فروری 2026 کے وسط میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں امریکی F-16CJ وائلڈ ویزل جنگی طیاروں کو بحرِ اوقیانوس عبور کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ طیارے ساؤتھ کیرولائنا ایئر نیشنل گارڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کمان CENTCOM کے زیرِ اثر علاقوں کی جانب جا رہے ہیں۔
تصاویر میں ایک اہم بات یہ دیکھی گئی کہ ہر طیارے کے ساتھ Angry Kitten نامی جدید الیکٹرانک وارفیئر پوڈ نصب تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سسٹم دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو جام یا دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
Just noticed that all 12 SCANG Block 52 Vipers transiting LPLA were carrying Angry Kitten EA/EW pods en route to the Middle East. Fairly noteworthy for a lot of reasons. Can’t ever recall seeing EKs on jets potentially heading into ops, likely the first instance? 📸 Kurt Mendonça pic.twitter.com/JQWZlCN31A
— Abd (@blocksixtynine) February 19, 2026
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ امریکی طیاروں کی خطے میں آمد کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم مخصوص وائلڈ ویزل طیاروں کی تعیناتی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ دشمن کے فضائی دفاع کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط کر رہا ہے۔
F-16CJ وائلڈ ویزل طیارے خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے ایسے میزائل اور الیکٹرانک سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں جو ریڈار اسٹیشنز اور میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
Angry Kitten سسٹم ابتدا میں تربیتی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اب اسے عملی جنگی ماحول میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام دشمن کے ریڈار سگنلز کو پہچان کر انہیں گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے امریکی طیاروں کے لیے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کسی قسم کی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو ایسے طیارے ابتدائی مرحلے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ دشمن کے فضائی دفاع کو کمزور کیا جا سکے اور دیگر طیاروں کے لیے راستہ ہموار ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس عبور کرنے والے یہ F-16CJ طیارے ایک معمول کی پرواز سے بڑھ کر اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تعیناتی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کسی بھی صورتحال کے لیے صرف تعداد نہیں بلکہ خاص صلاحیتیں بھی تعینات کر رہا ہے۔



