پیر, 23 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکی F-16 جنگی طیارے جدید ‘Angry Kitten’ سسٹم کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

فروری 2026 کے وسط میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں امریکی F-16CJ وائلڈ ویزل جنگی طیاروں کو بحرِ اوقیانوس عبور کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ طیارے ساؤتھ کیرولائنا ایئر نیشنل گارڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کمان CENTCOM کے زیرِ اثر علاقوں کی جانب جا رہے ہیں۔

تصاویر میں ایک اہم بات یہ دیکھی گئی کہ ہر طیارے کے ساتھ Angry Kitten نامی جدید الیکٹرانک وارفیئر پوڈ نصب تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سسٹم دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو جام یا دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ امریکی طیاروں کی خطے میں آمد کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم مخصوص وائلڈ ویزل طیاروں کی تعیناتی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ دشمن کے فضائی دفاع کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط کر رہا ہے۔

F-16CJ وائلڈ ویزل طیارے خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے ایسے میزائل اور الیکٹرانک سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں جو ریڈار اسٹیشنز اور میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  قومی سلامتی کونسل نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے لیے فوج کو اختیار دے دیا

Angry Kitten سسٹم ابتدا میں تربیتی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اب اسے عملی جنگی ماحول میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام دشمن کے ریڈار سگنلز کو پہچان کر انہیں گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے امریکی طیاروں کے لیے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کسی قسم کی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو ایسے طیارے ابتدائی مرحلے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ دشمن کے فضائی دفاع کو کمزور کیا جا سکے اور دیگر طیاروں کے لیے راستہ ہموار ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس عبور کرنے والے یہ F-16CJ طیارے ایک معمول کی پرواز سے بڑھ کر اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تعیناتی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کسی بھی صورتحال کے لیے صرف تعداد نہیں بلکہ خاص صلاحیتیں بھی تعینات کر رہا ہے۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین