بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

امریکا کی ٹیرف رعایت ڈرون خریداری سے مشروط: انڈونیشیا کی اسٹریٹجک خودمختاری آزمائش میں

امریکا کی جانب سے انڈونیشیا کو برآمدی ٹیرف میں رعایت کو امریکی ساختہ سمندری نگران ڈرونز کی خریداری سے مشروط کرنا، عالمی سیاست میں تجارت کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انڈو پیسیفک خطے میں سکیورٹی، معیشت اور جغرافیائی سیاست اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں۔

انڈونیشین حکومت کی ایک خفیہ دستاویز، جس کی تاریخ 10 اکتوبر 2025 بتائی جاتی ہے، کے مطابق واشنگٹن نے انڈونیشیا کی مصنوعات پر عائد 32 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 19 فیصد کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس رعایت سے انڈونیشین برآمد کنندگان کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے، مگر اس کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ جکارتہ امریکی بغیر پائلٹ فضائی نگرانی نظام (UAVs) خریدے اور اس کا باضابطہ اعلان بھی کرے۔

یہ شرط دفاعی خریداری کو ایک خودمختار قومی فیصلے کے بجائے تجارتی سودے کا حصہ بنا دیتی ہے۔

انڈونیشیا کا محتاط ردعمل

انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع نے اس معاملے پر محتاط اور نپی تلی زبان استعمال کی ہے۔ وزارت کے انفارمیشن بیورو کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سریعت نے واضح کیا کہ تاحال امریکی ڈرونز کی خریداری پر کوئی باضابطہ بات چیت یا فیصلہ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق، دفاعی سازوسامان کی خریداری ہمیشہ قومی ضروریات، مالی صلاحیت اور حکومتی پالیسی کے مطابق کی جاتی ہے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کے مفادات کے تحت۔

یہ مؤقف صدر پربووو سبیانتو کی حکومت کے اس توازن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت انڈونیشیا فوجی ماڈرنائزیشن تو کر رہا ہے، مگر اپنی روایتی غیر جانبدار اور فعال خارجہ پالیسی سے انحراف نہیں کرنا چاہتا

یہ بھی پڑھیں  اسرائیلی حملے میں مارے گئے جنرل حسین سلامی، جنرل باقری اور علی شمخانی کون تھے؟

نارتھ نٹونا سی کی اسٹریٹجک اہمیت

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ نارتھ نٹونا سی انڈونیشیا کے خصوصی معاشی زون میں واقع ہے، مگر چین کے وسیع نو-ڈیش لائن دعوے اس سے متصادم ہیں۔ ماضی میں اس علاقے میں انڈونیشین بحری گشت اور چینی ماہی گیر جہازوں کے درمیان کئی بار کشیدگی دیکھنے میں آ چکی ہے۔

امریکی ڈرونز کی تعیناتی انڈونیشیا کی سمندری نگرانی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدام چین کے لیے ایک واضح اسٹریٹجک اشارہ بھی ہوگا، جس سے خطے میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تجارت، سکیورٹی اور دباؤ کی سیاست

امریکی مطالبات کا دائرہ صرف ڈرونز تک محدود نہیں بتایا جا رہا۔ خفیہ دستاویز کے مطابق اس میں سکیورٹی تعاون میں اضافہ، چینی ٹیکنالوجی پر پابندیاں، اور ڈیجیٹل تجارتی معاہدوں پر واشنگٹن سے مشاورت جیسی شرائط بھی شامل ہیں۔

یہ تمام نکات انڈونیشیا کی پالیسی خودمختاری پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر امریکا جنرل ایٹامکس MQ-9B سی گارڈین ڈرون کی پیشکش کر رہا ہے، جو 40 گھنٹے سے زائد پرواز، جدید سینسرز اور وسیع سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی نظام بھارت اور فلپائن بھی استعمال کر رہے ہیں۔

چین، آسیان اور علاقائی اثرات

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر انڈونیشیا نے امریکی شرائط قبول کیں تو چین کی جانب سے معاشی، سفارتی یا سمندری سطح پر ردعمل آ سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف انڈونیشیا-چین تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ آسیان کے اندر توازن بھی بگڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکہ نے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے اسلحہ کی تاریخی فروخت کی منظوری دے دی

تجزیہ کار محمد ذوالفقار رحمت کے مطابق، اس طرح کی سکیورٹی سے جڑی تجارتی شرائط قبول کرنا انڈونیشیا کی اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے اور جنوبی بحیرہ چین میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔

فیصلہ کن لمحہ

اگرچہ ٹیرف میں کمی انڈونیشیا کی 2026 کی متوقع 5.2 فیصد معاشی نمو کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، مگر MQ-9B ڈرونز کی خریداری پر اندازاً 500 ملین ڈالر سے زائد لاگت آئے گی، جس میں دیکھ بھال اور تربیت کے اخراجات شامل نہیں۔

انڈونیشیا کے پاس متبادل راستے بھی موجود ہیں، جن میں برآمدی منڈیوں میں تنوع، غیر جانبدار شراکت داروں سے تعلقات، اور متوازن دفاعی حکمتِ عملی شامل ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف انڈونیشیا کے مستقبل کے کردار کا تعین کرے گا بلکہ یہ بھی واضح کرے گا کہ آیا موجودہ عالمی نظام میں درمیانی طاقتیں واقعی اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین