امریکہ نے اپنے تازہ دفاعی قانون میں افغانستان سے متعلق اہم شقیں شامل کرتے ہوئے افغانستان وار کمیشن کو مزید اختیارات، وسائل اور خودمختاری فراہم کر دی ہے، تاکہ امریکہ کی دو دہائیوں پر محیط افغانستان جنگ اور 2021 کے انخلا کا تفصیلی اور آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔
نئے دفاعی بل کے تحت، جو حال ہی میں US Congress سے منظور ہوا، محکمہ دفاع اور دیگر وفاقی اداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان وار کمیشن کو انتظامی معاونت، عملہ، سہولیات، فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ بغیر کسی مالی واپسی کے فراہم کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد کمیشن کے کام میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
کمیشن کو آزادانہ معاہدوں کا اختیار
دفاعی بل میں ایک اور اہم شق کے تحت افغانستان وار کمیشن کے شریک چیئرمینز کو براہِ راست معاہدے کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کمیشن ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے گا، تحقیقی مطالعات کروا سکے گا اور تکنیکی معاونت حاصل کر کے اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکے گا۔
قانون سازوں کے مطابق یہ اختیار اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ افغانستان جنگ جیسے پیچیدہ اور طویل تنازعے کا غیر جانبدارانہ اور جامع تجزیہ ممکن بنایا جا سکے۔
پس منظر: افغانستان وار کمیشن کیوں اہم ہے؟
افغانستان وار کمیشن 2021 میں امریکہ کے اچانک اور افراتفری کے شکار انخلا کے بعد قائم کیا گیا تھا، جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے۔ کمیشن کا مقصد درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے:
- مختلف امریکی انتظامیہ کے دوران اسٹریٹجک فیصلے
- فوجی منصوبہ بندی اور زمینی حقائق
- انٹیلی جنس ناکامیاں اور ادارہ جاتی رابطہ
- جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ مستقبل میں امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور تنازعات سے نکلنے کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
کیوں اب یہ اقدام کیا گیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس کی جانب سے کمیشن کو اضافی اختیارات دینا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب افغانستان جنگ سے ادارہ جاتی اسباق سیکھنا چاہتا ہے، تاکہ آئندہ ایسی طویل اور مہنگی جنگوں سے بچا جا سکے۔
افغانستان سے متعلق یہ شقیں دفاعی بل کے ان چند حصوں میں شامل ہیں جو ماضی کی جنگ کے احتساب اور جائزے پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ زیادہ تر بل موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز پر مرکوز ہے۔
افغانستان وار کمیشن اپنی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اسے کانگریس اور امریکی صدر کو پیش کرے گا، جس کے بعد یہ رپورٹ امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے لیے ایک اہم حوالہ بن سکتی ہے۔




