بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی دفاعی بل میں افغانستان جنگ کے جامع جائزے کے لیے وار کمیشن کو مزید اختیارات

امریکہ نے اپنے تازہ دفاعی قانون میں افغانستان سے متعلق اہم شقیں شامل کرتے ہوئے افغانستان وار کمیشن کو مزید اختیارات، وسائل اور خودمختاری فراہم کر دی ہے، تاکہ امریکہ کی دو دہائیوں پر محیط افغانستان جنگ اور 2021 کے انخلا کا تفصیلی اور آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔

نئے دفاعی بل کے تحت، جو حال ہی میں US Congress سے منظور ہوا، محکمہ دفاع اور دیگر وفاقی اداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان وار کمیشن کو انتظامی معاونت، عملہ، سہولیات، فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ بغیر کسی مالی واپسی کے فراہم کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد کمیشن کے کام میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

کمیشن کو آزادانہ معاہدوں کا اختیار

دفاعی بل میں ایک اور اہم شق کے تحت افغانستان وار کمیشن کے شریک چیئرمینز کو براہِ راست معاہدے کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کمیشن ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے گا، تحقیقی مطالعات کروا سکے گا اور تکنیکی معاونت حاصل کر کے اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکے گا۔

قانون سازوں کے مطابق یہ اختیار اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ افغانستان جنگ جیسے پیچیدہ اور طویل تنازعے کا غیر جانبدارانہ اور جامع تجزیہ ممکن بنایا جا سکے۔

پس منظر: افغانستان وار کمیشن کیوں اہم ہے؟

افغانستان وار کمیشن 2021 میں امریکہ کے اچانک اور افراتفری کے شکار انخلا کے بعد قائم کیا گیا تھا، جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے۔ کمیشن کا مقصد درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے:

  • مختلف امریکی انتظامیہ کے دوران اسٹریٹجک فیصلے
  • فوجی منصوبہ بندی اور زمینی حقائق
  • انٹیلی جنس ناکامیاں اور ادارہ جاتی رابطہ
  • جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات
یہ بھی پڑھیں  کیاداعش دوبارہ منظم ہو کر کسی علاقے پر کنٹرول کرنے کے قابل ہو رہی ہے؟

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ مستقبل میں امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور تنازعات سے نکلنے کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

کیوں اب یہ اقدام کیا گیا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس کی جانب سے کمیشن کو اضافی اختیارات دینا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب افغانستان جنگ سے ادارہ جاتی اسباق سیکھنا چاہتا ہے، تاکہ آئندہ ایسی طویل اور مہنگی جنگوں سے بچا جا سکے۔

افغانستان سے متعلق یہ شقیں دفاعی بل کے ان چند حصوں میں شامل ہیں جو ماضی کی جنگ کے احتساب اور جائزے پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ زیادہ تر بل موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز پر مرکوز ہے۔

افغانستان وار کمیشن اپنی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اسے کانگریس اور امریکی صدر کو پیش کرے گا، جس کے بعد یہ رپورٹ امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے لیے ایک اہم حوالہ بن سکتی ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین