اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خطرات ہمیشہ انسانوں کو متحد کرنے کا وسیلہ بنتے رہے لیکن ہماری قومی زندگی میں پہلی بار پاک بھارت کشیدگی کے دوران قوم کے سواد اعظم کی قومی امور سے لاتعلقی کئی ناقابل بیان خطرات کی نشاندہی کر گئی ۔ اگرچہ طاقت کے نشہ میں سرشار ارباب بست و کشاد انسانوں کے اجتماعی رویوں پہ غور کرنے کو تیار نہیں لیکن ان غیر معمولی تغیرات کی وجوہات کو سمجھنا نہایت ضروری ہو گا کیونکہ عام انسانوں کا حیات اجتماعی کی بقاء کے تقاضوں سے نالاں ہونا دراصل جینے کی امید ٹوٹ جانے کی کفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ جب ریاست پہ چند طاقتور افراد کا قبضہ ہو ، تمام اثر و رسوخ ، سارے عہدے اور دولت ان لوگوں پہ مرکوز ہوں ، جنہوں نے ہمیں خطرات ، شکست ، تادیبی کاروائیوں اور افلاس سے دوچار کر رکھا ہو اور مملکت کے شہریوں کے پاس اپنی سانسوں کے سوا کچھ باقی نہ بچا ہو تو ایسے میں ان کے لئے بہترین راہ عمل یہی ہو گی کہ وہ اپنی بدحال اور بے توقیر زندگیوں کو بالادست طبقات کی تفریح طبع کی خاطر ضائع کرنے کی بجائے دلیرانہ انداز میں موت کو گلے لگا لیں۔
اِس وقت ریاست کا سیاسی نظام پراگندہ ، قوم خلفشار میں مبتلا اور قیادت تعطل کا شکار ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی ، ریاستی اداروں کی ایک دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت اور آئینی اصولوں کی کھلم کھلا پامالی کھیل بن چکی ، انتخابی عمل پر اعتماد کا فقدان احتجاجی دھرنوں اور سیاسی انتشار کو بڑھانے کا سبب بن گیا ہے۔ اِسی غیر معمولی سیاسی زوال نے ہمارے نمو پاتے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لیکر ہم سے ساری اخلاقی فضلیتیں چھین لیں، جس کے نتیجہ میں وسیع پیمانہ کا اخلاقی و تہذیبی زوال ، اقتصادی بحران اور نسلی بنیادوں پر فزون تر ہوتی کشیدگی ہمارے لئے تشدد کو گورا بنا گئی.
یہ بجا کہ مشکلات ، مصائب، آزمائشیں اور جنگیں کٹھن مراحل ہونے کے باوجود نہ صرف افراد کے لئے بلکہ اقوام کو بھی بقاء کے تقاضوں سے سرشار کرکے ان کی سیرت و کردار کو جِلا بخشنے کے علاوہ انہیں وحدت و یگانگت جیسی فضیلتیں عطا کرتی ہیں لیکن ایسا تب ہوتا ہے جب کسی قوم کی لیڈرشپ اور مقتدر طبقات بھی عام لوگوں کے ساتھ ملکر مشکلات اور مصائب کا یکساں طور پہ سامنا کریں ۔ بیشک ، اس طرح آزمائشیں قوموں کی سیرت و کردار کی تعمیر میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں لیکن اگر دکھوں ، مصائب اور قربانیوں کا سارا بوجھ عام لوگوں کے کندھوں پہ لاد کر اعلی طبقات اپنی مراعات و اختیارات کو سرنڈر کرنے پہ تیار نہ ہوں تو پھر مشکل کی گھڑیوں میں اجتماعی حیات کا انجام مختلف ہو گا۔
بظاہر یہی لگتا ہے کہ بحثیت قوم ہم پچھلے 45 سالوں سے جس قسم کی جنگوں ، شورشوں اور بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے ہمیں مربوط قوم بنانے کی بجائے پراگندہ خیالی اور دل و دماغ کی تقسیم میں مبتلا کر دیا ، انہی جنگی عوامل نے مملکت کے انتظامی ڈھانچے کو مضمحل ، سیاسی اور معاشی نظام کو برباد ، عوام کو بدحال اور ایک مخصوص طبقہ کو بتدریج خوشحال بنایا چنانچہ یہاں ہمیں مصائب کی تہہ میں خودی ، غیرت ، قومی شناخت کا احساس اور اجتماعی بقاء کے شعور کے چشمے بہتے نظر نہیں آتے بلکہ ایک قسم کا استحصالی بندوبست ہمارے اذہان کو اپنے محاصرہ میں لیتا دکھائی دیتا ہے۔
لاریب ، قوموں کی تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں آزمائشوں نے انہیں بکھیرنے کے بجائے سمیٹ کر ان کی اندرونی قوتوں کو جگایا اور اجتماعی زندگی کو تازگی اور درخشندگی عطا کی تھی ۔ امریکہ نے 1861 کی سول وار کے بعد تیزی کے ساتھ قومی وحدت کا شعور ، سائنسی و معاشی ترقی اور ریاستی نظم و ضبط حاصل کیا اور کم و بیش 80 سال بعد دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی قیادت کے فیصلہ کن کردار نے انہیں اقوام عالم میں سپر پاور بننے کا اعزاز فراہم کیا اور آخرکار بائیں بازو کے کیمونسٹ بلاک کے خلاف سرد جنگ جیت کر 1988 میں واشنگٹن دنیا کے افق پر واحد سپر پاور بن کر طلوع ہوا۔
جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کی تعمیر نو ، جاپان کا ایٹمی حملے کے بعد دوبارہ اٹھنا اور چین کی حیرت انگیز ترقی ایسے نمایاں واقعات ہیں جن سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ شدید آزمائشیں نہ صرف اقوام کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ انہیں عالمی منظرنامہ پر نیا کردار عطا کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ مصیبتیں اور تکلیفیں انسانی فطرت کے لئے ناگوار ہوتی ہیں لیکن بقاء سے جڑی آزمائشیں قوموں کے لیے اپنے اندر چھپی مخفی قوتوں کو پہچاننے کا خوبصورت موقع بنتی ہیں۔
انسانی تہذیب کے ارتقاء کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ معاشرتی سطح پر مشکلات اور خوف انسانوں کو باہم قریب لایا ۔ خاص کر قدرتی آفات، جیسے زلزلے، سیلاب یا وبائی امراض جو وسیع پیمانے پہ تباہی پھیلاتی رہیں ، انسانی معاشروں کے اندر باہمی ہمدردی، ایثار اور قربانی کے جذبات کو بیدار کرکے انہیں جڑے رہنے کا شعور عطا کرتی تھیں۔
ماضی قریب میں 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے تباہ کن سیلاب کی مثالیں لے لیجئے ، پوری قوم نے یکساں جذبہ کے ساتھ متاثرین کی مدد کرکے اجڑی ہوئی بستیوں کو دوبارہ آباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، انہی ناقابل بیان مصائب کے دوران پاکستانیوں جیسے لسانی ، علاقائی اور مذہبی تعصبات میں منقسم معاشرے نے فرقوں، زبان ، نسل اور علاقائی امتیازات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کی مدد کرکے مثالی قومی اتحاد کا مظاہر کیا۔
عقلمندوں نے کہا ہے کہ آزمائشیں قوموں کے لئے آئینہ ہوتی ہیں ، وہ بتاتی ہیں کہ ان کے اندر کتنا صبر ، عزم ، حوصلہ اور قربانی کا مادہ موجود ہے چنانچہ بھارت کے ساتھ تازہ کشمکش کے دوران ہمیں اس آئینہ میں اوپر بیان کردہ فضیلتوں کی بجائے بے یقینی اور مایوسی کی عمیق تاریکی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہماری مصبت زدہ نسل باہمی اعتماد کے فقدان اور قیادت کے بحران کا شکار ہے ، ہم سب دلدل میں پھنس چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمیں اس دلدل سے کون نکالے گا ؟ بحرانوں کا مقابلہ فوجیں نہیں بلکہ الوالعزم قیادتیں کیا کرتی ہیں حتی کہ جنگیں بھی فوجیں نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں اور وہی قومیں جنگ لڑنے کے قابل ہوتی ہیں جنہیں قابل بھروسہ قیادت میسر ہو ۔ ہمارا حال دیکھئے کہ ہماری مقبول قومی لیڈرشپ پس منظر میں ڈوب چکی ہے ، نواز شریف و آصف زرداری خاموش اور زخم خوردہ عمران خان جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہے ہیں ۔