بدھ, 11 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

واشنگٹن میں 2025 کی FARA فائلنگ: پاکستان نے امریکہ کو کیا پیشکش کی؟

مئی 2025 میں واشنگٹن میں U.S. Foreign Agents Registration Act (FARA) کے تحت جمع کرائی گئی ایک لابنگ دستاویز میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے اپنا مجوزہ فریم ورک پیش کیا ہے۔

یہ مواد امریکی قانون کے تحت Squire Patton Boggs نے حکومتِ Pakistan کی نمائندگی میں جمع کرایا، جسے امریکی محکمۂ انصاف کی FARA رجسٹریشن یونٹ نے 15 مئی 2025 کو وصول کیا ۔

امریکی حکام سے براہِ راست رابطہ

دستاویز میں شامل ای میل کے مطابق فرم نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے FARA کے تحت رجسٹرڈ ایجنٹ ہے۔
اس رابطے میں ایک صفحے پر مشتمل نوٹ “A Renewed Pakistan–United States Relationship” پر رائے طلب کی گئی اور Financial Action Task Force (FATF) پر بات چیت کی درخواست بھی کی گئی ۔

سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی

دستاویز کے مطابق پاکستان نے امریکہ کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مزید بڑھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس میں درج ہے کہ پاکستان نے Abbey Gate ISIS حملے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا، جس کا ذکر امریکی صدر نے مارچ 2025 میں کانگریس سے خطاب میں کیا ۔

اسی حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان:

  • داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مزید تعاون کے لیے تیار ہے
  • افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی ہتھیاروں اور سازوسامان کی بازیابی میں مدد کے لیے تیار ہے جو پاکستان میں عدم استحکام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں
  • پاکستانی طالبان (TTP) کے خلاف زیادہ امریکی تعاون چاہتا ہے، جنہیں 2025 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا
یہ بھی پڑھیں  اسحاق ڈار کے ڈھاکہ کے تاریخی دورے کے ذریعے پاکستان کی سارک بحالی کی کوشش، نئی علاقائی پیشرفت کا اشارہ

تجارت اور سرمایہ کاری

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان:

  • امریکی زرعی اور توانائی مصنوعات کی خرید بڑھانے کو تیار ہے
  • امریکی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر آمادہ ہے
  • بڑی امریکی سرمایہ کاری کے لیے Special Investment Facilitation Council (SIFC) کے ذریعے فاسٹ ٹریک سہولت دینے کو تیار ہے

دستاویز کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشیا کی تجارت میں پاکستان کا سرپلس 3 ارب ڈالر سے کم ہے اور اسے تیزی سے متوازن کیا جا سکتا ہے ۔

اہم معدنیات (Critical Minerals)

فائلنگ میں پاکستان نے تانبے، لیتھیم، کوبالٹ، نکل اور ریئر ارتھ عناصر کے وسیع ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ Critical Minerals معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جسے دونوں ممالک کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے فائدہ مند قرار دیا گیا ہے ۔

مالیاتی نظام میں اصلاحات

دستاویز کے مطابق پاکستان:

  • اپنی نقدی پر مبنی معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کا خواہاں ہے
  • امریکی فِن ٹیک اور براڈبینڈ کمپنیوں کے لیے مواقع فراہم کرنا چاہتا ہے
  • ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر کام کر رہا ہے

اس میں اپریل 2025 میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے واشنگٹن دورے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔

جیوپولیٹیکل مؤقف

فائلنگ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اپنی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے، نہ کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کے تابع۔
دستاویز میں چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، افغانستان سے متعلق خدشات، اور ایران سے منسلک دہشت گرد عناصر کے خلاف اقدامات کا بھی ذکر شامل ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ایران کا بحران اور چین کی خاموشی : 25 سالہ سٹرٹیجک شرکت داری معاہدہ کام نہ آیا
آصف شاہد
آصف شاہدhttps://urdu.defencetalks.com
آصف شاہد صحافت کا پچیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ ڈیفنس ٹاکس کے ایڈیٹر ہیں ۔انہوں نے اپنی صلاحیتوں ، وسیع صحافتی تجربے اور مطالعہ سے ڈیفنس ٹاکس کو دفاع، سلامتی اور سفارت کاری سے متعلق ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے ۔ جس کے سنجیدہ اردو قارئین ایک مدت سے منتظر تھے ۔ آصف شاہد یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے متعدد قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ انہوں نے خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور قارئین کو اعلیٰ معیار کے مواد کی فراہمی پر روایت ساز ایڈیٹر ضیا شاہد سے داد پائی۔ انہوں نے میڈیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظر نامے میں موافقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پرنٹ میڈیا کے بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو منتخب کیا ۔ڈان ٹی وی پر لکھے گئے ان کے فکر انگیز کالم حوالے کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کالموں نے ریٹینگ میں بھی نمایاں درجہ حاصل کیا۔وہ تاریخ ، ادب اور کئی زبانوں کا علم رکھتے ہیں ۔وہ قارئین کو خطے کی سیاست ، سلامتی اور سماجی پیش رفت کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں باریک بینی اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں ۔مذہب کے مطالعہ کی وجہ سے مذہبی تحریکوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں اور یہ ان کے لیے قارئین کو عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے درست پس منظر میں پیش کرنے کے لیے مدد گار ہے ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین