بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

پاکستان اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہان کی ملاقات، تربیت، ریڈار اور جے ایف-17 پر اہم پیش رفت

پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائی افواج کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ حسن محمود خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقات ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی، جس میں آپریشنل تعاون، ادارہ جاتی ہم آہنگی، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی میں اشتراک پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گارڈ آف آنر اور تربیتی تعاون

بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ کو پاکستان آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان ایئر فورس کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، بنگلہ دیش ایئر فورس کو بنیادی سے لے کر اعلیٰ سطح کی فلائنگ ٹریننگ اور مختلف خصوصی کورسز کے ذریعے بھرپور معاونت فراہم کرے گا۔

انہوں نے سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی تیز رفتار فراہمی اور اس کے ساتھ مکمل تربیتی، دیکھ بھال اور طویل المدتی سپورٹ نظام فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

ریڈار سسٹمز اور جے ایف-17 پر تبادلہ خیال

Image

بنگلہ دیش کے ایئر چیف نے پاکستان ایئر فورس کے جنگی تجربے اور آپریشنل صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ بنگلہ دیش ایئر فورس اپنی پرانے بیڑے کی دیکھ بھال اور ایئر ڈیفنس ریڈار سسٹمز کے انضمام کے لیے پاکستان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، تاکہ فضائی نگرانی اور الرٹ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں  صومالیہ پاکستان سے 24 جے ایف-17 بلاک تھری لڑاکا طیارے خریدنے کے قریب

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، جسے دفاعی ماہرین بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر آپشن قرار دے رہے ہیں۔

اہم فضائی تنصیبات کا دورہ

بنگلہ دیشی وفد نے پاکستان ایئر فورس کی اہم تنصیبات کا دورہ بھی کیا، جن میں نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پی اے ایف سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک شامل ہیں۔ وفد کو انٹیلی جنس، نگرانی، سائبر، خلائی، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ سسٹمز میں پاکستان کی صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔

تزویراتی اہمیت

یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دفاعی تعاون کو ایک طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تربیت، ریڈار تعاون اور ممکنہ لڑاکا طیاروں کی فراہمی بنگلہ دیش ایئر فورس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

انجم ندیم
انجم ندیم
انجم ندیم صحافت کے شعبے میں پندرہ سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ملک کے مین سٹریم چینلز میں بطور رپورٹر کیا اور پھر بیورو چیف اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر جیسے اہم صحافتی عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اخبارات اور ویب سائٹس پر ادارتی اور سیاسی ڈائریاں بھی لکھتے ہیں۔ انجم ندیم نے سیاست اور جرائم سمیت ہر قسم کے موضوعات پر معیاری خبریں نشر اور شائع کرکے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ ان کی خبر کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انجم ندیم نے ملک کے جنگ زدہ علاقوں میں بھی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے امریکہ سے سٹریٹیجک اور گلوبل کمیونیکیشن پر فیلو شپ کی ہے۔ انجم ندیم کو پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔ انجم ندیم ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی ہیں۔ صحافتی گھرانے سے تعلق رکھنے والے انجم ندیم قانون کو بھی پیشے کے طور پر کرتے ہیں تاہم وہ صحافت کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، اقلیتوں کے مسائل، سیاست اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین