بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ٹرمپ گرین لینڈ کیوں چاہتے ہیں؟ آرکٹک میں بڑھتی ہوئی فوجی کشمکش کی کہانی

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ خریدنے کی بات کرتے ہیں تو یہ بیان چونکا دینے والا لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑی اسٹریٹجک حقیقت چھپی ہے۔ آرکٹک خطہ—جو کبھی دنیا سے کٹا ہوا سمجھا جاتا تھا—اب عالمی طاقتوں کے درمیان فوجی مقابلے کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ امریکی دفاع کے لیے ناگزیر ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن نئے میزائل ڈیفنس سسٹمز پر کام کر رہا ہے۔ ڈنمارک اور خودمختار علاقہ گرین لینڈ اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ کے سکیورٹی خدشات موجودہ دفاعی معاہدوں کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، آرکٹک کی فوجی اہمیت پر عالمی توجہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

روس کی آرکٹک میں برتری

آرکٹک کے کل زمینی رقبے کا تقریباً نصف حصہ روس کے کنٹرول میں ہے، جو ماسکو کو واضح جغرافیائی برتری دیتا ہے۔ 2005 کے بعد سے روس نے درجنوں سوویت دور کے فوجی اڈوں کو دوبارہ فعال اور جدید بنایا ہے۔

سب سے حساس مقام نووایا زیملیا ہے، جہاں روس اپنی جوہری تجرباتی صلاحیت کو ہائی الرٹ پر رکھتا ہے۔ گزشتہ برس یہاں سے جوہری توانائی سے چلنے والے بیوریوستنک کروز میزائل کا تجربہ بھی کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ مغرب کے لیے طاقت کا ایک واضح پیغام ہے۔

اسی طرح کولا پیننسولا روس کی جوہری ’’سیکنڈ اسٹرائیک‘‘ صلاحیت کا مرکز ہے، جبکہ یہیں روس کا ناردرن فلیٹ بھی تعینات ہے، جس کے پاس ملک کی نصف جوہری آبدوزیں موجود ہیں۔ بارنٹس سی کے ذریعے شمالی اٹلانٹک تک رسائی روس کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹرمپ نے پہلے دور میں ہر معاملے کو رئیل اسٹیٹ کیریئر کی عینک سے دیکھا، انجیلا مرکل

امریکہ، کینیڈا اور NORAD کی دفاعی چھتری

امریکہ اور کینیڈا 1957 سے NORAD کے ذریعے شمالی امریکہ کا مشترکہ دفاع کر رہے ہیں۔ اب اس نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت کینیڈا آرکٹک میں جدید ریڈار سسٹمز نصب کر رہا ہے، جن کی ابتدائی صلاحیت 2028 تک متوقع ہے۔

صدر ٹرمپ ایک نئے میزائل ڈیفنس منصوبے “گولڈن ڈوم” کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ اس کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ پہلے ہی شمالی گرین لینڈ میں پٹوفک اسپیس بیس چلا رہا ہے اور الاسکا میں اس کے تقریباً 22 ہزار فوجی تعینات ہیں۔

کینیڈا کے پاس بھی پانچ آرکٹک فوجی اڈے ہیں، جن میں الرٹ نمایاں ہے—جو دنیا کی سب سے شمالی مستقل انسانی آبادی ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کی محدود مگر اہم موجودگی

ڈنمارک کا جوائنٹ آرکٹک کمانڈ (JAC) گرین لینڈ کے دارالحکومت نووک میں قائم ہے، جس میں تقریباً 150 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہیں۔ یہ کمانڈ گرین لینڈ کے وسیع علاقے میں نگرانی اور سکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔

اسی کمانڈ کے تحت مشہور سیریئس ڈاگ سلیڈ پیٹرول کام کرتی ہے، جو شمال مشرقی گرین لینڈ کے سخت موسمی حالات میں طویل فاصلے کی نگرانی کرتی ہے—اگرچہ ٹرمپ ماضی میں اس یونٹ کا مذاق بھی اڑا چکے ہیں۔

ناروے، سویڈن اور فن لینڈ: نیٹو کی شمالی دیوار

نیٹو میں شمولیت کے بعد سویڈن اور فن لینڈ نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو تیزی سے نیٹو کے ساتھ ہم آہنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ سویڈن کے شمال میں فضائی اور زمینی اڈے موجود ہیں، جبکہ فن لینڈ آرکٹک سرکل کے قریب اہم فوجی تنصیبات چلا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کے پاس کون سے میزائل ہیں؟

ناروے نیٹو کی آرکٹک نگرانی کا مرکزی ملک ہے اور شمالی اٹلانٹک کے ایک وسیع سمندری علاقے کی نگرانی کرتا ہے۔ یہاں F-35 لڑاکا طیاروں کے اڈے، بحری تنصیبات اور نیٹو کمک کے لیے خصوصی مراکز قائم ہیں۔

آئس لینڈ: فوج کے بغیر مگر اسٹریٹجک اہمیت

اگرچہ آئس لینڈ کی اپنی فوج نہیں، مگر اس کی جغرافیائی حیثیت اسے بے حد اہم بناتی ہے۔ امریکی بحریہ کے P-8A Poseidon طیارے یہاں تعینات رہتے ہیں اور نیٹو کے جنگی طیارے باقاعدگی سے آئس لینڈ کی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے آتے ہیں۔

گرین لینڈ اب کیوں زیادہ اہم ہو گیا ہے؟

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آرکٹک میں نئے سمندری راستے کھل رہے ہیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں گرین لینڈ میزائل ڈیفنس، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ٹرانس اٹلانٹک سکیورٹی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔

ٹرمپ کا گرین لینڈ خریدنے کا خواب شاید حقیقت نہ بن سکے، مگر اس نے دنیا کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ آرکٹک اب عالمی سیاست کا خاموش مگر فیصلہ کن میدان بن چکا ہے۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین