امریکی محکمۂ جنگ (Department of War) نے سینیٹر Mark Kelly کے خلاف غیر معمولی انتظامی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں ان کے ریٹائرڈ نیوی رینک میں تنزلی اور اس کے نتیجے میں فوجی پنشن میں کمی کا امکان شامل ہے۔ محکمۂ جنگ کا الزام ہے کہ کیلی نے عوامی بیانات کے ذریعے فوجی نظم و ضبط کو نقصان پہنچایا اور اہلکاروں کو قانونی احکامات ماننے سے روکنے کی ترغیب دی، جو بقول حکام بغاوت آمیز (seditious) طرزِ عمل ہے۔
محکمے کے بیان کے مطابق یہ کارروائی جون تا دسمبر 2025 کے دوران کیلی کے اُن بیانات پر مبنی ہے جن میں انہوں نے بعض امریکی فوجی آپریشنز کو غیر قانونی قرار دیا اور حاضر سروس اہلکاروں کو احکامات کی تعمیل نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل یونیفارم کوڈ آف ملٹری جسٹس (UCMJ) کی آرٹیکل 133 اور 134 کی خلاف ورزی ہے—اور چونکہ کیلی بطور ریٹائرڈ افسر پنشن وصول کر رہے ہیں، اس لیے وہ تاحال فوجی قانون کے تابع ہیں۔

رینک اور پنشن پر براہِ راست اثر
محکمۂ جنگ نے 10 U.S.C. § 1370(f) کے تحت ریٹائرمنٹ گریڈ ڈیٹرمنیشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگر اس عمل کے نتیجے میں کیلی کے ریٹائرڈ رینک میں تنزلی ہوتی ہے تو پنشن میں بھی اسی نسبت سے کمی واقع ہوگی۔
اس کے علاوہ سیکریٹری آف وار نے ایک باضابطہ خطِ سرزنش (Letter of Censure) بھی جاری کیا ہے، جس میں کیلی کے مبینہ “غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل” کی تفصیل درج ہے۔ یہ خط ان کی مستقل فوجی فائل کا حصہ بنے گا۔
کیلی کو کارروائی کی بنیاد سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہیں 30 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کا حق دیا گیا ہے۔ محکمۂ جنگ کے مطابق یہ عمل 45 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
پس منظر: سویلین–ملٹری کشیدگی
یہ تنازع اس ویڈیو کے بعد شدت اختیار کر گیا جو چھ ہفتے قبل کیلی اور کانگریس کے پانچ دیگر اراکین نے جاری کی تھی۔ محکمۂ جنگ کے مطابق ویڈیو کا مقصد فوج میں نظم و ضبط اور کمان کے اصول کو کمزور کرنا تھا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ
“بطور منتخب سینیٹر، کیلی کو سیاسی آزادی حاصل ہے، مگر بطور ریٹائرڈ افسر پنشن وصول کرنے کی حیثیت سے وہ جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں۔”
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ مزید خلاف ورزیوں کی صورت میں مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
قانونی اور سیاسی مضمرات
ماہرین کے مطابق ریٹائرڈ افسران کے خلاف UCMJ کے تحت کارروائیاں نایاب ہیں، تاہم انتظامی اقدامات—جیسے رینک میں تنزلی—قانونی طور پر ممکن اور ماضی میں نظائر رکھتی ہیں۔ اس کیس سے آزادیٔ اظہار اور فوجی نظم و ضبط کے مابین حدِ فاصل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، خصوصاً جب سابق فوجی افسران منتخب عہدوں پر فائز ہوں۔
سیاسی طور پر، یہ اقدام کانگریس اور فوج کے تعلقات، اور فعال آپریشنز پر عوامی تنقید کی حدود سے متعلق مباحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر ریٹائرمنٹ گریڈ ڈیٹرمنیشن کی کارروائی محکمۂ جنگ کے مؤقف کے مطابق آگے بڑھی تو سینیٹر کیلی کو مستقل رینک اور مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے—جو مستقبل میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے عوامی بیانات کے لیے نظیری اثر رکھے گا۔




