور امریکا کے ساتھ ممکنہ تصادم سے وینزویلا کے لیے 2017 کے ڈیفالٹ کے بعد قرضوں کی تنظیمِ نو (Debt Restructuring) مزید مشکل ہو جائے گی، جبکہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی تنظیمِ نو میں چین کے تعاون کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
نیٹکسس کے چیف اکنامسٹ اور سابق امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار کرسٹوفر ہوج نے کہا،
“بہترین حالات میں بھی یہ عمل نہایت پیچیدہ ہونا تھا۔ مختلف قرض دہندگان کے درمیان ترجیحی حیثیت طے کرنا پہلے ہی مشکل تھا، اب صورتحال مزید الجھ گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی مالی آمدن پر امریکی کنٹرول ایک غیر معمولی اقدام ہے۔
“یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک کی بنیادی آمدنی کے ذرائع پر اس حد تک بیرونی کنٹرول قائم ہوا ہو، جس سے مالی شفافیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔”
چین کو تیل کی ترسیل اور قرض ادائیگیاں
ریاستی آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے (PDVSA) کی دستاویزات اور ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں کم از کم تین بڑے آئل ٹینکرز وینزویلا اور چین کے درمیان تیل کی ترسیل کرتے رہے، جو 2019 میں طے پانے والے ایک عارضی معاہدے کے تحت قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ تاہم یہ کھیپیں چین کو وینزویلا کی مجموعی تیل برآمدات کا صرف ایک حصہ تھیں۔
امریکی تحقیقی ادارے ایڈ ڈیٹا (AidData) کے مطابق چین کو بھیجے گئے کچھ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بیجنگ کے کنٹرول میں موجود اکاؤنٹس میں جاتی رہی، جہاں سے قرض کی ادائیگی کی جاتی تھی، جبکہ امریکی پابندیوں اور ڈیفالٹ کے باعث دیگر قرض دہندگان کو ادائیگیاں ممکن نہیں تھیں۔
امریکی مؤقف اور نیا انتظام
ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اب وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم قطر میں قائم ایک ایسے اکاؤنٹ میں جمع ہو گی جس پر امریکا کا کنٹرول ہو گا۔ اس اقدام سے امریکی صدر کو اس بات پر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے کہ کس قرض دہندہ کو کب ادائیگی کی جائے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے تیل کی کھیپوں اور قرض ادائیگیوں سے متعلق سوالات پر کہا کہ بیجنگ اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر چکا ہے۔ 7 جنوری کو ایک نیوز بریفنگ میں چین نے وینزویلا کے تیل کی برآمدات کا رخ موڑنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “وینزویلا میں چین اور دیگر ممالک کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔”
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک ایسا تیل معاہدہ کرایا ہے جو “امریکی اور وینزویلا کے عوام کے لیے فائدہ مند ہو گا”۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کو وینزویلا کا تیل خریدنے کی اجازت ہو گی، تاہم وہ قیمتیں قبول نہیں کی جائیں گی جو ماضی میں غیر منصفانہ طور پر کم سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق چین کو کی جانے والی موجودہ فروخت نجی تجارتی لین دین ہے اور اسے قرض کی ادائیگی تصور نہیں کیا جائے گا۔
وینزویلا کی وزارتِ اطلاعات نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
قرضوں کی تنظیمِ نو کو درپیش خطرات
قرضوں کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی آمدن پر امریکی کنٹرول مستقبل میں قرض دہندگان کی ترجیحی ترتیب کو متاثر کر سکتا ہے۔
عالمی سطح کے خودمختار قرض ماہر لی بوخائٹ کے مطابق،
“ان اقدامات کا عملی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ پرانے قرض دہندگان کے دعوے پیچھے دھکیل دیے جائیں، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ امریکی صدر کو اس حوالے سے قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔”
وینزویلا کے تقریباً 60 ارب ڈالر کے بانڈز 2017 میں ڈیفالٹ ہو گئے تھے، اور ماہرین کے مطابق قرضوں کی تنظیمِ نو کے بغیر ملک عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل نہیں کر سکے گا۔
عام طور پر قرضوں کی تنظیمِ نو کے عمل میں سرکاری قرض دہندگان پہلے نقصانات پر اتفاق کرتے ہیں، جو بعد ازاں نجی سرمایہ کاروں کے لیے معیار بنتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی آمدن پر امریکا کا کنٹرول برقرار رہا تو برابر سلوک (Comparability of Treatment) کا اصول شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
اگر امریکا چین پر قرضوں میں بڑی کٹوتی قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے اور بیجنگ انکار کرتا ہے تو یہ عمل مزید سست ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وینزویلا کا معاشی بحران طویل ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق چین کا فوری قانونی دباؤ محدود ہے، تاہم وہ مستقبل میں G20 کے کامن فریم ورک کے تحت دیگر ممالک کے قرضوں کی تنظیمِ نو میں تعاون روک کر ردعمل دے سکتا ہے، جہاں اس کا کردار گزشتہ برسوں میں اہم رہا ہے۔




