پیر, 9 فروری, 2026

تازہ ترین

متعلقہ تحریریں

ایران کا بحران اور چین کی خاموشی : 25 سالہ سٹرٹیجک شرکت داری معاہدہ کام نہ آیا

ایران میں جاری عوامی احتجاج اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے درمیان تہران کو اس حقیقت کا سامنا ہے کہ اس کا قریبی شراکت دار چین عملی طور پر محدود مدد تک ہی خود کو رکھے ہوئے ہے۔ The Wall Street Journal کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے نہ تو واضح سیاسی حمایت فراہم کی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بڑا معاشی پیکیج دیا ہے جو ایران کے موجودہ بحران کو کم کر سکے۔

ایران کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ افراطِ زر مسلسل بلند سطح پر ہے، ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور بے روزگاری، خاص طور پر نوجوانوں میں، عوامی غصے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ انہی معاشی عوامل کے باعث مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں، جو حکومت کے لیے ایک سنجیدہ اندرونی چیلنج بن چکے ہیں۔

2021 میں ایران اور چین کے درمیان طے پانے والے 25 سالہ اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کو تہران نے ایک بڑے معاشی بریک تھرو کے طور پر پیش کیا تھا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ تھا کہ اس معاہدے کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری آئے گی۔ تاہم عملی طور پر یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اور بیشتر منصوبے یا تو سست روی کا شکار ہیں یا محدود پیمانے پر ہی آگے بڑھے ہیں۔

چین کی محتاط پالیسی کے پیچھے اس کے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کارفرما ہیں۔ بیجنگ امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ کھلے عام اور بڑے پیمانے پر تعاون چینی کمپنیوں کو امریکی ثانوی پابندیوں کی زد میں لا سکتا ہے، اسی لیے چین نے ایران سے تیل کی درآمد جیسے معاملات کو بھی نسبتاً غیر نمایاں اور محتاط طریقے سے جاری رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کا آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان: علاقائی غلبہ کی طرف جرات مندانہ پیشقدمی

اہم بات یہ ہے کہ ایران اور چین کا تعلق کسی باضابطہ دفاعی اتحاد پر مبنی نہیں بلکہ مفادات پر قائم ایک عملی شراکت داری ہے۔ چین کو سستے ایرانی تیل اور خطے میں محدود اسٹریٹجک اثر و رسوخ سے فائدہ ضرور ملتا ہے، لیکن وہ ایران کی معیشت کو سہارا دینے یا داخلی بحران کے وقت کھل کر حمایت کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

ایران کے لیے یہ صورتحال اس کے “مشرق کی طرف جھکاؤ” (Look East) کی پالیسی کی حدود کو نمایاں کرتی ہے۔ مغربی پابندیوں کے مقابلے میں چین پر انحصار کرنے کی حکمتِ عملی اب تک معاشی استحکام فراہم نہیں کر سکی۔ چین کی محتاط دوری کے باعث تہران پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے معاشی اور سماجی مسائل کا حل بڑی حد تک اندرونی سطح پر ہی تلاش کرے۔

سعدیہ آصف
سعدیہ آصفhttps://urdu.defencetalks.com/author/sadia-asif/
سعدیہ آصف ایک باصلاحیت پاکستانی استاد، کالم نگار اور مصنفہ ہیں جو اردو ادب سے گہرا جنون رکھتی ہیں۔ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل سعدیہ نے اپنا کیریئر اس بھرپور ادبی روایت کے مطالعہ، تدریس اور فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ 2007 سے تعلیم میں کیریئر کے آغاز کے ساتھ انہوں نے ادب کے بارے میں گہرا فہم پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی ان کے فکر انگیز کالموں اور بصیرت انگیز تحریروں میں ہوتی ہے۔ پڑھنے اور لکھنے کا شوق ان کے کام سے عیاں ہے، جہاں وہ قارئین کو ثقافتی، سماجی اور ادبی نقطہ نظر کا امتزاج پیش کرتی ہے، جس سے وہ اردو ادبی برادری میں ایک قابل قدر آواز بن گئی ہیں ۔

جواب دیں

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

مقبول ترین