بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

جے ایف-17 برآمدات پر سوالات کیوں بے بنیاد ہیں؟ PAC کامرہ کی پیداواری صلاحیت اور PFX کا راستہ

پاکستان ایروناٹیکل کملیکس کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ بڑی برآمدات پر صلاحیت سے متعلق خدشات دراصل عالمی فائٹر جیٹ پروڈکشن کے معیارات سے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔

PAC اس وقت سالانہ 24 جے ایف-17 تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بغیر کسی بڑی انفراسٹرکچر اپ گریڈ کے۔ اگر گزشتہ برس 18 تا 20 طیارے تیار ہوئے، تو یہ کسی رکاوٹ کی علامت نہیں بلکہ پاکستان ایئر فورس کی اپنی شمولیتی رفتار، تربیت اور اسکواڈرن منتقلی کے مطابق ڈیلیوری شیڈول کا عکس ہے۔

4 سے 5 سال کی ڈیلیوری ٹائم لائن کیوں معمول ہے؟

اگر فرض کریں کہ 100 جے ایف-17 کے آرڈر ایک ساتھ مل بھی جائیں، تو چار سے پانچ سال کی ڈیلیوری ٹائم لائن عالمی سطح پر 4.5 جنریشن فائٹر کے لیے بالکل معمول کی بات ہے۔

دنیا بھر میں جدید فائٹر پروگرامز میں یہ عوامل ڈیلیوری کو مرحلہ وار بناتے ہیں:

  • پائلٹس اور گراؤنڈ کریو کی تربیت
  • ایئر بیس انفراسٹرکچر کی تیاری
  • ہتھیاروں اور ایویونکس کی انضمام کاری
  • فنانسنگ اور سنگِ میل پر مبنی معاہدے

لہٰذا یہ ٹائم لائن کمزوری نہیں بلکہ صنعتی معیار ہے۔

PAC پہلے ہی پیداواری توسیع پر کام کر رہا ہے

اہم بات یہ ہے کہ PAC کامرہ پیداواری صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ PAC ایک واحد ہال نہیں بلکہ متعدد فیکٹریوں پر مشتمل وسیع صنعتی کمپلیکس ہے، جہاں ماڈیولر انداز میں توسیع ممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نئی صلاحیت کے لیے زیرو سے تعمیر کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ اثاثوں کی اپ گریڈیشن کافی ہے۔

بلاک III تقریباً مکمل—برآمدات کے لیے گنجائش

حالیہ تصاویر میں جے ایف-17 بلاک III کے اعلیٰ سیریل نمبرز اور سروس میں موجود طیاروں کے پیچھے ان-پرائمر ایئر فریمز واضح کرتے ہیں کہ PAF کا 50 بلاک III پر مشتمل آرڈر عملی طور پر مکمل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت نے 79 ہزار کروڑ روپے کے دفاعی منصوبوں کی منظوری دے دی، ڈرونز، میزائل اور نگرانی صلاحیتوں پر زور

اس کا سیدھا مطلب:

  • قریب المدت میں بڑا گھریلو آرڈر زیرِ التوا نہیں
  • برآمدی صارفین کو گھریلو ضروریات کی وجہ سے انتظار نہیں کرنا پڑے گا
  • پروڈکشن لائنز اب برآمدات پر توجہ دے سکتی ہیں

PAF کے لیے اگلا مرحلہ: PFX پروگرام

آگے دیکھیں تو PAF کی توجہ PFX (Pakistan Fighter Experimental) پروگرام کی طرف منتقل ہو رہی ہے—اور یہ منتقلی PAC کی صنعتی منصوبہ بندی سے ہم آہنگ ہے۔

PAC کے اندر موجود Mirage Rebuild Factory (MRF) آئندہ پانچ برسوں میں اپنی افادیت کھو دے گی کیونکہ میراج بیڑا مرحلہ وار ریٹائر ہو رہا ہے۔ یہی سہولت مستقبل میں جے ایف-17 اور PFX کی پیداواری توسیع کے لیے استعمال کی جائے گی—بغیر نئی فیکٹری بنانے کے۔

یہ عارضی انتظام نہیں، سوچا سمجھا منصوبہ ہے

یہ تاثر کہ PAC برآمدی کامیابی سے دباؤ میں آ جائے گا، حقائق کے برعکس ہے:

  • PAC کو دہائیوں کا فائٹر اوورہال اور اسمبلنگ تجربہ حاصل ہے
  • پیداواری توسیع منصوبہ بند ہے، ہنگامی نہیں
  • MRF جیسی سہولیات کی ری-یوز سے لاگت کم اور رفتار تیز ہوگی
  • برآمدی ڈیلیوری کو صارفین کی تیاری کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے

مختصراً، PAC کوئی وقتی یا غیر سنجیدہ ادارہ نہیں بلکہ بالغ اور منظم ایرو اسپیس ایکو سسٹم ہے۔

جے ایف-17 برآمدی خریداروں کے لیے کیوں پرکشش ہے؟

صلاحیت کے علاوہ جے ایف-17 کی کشش ان عوامل میں ہے:

  • بلاک III میں جدید AESA ریڈار اور ایویونکس
  • کم خریداری اور لائف سائیکل لاگت
  • سیاسی شرائط کی عدم موجودگی
  • ہتھیاروں کے انتخاب میں لچک

ایسی فضائی افواج کے لیے جو قابل، مگر قابلِ برداشت قیمت والا فائٹر چاہتی ہیں، چار سے پانچ سال کی ڈیلیوری ایک اعتماد بخش حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جنگ کا خطرہ فوری ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

نتیجہ: برآمدی صلاحیت موجود بھی ہے اور بڑھ بھی رہی ہے

PAC کامرہ کی جے ایف-17 برآمدی صلاحیت پر شکوک و شبہات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
موجودہ صلاحیت، بلاک III کی تکمیل، جاری توسیع، اور PFX کی جانب منتقلی—یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی ایرو اسپیس صنعت مستحکم، منصوبہ بند اور برآمدات کے لیے تیار ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین