بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

محکمۂ جنگ کا سینیٹر مارک کیلی کے خلاف اقدام، فوجی رینک اور پنشن میں کٹوتی کا امکان

امریکی محکمۂ جنگ (Department of War) نے سینیٹر Mark Kelly کے خلاف غیر معمولی انتظامی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں ان کے ریٹائرڈ نیوی رینک میں تنزلی اور اس کے نتیجے میں فوجی پنشن میں کمی کا امکان شامل ہے۔ محکمۂ جنگ کا الزام ہے کہ کیلی نے عوامی بیانات کے ذریعے فوجی نظم و ضبط کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں کو قانونی احکامات ماننے سے روکنے کی ترغیب دی، جو بقول حکام بغاوت آمیز (seditious) طرزِ عمل ہے۔

محکمے کے بیان کے مطابق یہ کارروائی جون تا دسمبر 2025 کے دوران کیلی کے اُن بیانات پر مبنی ہے جن میں انہوں نے بعض امریکی فوجی آپریشنز کو غیر قانونی قرار دیا اور حاضر سروس اہلکاروں کو احکامات کی تعمیل نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل یونیفارم کوڈ آف ملٹری جسٹس (UCMJ) کی آرٹیکل 133 اور 134 کی خلاف ورزی ہے—اور چونکہ کیلی بطور ریٹائرڈ افسر پنشن وصول کر رہے ہیں، اس لیے وہ تاحال فوجی قانون کے تابع ہیں۔

Image

رینک اور پنشن پر براہِ راست اثر

محکمۂ جنگ نے 10 U.S.C. § 1370(f) کے تحت ریٹائرمنٹ گریڈ ڈیٹرمنیشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگر اس عمل کے نتیجے میں کیلی کے ریٹائرڈ رینک میں تنزلی ہوتی ہے تو پنشن میں بھی اسی نسبت سے کمی واقع ہوگی۔
اس کے علاوہ سیکریٹری آف وار نے ایک باضابطہ خطِ سرزنش (Letter of Censure) بھی جاری کیا ہے، جس میں کیلی کے مبینہ “غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل” کی تفصیل درج ہے۔ یہ خط ان کی مستقل فوجی فائل کا حصہ بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں  پاک بحریہ کی غیرمتوقع توسیع پر بھارتی بحریہ کے سربراہ کو تشویش

کیلی کو کارروائی کی بنیاد سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہیں 30 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کا حق دیا گیا ہے۔ محکمۂ جنگ کے مطابق یہ عمل 45 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔

پس منظر: سویلین–ملٹری کشیدگی

یہ تنازع اس ویڈیو کے بعد شدت اختیار کر گیا جو چھ ہفتے قبل کیلی اور کانگریس کے پانچ دیگر اراکین نے جاری کی تھی۔ محکمۂ جنگ کے مطابق ویڈیو کا مقصد فوج میں نظم و ضبط اور کمان کے اصول کو کمزور کرنا تھا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ

“بطور منتخب سینیٹر، کیلی کو سیاسی آزادی حاصل ہے، مگر بطور ریٹائرڈ افسر پنشن وصول کرنے کی حیثیت سے وہ جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں۔”

محکمے نے خبردار کیا ہے کہ مزید خلاف ورزیوں کی صورت میں مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

قانونی اور سیاسی مضمرات

ماہرین کے مطابق ریٹائرڈ افسران کے خلاف UCMJ کے تحت کارروائیاں نایاب ہیں، تاہم انتظامی اقدامات—جیسے رینک میں تنزلی—قانونی طور پر ممکن اور ماضی میں نظائر رکھتی ہیں۔ اس کیس سے آزادیٔ اظہار اور فوجی نظم و ضبط کے مابین حدِ فاصل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، خصوصاً جب سابق فوجی افسران منتخب عہدوں پر فائز ہوں۔

سیاسی طور پر، یہ اقدام کانگریس اور فوج کے تعلقات، اور فعال آپریشنز پر عوامی تنقید کی حدود سے متعلق مباحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر ریٹائرمنٹ گریڈ ڈیٹرمنیشن کی کارروائی محکمۂ جنگ کے مؤقف کے مطابق آگے بڑھی تو سینیٹر کیلی کو مستقل رینک اور مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے—جو مستقبل میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے عوامی بیانات کے لیے نظیری اثر رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں  جوہری نظریے میں ترامیم کو باقاعدہ شکل دی جا رہی ہے، کریملن
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین