جمعہ, 27 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اسرائیل کے قریب کیوں تعینات؟ ایران کشیدگی میں امریکی “تلوار اور ڈھال” حکمتِ عملی

امریکا کا جدید ترین اور سب سے مہنگا طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford اسرائیل کے ساحل کے قریب تعینات کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسے ایران کے قریب خلیج یا بحیرۂ عرب میں رکھنے کے بجائے اسرائیل کے قریب کیوں لایا گیا؟

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام محض عسکری تعیناتی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اسٹریٹجک پیغام ہے۔

دو طیارہ بردار جہاز، دو مختلف مشن

Image

اس وقت امریکی بحریہ کے دو بڑے کیریئر خطے میں موجود ہیں:

  • USS Abraham Lincoln ایران کے قریب تعینات ہے اور اسے ممکنہ فضائی حملوں کے لیے تیار سمجھا جا رہا ہے۔
  • یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اسرائیل کے قریب موجود ہے، جہاں اس کا کردار دفاعی “ڈھال” کا بتایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار اسے “تلوار اور ڈھال” کی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں — ایک جہاز حملے کے لیے، دوسرا دفاع کے لیے۔

اسرائیل کے قریب تعیناتی کی اہمیت

Image

جیرالڈ آر فورڈ کے اسٹرائیک گروپ میں جدید Aegis میزائل دفاعی نظام شامل ہے، جو بیلسٹک اور کروز میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر ایران کسی امریکی حملے کے جواب میں اسرائیل کے شہروں — جیسے تل ابیب یا حیفہ — کو نشانہ بناتا ہے تو:

  • ایرانی میزائل اسی فضائی حدود سے گزریں گے جہاں امریکی کیریئر موجود ہے۔
  • امریکی دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کی کوشش کرے گا۔
  • ایران کی جوابی کارروائی براہِ راست امریکی بحری اثاثوں سے ٹکرا سکتی ہے۔

اس طرح ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملہ دراصل امریکی افواج کے ساتھ ممکنہ تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایرانی ڈرون swarms: خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

کشیدگی روکنے کی کوشش یا اسے یقینی بنانے کا طریقہ؟

کچھ ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی ایران کو باز رکھنے کے لیے ہے تاکہ وہ حملے سے پہلے کئی بار سوچے۔

دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوابی حملہ کرتا ہے تو امریکی بحریہ پہلے سے ہی اس دائرے میں موجود ہوگی، جس سے تنازعہ فوری طور پر وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کے ممکنہ مقاصد:

  • اسرائیل کو فوری دفاعی تحفظ دینا
  • ایران کو سخت پیغام دینا
  • امریکی اتحادیوں کو یقین دلانا کہ واشنگٹن مکمل حمایت کرے گا
  • کسی بھی ممکنہ جوابی حملے کو براہِ راست امریکی مفاد سے جوڑ دینا

خطے پر ممکنہ اثرات

اس تعیناتی کے کئی ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں:

  1. امریکا–اسرائیل دفاعی ہم آہنگی میں اضافہ
  2. ایران کے لیے جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھ جانا
  3. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا نیا مرحلہ
  4. فوجی توازن میں تبدیلی اور نئی حکمتِ عملیوں کی ضرورت

یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکا خطے میں بیک وقت حملہ آور اور دفاعی پوزیشن دونوں اختیار کر رہا ہے۔

تاریخی تناظر

دو کیریئرز کی بیک وقت تعیناتی ماضی میں بھی دیکھی گئی ہے، مگر اس انداز میں ایک کو واضح طور پر حملہ اور دوسرے کو دفاع کے لیے الگ کرنا کم دیکھنے میں آیا ہے۔ جدید میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون جنگ کے دور میں یہ حکمتِ عملی مزید حساس ہو جاتی ہے۔

نتیجہ

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی اسرائیل کے قریب تعیناتی محض معمول کی عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں  نیتن یاہو–ٹرمپ ملاقات سے قبل غزہ کی سرحد بدلنے پر غور، اسرائیلی رپورٹ

یہ قدم ایران کے ممکنہ ردعمل کو پیچیدہ بناتا ہے اور امریکا–اسرائیل دفاعی تعلقات کو عملی سطح پر مزید مضبوط کرتا ہے۔

آیا یہ حکمتِ عملی کشیدگی کو کم کرے گی یا اسے بڑھا دے گی، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے فیصلوں پر ہوگا۔

آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین