بھارت نے زوجیلا پاس کے نیچے تقریباً 9 کلومیٹر طویل زوجیلا ٹنل تعمیر کی ہے، جس کا مقصد کشمیر اور لداخ کے درمیان سڑک کو سال بھر قابلِ استعمال رکھنا ہے۔
اگرچہ اسے بنیادی طور پر سول انفراسٹرکچر منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر پاکستان کے لیے اس کے سکیورٹی اور لاجسٹک مضمرات قابلِ توجہ ہیں—خاص طور پر لائن آف کنٹرول (LoC) کے قریب حساس علاقوں کے تناظر میں۔

کیا بدلا ہے—اور کیا نہیں
کیا بدلا ہے؟
- موسمی رکاوٹ میں کمی: کشمیر اور لداخ کے درمیان زمینی آمدورفت اب سردیوں میں مکمل بند نہیں ہوگی۔
- لاجسٹکس میں تسلسل: ایندھن، خوراک اور معمول کی فوجی روٹیشن زیادہ پیش گوئی کے ساتھ ممکن ہو گی۔
کیا نہیں بدلا؟
- جغرافیائی حدود برقرار: بلند پہاڑ، تنگ راستے اور موسم اب بھی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت محدود رکھتے ہیں۔
- اسٹریٹیجک توازن وہی: ایک ٹنل بذاتِ خود طاقت کے توازن یا تنازع کی نوعیت نہیں بدلتی۔
پاکستان کا سکیورٹی نقطۂ نظر
پاکستانی زاویے سے زوجیلا ٹنل کی اہمیت انقلابی نہیں بلکہ تدریجی ہے۔
1) مغربی سیکٹر میں لاجسٹکس
ٹنل کے باعث بھارت کو سردیوں میں زمینی سپلائی میں تسلسل ملتا ہے، خاص طور پر کرگل سے جڑے علاقوں کی طرف۔
- ہوائی سپلائی پر انحصار کم ہو سکتا ہے
- معمول کی نقل و حرکت زیادہ باقاعدہ ہو جاتی ہے
تاہم یہ سہولت اچانک بڑے حملے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتی۔
2) نگرانی اور پیشگی آگاہی
سال بھر کی باقاعدہ آمدورفت:
- روٹین پیٹرنز پیدا کرتی ہے
- جن کی نگرانی نسبتاً آسان ہوتی ہے
یوں یہ راستہ سرگرمی کو چھپانے کے بجائے زیادہ قابلِ مشاہدہ بنا سکتا ہے۔

3) بحران میں رفتار کی حد
کسی بحران میں تیز رفتار نقل و حرکت صرف ایک راستے سے ممکن نہیں ہوتی۔
- متعدد راستے
- اسٹیجنگ ایریاز
- موسمی کھڑکیاں
اب بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ ایک ٹنل تمام رکاوٹیں ختم نہیں کرتی۔
LoC پر استحکام اور رسک مینجمنٹ
ماضی میں سردیوں کی بندش نے غیر ارادی ٹکراؤ کے امکانات کم رکھے۔
سال بھر آمدورفت:
- روزمرہ سرگرمی میں اضافہ کر سکتی ہے
- غلط فہمی یا حادثاتی کشیدگی کے امکانات بڑھا سکتی ہے
اس تناظر میں پاکستان کے لیے:
- رابطہ کاری کے طریقۂ کار
- کشیدگی کم کرنے کے اقدامات
کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
چین فیکٹر: بالواسطہ اثر
اگرچہ لداخ کا تعلق بھارت–چین کشیدگی سے بھی ہے، مگر زوجیلا ٹنل:
- بنیادی طور پر مغربی محور سے متعلق ہے
- مشرقی لداخ پر اس کا اثر بالواسطہ ہے
لہٰذا پاکستان کے لیے سیکٹر وائز تجزیہ زیادہ مناسب رہے گا۔
مجموعی جائزہ
- عملی اثر: سردیوں میں بھارتی لاجسٹکس زیادہ مستحکم
- اسٹریٹیجک اثر: محدود اور تدریجی
- رسک پروفائل: قابلِ انتظام، بشرطیکہ نگرانی اور رابطہ برقرار رہے
مختصراً، یہ ٹنل موسم سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کم کرتی ہے، مگر اسٹریٹیجک نقشہ میں تبدیلی نہیں کرتی۔
نتیجہ
پاکستانی سکیورٹی نقطۂ نظر سے زوجیلا ٹنل بھارت کے لیے ایک لاجسٹک بہتری ہے، کوئی گیم چینجر نہیں۔ یہ بھارت کو سال بھر سپلائی میں سہولت دیتی ہے، مگر طاقت کے توازن، ڈیٹرنس یا تنازع کی بنیادی حرکیات جوں کی توں رہتی ہیں۔
دانشمندانہ ردِعمل متوازن تجزیہ، مسلسل نگرانی اور رابطے میں ہے—نہ کہ ضرورت سے زیادہ تشویش میں۔




