مئی 2025 میں واشنگٹن میں U.S. Foreign Agents Registration Act (FARA) کے تحت جمع کرائی گئی ایک لابنگ دستاویز میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے اپنا مجوزہ فریم ورک پیش کیا ہے۔
یہ مواد امریکی قانون کے تحت Squire Patton Boggs نے حکومتِ Pakistan کی نمائندگی میں جمع کرایا، جسے امریکی محکمۂ انصاف کی FARA رجسٹریشن یونٹ نے 15 مئی 2025 کو وصول کیا ۔
امریکی حکام سے براہِ راست رابطہ
دستاویز میں شامل ای میل کے مطابق فرم نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے FARA کے تحت رجسٹرڈ ایجنٹ ہے۔
اس رابطے میں ایک صفحے پر مشتمل نوٹ “A Renewed Pakistan–United States Relationship” پر رائے طلب کی گئی اور Financial Action Task Force (FATF) پر بات چیت کی درخواست بھی کی گئی ۔
سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی
دستاویز کے مطابق پاکستان نے امریکہ کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مزید بڑھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس میں درج ہے کہ پاکستان نے Abbey Gate ISIS حملے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا، جس کا ذکر امریکی صدر نے مارچ 2025 میں کانگریس سے خطاب میں کیا ۔
اسی حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان:
- داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مزید تعاون کے لیے تیار ہے
- افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی ہتھیاروں اور سازوسامان کی بازیابی میں مدد کے لیے تیار ہے جو پاکستان میں عدم استحکام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں
- پاکستانی طالبان (TTP) کے خلاف زیادہ امریکی تعاون چاہتا ہے، جنہیں 2025 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا
تجارت اور سرمایہ کاری
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان:
- امریکی زرعی اور توانائی مصنوعات کی خرید بڑھانے کو تیار ہے
- امریکی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر آمادہ ہے
- بڑی امریکی سرمایہ کاری کے لیے Special Investment Facilitation Council (SIFC) کے ذریعے فاسٹ ٹریک سہولت دینے کو تیار ہے
دستاویز کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشیا کی تجارت میں پاکستان کا سرپلس 3 ارب ڈالر سے کم ہے اور اسے تیزی سے متوازن کیا جا سکتا ہے ۔
اہم معدنیات (Critical Minerals)
فائلنگ میں پاکستان نے تانبے، لیتھیم، کوبالٹ، نکل اور ریئر ارتھ عناصر کے وسیع ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ Critical Minerals معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جسے دونوں ممالک کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے فائدہ مند قرار دیا گیا ہے ۔
مالیاتی نظام میں اصلاحات
دستاویز کے مطابق پاکستان:
- اپنی نقدی پر مبنی معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کا خواہاں ہے
- امریکی فِن ٹیک اور براڈبینڈ کمپنیوں کے لیے مواقع فراہم کرنا چاہتا ہے
- ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر کام کر رہا ہے
اس میں اپریل 2025 میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے واشنگٹن دورے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔
جیوپولیٹیکل مؤقف
فائلنگ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اپنی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے، نہ کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کے تابع۔
دستاویز میں چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، افغانستان سے متعلق خدشات، اور ایران سے منسلک دہشت گرد عناصر کے خلاف اقدامات کا بھی ذکر شامل ہے ۔




